محبت اور ہوس

محبت اور ہوس
گھر کے بدریا آئی کالی
خوش خوش تھا دھرتی کا والی
سوچ رہا تھا اب برسے گی
اور برس کر پہنچائے گی
ہجر آنکھوں کو ہریالی


میری بگیا میں برسی تھی
کالی گہری بوجھل بدلی
کونپل کونپل پتہ پتہ
پھوٹ رہا تھا خوب ہی تھا


ساری دھرتی جاگ رہی تھی
میں خوش تھا ہو بالک جیسے
چھوڑ کے بارش کے ریلے میں
ننھی سی کاغذ کی کشتی


لیکن دیکھا اک ڈالی پر
مردہ طائر ایک پڑا ہے
اڑتا تھا آکاش میں پہلے
اس کو بجلی کے کوندے نے
یا پھر بارش کی بوندوں نے
کوسوں نیچے پھینک دیا تھا