آخری ڈائری
پندرہ روز علالت کے، ایسے گزرے جن میں باہم رابطہ نہ تھا پھیل گیا اک تنہا دن تب دوسرے تنہا دن سے ملا دھیرے دھیرے اینٹ پہ اینٹ جمی میرے چاروں طرف دیوار بنی پندرہ روز کے بعد کہیں یہ زنداں ٹوٹا واپس لوٹا اپنی دنیا میں سب کچھ ویسے ہی پڑا ہے جیسے چھوڑ گیا تھا میز اسی طرح ترچھی رکھی ...