ایک نظم
رات کے خوابوں کا اک طرفہ سماں ہوتا ہے صبح کے گونجتے آوازے سے چونک اٹھتا ہوں سانس لیتا ہوں بہر کیف گماں ہوتا ہے انگلیاں پھیرتا ہوں اپنے بدن پر اب تو کارواں ہوش کا یادوں کا رواں ہوتا ہے یہ نیا دن ہے مگر وقت کہاں ٹھہرا ہے سامنے کھونٹی سے لٹکا ہے مرا گرم لباس جس پہ خود ساختہ پابندیوں ...