شاعری

آخری ڈائری

پندرہ روز علالت کے، ایسے گزرے جن میں باہم رابطہ نہ تھا پھیل گیا اک تنہا دن تب دوسرے تنہا دن سے ملا دھیرے دھیرے اینٹ پہ اینٹ جمی میرے چاروں طرف دیوار بنی پندرہ روز کے بعد کہیں یہ زنداں ٹوٹا واپس لوٹا اپنی دنیا میں سب کچھ ویسے ہی پڑا ہے جیسے چھوڑ گیا تھا میز اسی طرح ترچھی رکھی ...

مزید پڑھیے

دیکھتے دیکھتے

چیونٹیاں کتنی روندی گئیں آخری سانس تک پلٹ کر جھپٹنے کی امید میں سر اٹھاتی رہیں کتنا بے مدعا حوصلہ دیکھتے دیکھتے مٹ گیا رینگتی چیونٹیاں جلد کو چیر کر خون میں مل گئیں میرے اعصاب میں بجلیاں گھل گئیں اب میں کوئی اور ہوں ایک گھائل درندہ زخم ہی زخم ہیں چاہے اپنے ہوں یا دوسروں کے زخم ...

مزید پڑھیے

کوئی کچھ نہیں؟

خیر کوئی ربط ہی نہیں وقت کی طویل ڈور نے بے ارادہ ایک کر دیا صبح و شام گھوم گھوم کر زمیں گرفت اور سخت اور سخت کر گئی جانے آج کیوں وہی دھاگے میری شاہ رگ میں دور تک دھنسے ہوئے وہ سرا ہی میں نے کھو دیا جس سے لوگ الجھے سلجھے تانے بانے کھول کر یوں الگ نکل گئے جیسے وقت کچھ نہیں وہ سارے ...

مزید پڑھیے

آج کے بعد

آج کے بعد اگر جینا ہے آج کا سب کچھ تج دینا ہے ایک جھلک میں ایک جھپک میں زخمی چھلنی اس پیکر کو اپنے لہو کی آگ میں جل جانے دو گل جانے دو ارمانوں سے باہر آؤ اپنے آپ سے آگے بڑھ جاؤ سیماؤں سے پار اتر کر دیکھو کیسی کھلی فضا ہے ہر شے میں جیسے آنے والی دنیاؤں کا بیج چھپا ہے بیجوں سے پیڑ ...

مزید پڑھیے

تم اگر رکتے

ریل گزری دندناتی چیخ برماتی اک ہمکتا مسکراتا پھول تھامے ہاتھ کی ہلکی سی جنبش (سلام آخری) چاقوؤں کی دھار پیشانی میں دھنس کر رہ گئی روز و شب معمول کے سب سائبانوں میں دراڑیں پڑ گئیں پھن اٹھائے پٹریوں کے ناگ بل کھانے لگے سرخ انگارے بجھے سبز زہری جھنڈیاں لہرا گئیں کھولتا جلتا لہو ...

مزید پڑھیے

نئی نسل

عمر اس گپھا میں رینگ آئی ہے جہاں کوئی خار کوئی کنکری نہیں سوندھی سوندھی گیلی گیلی باس ہے خدا کی نرم نرم چھاؤں ہے موت کی مٹھاس ہے خدا کی نرم نرم چھاؤں ہے ہزار بار لڑ چکا ہوں ایک ایک خواب کے لیے ہمارے درمیاں جنگ ہو چکی ہے آج جب مرے لیے صلح کی گھڑی ہے پھر کشاکش حیات کا نیا سبب کھڑا نہ ...

مزید پڑھیے

بے ضمیری

زمیں گھومی ہوا بدلی چلو موسم بدلتا ہے سلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ وہ دیکھو چیونٹیوں کے پر نکل آئے کیسے اڑتی پھر رہی ہیں آج شان بے نیازی سے کہ جیسے مطمئن ہیں مکڑیوں کی سرفرازی سے سلیمؔ اب تم پہاڑوں سے اتر آؤ تمہاری دور کی آواز کیسے گونج بن کر پلٹ آئی ہے جیسے بستیوں کے سبھی گھر ...

مزید پڑھیے

یاد

نرم ریشم کی طرح بنی خامشی جا بہ جا پھر مسکنے لگی جسم کے آشیانوں سے طائر اڑے گرم تازہ لہو میں نہا کر پروں کو جھٹکنے لگے دیر تک رنگ اڑتا رہا

مزید پڑھیے

یوں ہی سہی

چلو یوں ہی سہی تم سب دریچے بند کر دو وہ ہوائیں روک دو جو خلا سینے کا بھرنے کے لیے آتی ہیں سانسیں تمہاری ساتھ لاتی ہیں تو ''لو'' ایسے سمے میری رگوں میں خون کے بدلے وہ پانی ہے جو ارماں سادھ لینے والے پیڑوں کا مقدر ہے مرے طوفان کی موجیں کسی برفیلے چوٹی کی وہ تحریریں ہیں جن کو اب فقط ...

مزید پڑھیے

دردمندی

دیکھتے دیکھتے چیونٹیاں کتنی روندی گئیں آخری سانس تک پلٹ کر جھپٹنے کی امید میں سر اٹھاتی رہیں دیکھتے دیکھتے میرے اعصاب میں بجلیاں گھل گئیں رینگتی چیونٹیاں جلد کو چیر کر خون میں مل گئیں اب میں کوئی اور ہوں ایک گھائل درندہ کہ جس کے لیے زخم ہی زخم ہیں (چاہے اپنے ہوں یا دوسروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 308 سے 960