سانولی
سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہے مسکراتی ہوئی شاموں کا سلونا جادو رقص کرتی ہے ترے حسن کی رعنائی میں وادیٔ نجد کے جھونکوں کی لجیلی خوشبو یہ ترے دوش پہ بل کھا کے بکھرتی زلفیں جیسے معبد میں سلگتے ہوئے صندل کا دھواں جیسے مغموم مصور کے سیہ پوش خیال جیسے موہوم جزیروں کی چھبیلی ...