شاعری

ادھر کی آواز اس طرف ہے

اجاڑ سی دھوپ آدھی ساعت کہ نا مکمل علامتیں داغ داغ آنکھیں یہ ٹیلہ ٹیلہ اترتی بھیڑیں کہاں ہے جو ان کے ساتھ ہوتا تھا اک فرشتہ کٹی پھٹی زرد شام سے کون بڑھ کے پوچھے کہ ایک اک برگ آگہی کا ہوا کے پیلے لرزتے ہاتھوں سے گر رہا ہے تمام موسم بکھر رہا ہے کہ دھیمے دھیمے سے آتی شب کا یہ آبی ...

مزید پڑھیے

معمول

ایک بڑھیا شب گئے دہلیز پر بیٹھی ہوئی تک رہی ہے اپنے اکلوتے جواں بچے کی راہ سو چکا سارا محلہ اور گلی کے موڑ پر بجھ چکا ہے لیمپ بھی سرد تاریکی کھڑی ہے جیسے دیوار مہیب بوڑھی ماں کے جسم کے اندر مگر جگمگاتی ہیں ہزاروں مشعلیں آنے والا لاکھ بے ہوشی کی حالت میں ہو لیکن راستہ گھر کا کبھی ...

مزید پڑھیے

نہ قائل ہوتے ہیں نہ زائل

بنجر چہرے جن پر نہ بارش کی پہلی بوند کا اظہار اگتا ہے نہ آتے جاتے لمحوں کا کوئی اقرار انکار نہ اطمینان نہ ڈر آنکھیں جن میں کوئی نگاہ پلکوں سے نہیں الجھتی باقی حواس بھی خوشبو اور خوشبو کی شہرت سے آواز اور آواز کی قوت سے یکسر عاری ہیں کون ہیں یہ لوگ کس موج فضولیت کی زد میں آ گئے ...

مزید پڑھیے

آخری بس

آخری بس تیرتی سی جا رہی ہے شب کی فرش مرمریں پر شبنم آگیں دھند کی نیلی گپھا میں بس کے اندر ہر کوئی بیٹھا ہے اپنا سر جھکائے خستگی دن کی چبائے کیا ہوئی اک دوسرے سے بات کرنے کی وہ راحت وہ مسرت آج دنیا آخری بس کی طرح محو سفر ہے سب مسافر قرب کے احساس سے نا آشنا بیٹھے ہوئے ہیں اب کسی کو ...

مزید پڑھیے

عورت کتا اور پڑوس

اک حسیں سی عورت اپنے نرم چہرے کو مضطرب سا رکھتی ہے جس کے فقرے فقرے میں گونجتی ہے جھلاہٹ اپنے گھر کے آنگن میں جب ٹہلنے آتی ہے دور سے اگر کوئی دیکھ لے ذرا اس کو یا کوئی گزر جائے اس کے گھر کے آگے سے ناک بھوں چڑھاتی ہے اور بڑبڑاتی ہے لیکن اپنے کتے کو پیار سے بلاتی ہے اور لگا کے چھاتی ...

مزید پڑھیے

ہر جادۂ شہر

شہر کی اک اک سڑک پھانکتی آئی ہے لاکھوں حادثوں کی سرد دھول جانے کتنے اجنبی اک دوسرے کے دوست بننے سے کنارہ کر گئے اور کتنے آشناؤں کے دلوں سے مٹ گئی پہچان بھی سو نگاہیں لاکھ زخم چار سمتی لاکھ جھوٹ سو تماشوں کے پڑے ہیں جا بجا دھبے جنہیں گرد مسافت میں چھپانے کے لیے برق پا لمحوں کو ...

مزید پڑھیے

نفی سارے حسابوں کی

لپکتا سرخ امکاں جو مجھے آئندہ کی دہلیز پر لا کر کھڑا کرنے کی خواہش میں مچلتا ہے مرے ہاتھوں کو چھو کر مجھ سے کہتا ہے تمہاری انگلیوں میں خون کم کیوں ہے تمہارے ناخنوں میں زردیاں کس نے سجائی ہیں کلائی سے نکلتی ہڈیوں پر اون کم کیوں ہے میں اس سے ناتواں سی اک صدا میں پوچھتا ہوں اس سے ...

مزید پڑھیے

حرف غیر

میرے احباب میں اک شاعر کم نام بھی ہے ذہن ہے جس کا عجب راحت گاہ حادثے ایک زمانے کے جہاں آ کے سکوں پاتے ہیں جب چمک اٹھتے ہیں کچھ حادثے اظہار کی پیشانی پر وہ سمٹتا سا چلا جاتا ہے یعنی ہر نظم اسے اور بھی بیگانہ بنا دیتی ہے شب نئی نظم لیے بیٹھا تھا احباب کے بیچ اور سب ہمہ تن گوش اسے سنتے ...

مزید پڑھیے

تعاقب

رات شور رہتا ہے مختلف کتابوں میں انگنت حوالوں سے جاگتے سوالوں کا بوجھ دل پہ رہتا ہے ڈایری کے سینے سے زندگی کے پوشیدہ راز راز سطروں کا رات شور کرتی ہے دیکھ دیکھ کر چہرہ ذہن کے دریچے سے جھانکتے سوالوں کا

مزید پڑھیے

وہ چپ رہنے کو کہتے ہیں جو ہم فریاد کرتے ہیں

الٰہی خیر وہ ہر دم نئی بیداد کرتے ہیں ہمیں تہمت لگاتے ہیں جو ہم فریاد کرتے ہیں کبھی آزاد کرتے ہیں کبھی بیداد کرتے ہیں مگر اس پر بھی ہم سو جی سے ان کو یاد کرتے ہیں اسیران قفس سے کاش یہ صیاد کہہ دیتا رہو آزاد ہو کر ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں رہا کرتا ہے اہل غم کو کیا کیا انتظار اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 282 سے 960