شاعری

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں جو میں نے تجھ سے بچھڑ کے لکھیں انہیں کوئی چھاپتا نہیں ہے میں جب بھی تیرے فراق کا نوحہ لکھ کے لاؤں سخن شناسوں کو میرا طرز عمل نہ بھائے تری محبت کا درد ہو جس غزل میں شامل کسی کو ایسی غزل نہ بھائے جواب آئے کہ جانے والوں کو یاد کرنے سے کوئی بھی فائدہ نہیں ...

مزید پڑھیے

سترھواں سنگار

توڑ کے گھنگھرو چھوڑ کے محفل چپ کا برن کیوں پہنا ہے پیٹ پہ کھجلی منہ پر دانے واہ تیرا کیا کہنا ہے کیوں شرمائے کیوں گھبرائے یہ دکھ ہنس کر سہنا ہے پیاری بیٹا یہی مرض تو اس پیشہ کا گہنہ ہے

مزید پڑھیے

ایک نظم

اے کسی گلشن زریں کی گراں قدر کلی اپنی اجڑی ہوئی مہکار چھپا لے مجھ سے اے کسی بستر کم خواب کی بے رنگ شکن اپنا روندا ہوا کردار چھپا لے مجھ سے اے کسی جنت زر فام سے آنے والی اپنا ٹوٹا ہوا پندار چھپا لے مجھ سے تو نے اک بار کہا تھا مجھے تنہائی میں پیار دولت کا پرستار نہیں ہو سکتا زندگی ...

مزید پڑھیے

آج کی باتیں کل کے سپنے

جب بھی تنہا مجھے پاتے ہیں گزرتے لمحے تیری تصویر سی راہوں میں بچھا جاتے ہیں میں کہ راہوں میں بھٹکتا ہی چلا جاتا ہوں مجھ کو خود میری نگاہوں سے چھپا جاتے ہیں میرے بے چین خیالوں پہ ابھرنے والی اپنے خوابوں سے نہ بہلا میری تنہائی کو جب تری سانس مری سانس میں تحلیل نہیں کیا کریں گی مری ...

مزید پڑھیے

رہ گزر

پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چاپ پھر وہی سہمی ہوئی سمٹی ہوئی سرگوشیاں پھر وہی بہکی ہوئی مہکی ہوئی سی آہٹیں پھر وہی گاتی سی لہراتی سی کچھ مدہوشیاں زندگی طوفان تھی سیلاب تھی بھونچال تھی وقت پھر بھی کروٹوں پر کروٹیں لیتا رہا قافلے اس راہ پر آتے رہے جاتے رہے راہ بر سب کو ...

مزید پڑھیے

فرار کی پہلی رات

نوجوان کون ہے تو آیا ہے کس نگری سے نام کیا ہے ترا کیا کام ہے آخر مجھ سے میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مناسب نہیں آنا تیرا تو نے کس زعم میں اس وقت پکارا ہے مجھے تو نے کیا سوچ کے دستک دی ہے آج کی شب مرے سوئے ہوئے دروازے پر نوجواں کون ہے تو نوجواں جو بھی ہے تو فیصلہ سوچ سمجھ کر یہ کیا ہے میں ...

مزید پڑھیے

آج اور کل

جب چھلکتے ہیں زر و سیم کے گاتے ہوئے جام ایک زہراب سا ماحول میں گھل جاتا ہے کانپ اٹھتا ہے تہی دست جوانوں کا غرور حسن جب ریشم و کمخواب میں تل جاتا ہے میں نے دیکھا ہے کہ افلاس کے صحراؤں میں قافلے عظمت احساس کے رک جاتے ہیں بے کسی گرم نگاہوں کو جھلس دیتی ہے دل کسی شعلۂ زرتاب سے پھک ...

مزید پڑھیے

دیواریں

ڈوبے ہوئے گلاب میں وہ جسم کے خطوط جب یاد آئے ہیں آنکھوں میں کتنے رنگ محل جگمگائے ہیں جب یاد آئے ہیں وہ جسم کے خطوط وہ جسم کے خطوط کی اک دل نشیں پکار چاہت کی راہ میں ہم نے سنی تھی جو کبھی پہلی نگاہ میں چاہت کی راہ میں اک دل نشیں پکار اس دل نشیں پکار کا انجام دل گداز کیسے بھلائیں ...

مزید پڑھیے

چکلے

رات گئے تک گھایل نغمے کرتے ہیں اعلان یہاں یہ دنیا ہے سنگ دلوں کی کوئی نہیں انسان یہاں عزت والوں کی ذلت کا سب سے بڑا بازار ہے یہ چکتے ہیں غیرت کے سودے بکتے ہیں ایمان یہاں بھیک میں بھی مانگو تو کوئی پیار نہ ڈالے جھولی میں بن مانگے مل جاتے ہیں رسوائی کے سامان یہاں زر داروں کو نغموں ...

مزید پڑھیے

میری طرح

اے مرے دشمن جاں میں تجھے اور تو کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن کاش تقدیر کبھی تجھ کو دکھائے وہ دن جب مہذب سی طوائف کوئی اپنے پیشہ کی مذمت کر کے تجھ سے اظہار محبت کر کے تیرے اعصاب پہ نشے کی طرح چھا جائے اور تجھے اس کی محبت کا یقیں آ جائے اے مرے دشمن جاں

مزید پڑھیے
صفحہ 306 سے 960