شاعری

سانولی

سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہے مسکراتی ہوئی شاموں کا سلونا جادو رقص کرتی ہے ترے حسن کی رعنائی میں وادیٔ نجد کے جھونکوں کی لجیلی خوشبو یہ ترے دوش پہ بل کھا کے بکھرتی زلفیں جیسے معبد میں سلگتے ہوئے صندل کا دھواں جیسے مغموم مصور کے سیہ پوش خیال جیسے موہوم جزیروں کی چھبیلی ...

مزید پڑھیے

لمحوں کی پرستار

میں نے چاہا تھا اسے روح کی راحت کے لیے آج وہ جان کا آزار بنی بیٹھی ہے میری آنکھوں نے جسے پھول سے نازک سمجھا اب وہ چلتی ہوئی تلوار بنی بیٹھی ہے ہم سفر بن کے جسے ناز تھا ہم راہی پر رہزنوں کی وہ طرفدار بنی بیٹھی ہے کسی افسانے کا کردار بنی بیٹھی ہے اس کی معصومیت دل پہ بھروسہ تھا ...

مزید پڑھیے

زندگی یا طوائف

مطمئن کوئی نہیں ہے اس سے کوئی برہم ہے تو خائف کوئی نہیں کرتی یہ کسی سے بھی وفا زندگی ہے کہ طوائف کوئی

مزید پڑھیے

انوکھی تصویر

کہا ماسٹر جی نے منے سے اک دن کرو کام پورا جو ہم نے کہا ہے بنا لاؤ تصویر اس نام کی تم کہ بھینسا چراگاہ میں چر رہا ہے نہ گزرے تھے اس بات کو دو منٹ بھی کہ منے نے تصویر تیار کر دی وہ تصویر کیا تھی فقط سادہ کاغذ نہ تھی جس پہ سرخی نہ سبزی نہ زردی جو پوچھا گیا بھئی کہاں ہے چراگاہ تو فرمایا ...

مزید پڑھیے

جشن آزادی

مینہ برستا ہے تو دھرتی کی نظر جھومتی ہے پھول کھلتے ہیں تو گلشن پہ نکھار آتا ہے لیکن اے جشن بہاراں کے نئے منتظمو خود فریبی سے کہیں دل کو قرار آتا ہے تم اگر جشن بہاراں بھی کہو گے اس کو موت کے گھاٹ یہ دھوکہ بھی اتر جائے گا باد صرصر کو اگر تم نے کہا موج نسیم اس سے موسم میں کوئی فرق ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

دل کا دریا چڑھ جائے تو آنکھوں پر بند باندھنا مشکل ہو جاتا ہے اک لمحہ اک صدی بنے تو کہنے والی بات ادھوری رہ جاتی ہے یہ موسم یہ وصال کا موسم پتی پتی ہو جاتا ہے ہونے اور نہ ہونے کا احساس بھی مٹنے لگتا ہے دل کا دریا چڑھ جائے تو آنکھوں پر بند باندھنا مشکل ہو جاتا ہے

مزید پڑھیے

دروازہ کھلا رکھنا

کس قدر خموشی ہے کس قدر ہے سناٹا رات بھر کی بارش بھی اب تھکی تھکی سی ہے آسماں پہ رنگوں کی ایک رہ گزر سی ہے اب کسی کے آنے میں کچھ ہی دیر باقی ہے

مزید پڑھیے

ہم دور جاہلیت کے شاعر

ہر نظم دنیا کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے ہر پیدا ہونے والی بچی کی طرح مگر ہم اپنی زندگی دور جاہلیت میں جی رہے ہیں جو سمجھ نہیں آتیں ان نظموں کو زندہ درگور کر دیتے ہیں اور ہمیں وہ پیغمبر بھی نہیں ملتا کہ جس کے سامنے اپنے گناہ کا اعتراف کریں اور اس کی داڑھی بھگو دیں کل ایک نظم ...

مزید پڑھیے

تم نے خودکشی کیوں کی

میں خودکشی نہ کرتا تو مر جاتا میں نے بچوں کی آنکھوں میں خواہشیں بلکتی دیکھیں تو آنگن میں سیبوں کے بونسائی درخت لگا دئے جب بچے بڑے ہوئے اور انہوں نے سیب توڑنا چاہے سیبوں کے درخت کھجوروں کے درخت بن گئے بچوں کے ہاتھ دعاؤں کی طرح اٹھے رہے گئے میں نے کھجور کے تنے کو بانہوں میں لے ...

مزید پڑھیے

بچوں کے لیے خصوصی نظم

خواب خرگوش توڑ دینا ہے تم کو پڑھنا ہے خوب پڑھنا ہے میں تمہیں تتلیوں سے بہلاؤں یا پتنگیں اڑا کے پھسلاؤں اور کیرم کی گوٹیوں کے ساتھ وقت برباد کرنا سکھلاؤں ایک ہی کام کر گزرنا ہے تم کو پڑھنا ہے خوب پڑھنا ہے نانی دادی سے لوریاں بھی سن کون کہتا ہے تجھ سے موتی چن اتنا نادان ہو گیا ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 307 سے 960