شاعری

اداس موسم کے رتجگوں میں

اداس موسم کے رتجگوں میں ہر ایک لمحہ بکھر گیا تھا ہر ایک رستہ بدل گیا تھا پھر ایسے موسم میں کون آئے کوئی تو جائے ترے نگر کی مسافتوں کو سمیٹ لائے تری گلی میں ہماری سوچیں بکھیر آئے تجھے بتائے کہ کون کیسے اچھالتا ہے وفا کے موتی تمہاری جانب کوئی تو جائے مری زباں میں تجھے بلائے تجھے ...

مزید پڑھیے

مرنے کا خوف

سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہے گرفتار ہونے کا موسم سر قریۂ آبرو آفتاب ہلاکت کی صورت چمکنے لگا ہے شعاعوں کے نوکیلے پنجوں نے جسموں کو زخمی کیا ہے بھنور در بھنور روشنی کے سمندر طوفان قیدی ہوئے یہ بستی گناہوں سے معمور آفت رسیدوں کی بستی ہے نوزائدہ آرزو انتہاؤں کے امکاں ...

مزید پڑھیے

عقل مند مسخرہ

مسخرہ تھا بادشہ کا اک غلام ہو گیا تھا وہ بہت ہی نیک نام خدمت مخلوق اس کا کام تھا اور اس نیکی کا چرچا عام تھا دیکھیے کرنا خدا کا کیا ہوا ایک اس کا دوست غم میں پھنس گیا رنگ لائی شاہ کی چشم عتاب بے نوا پر ہو گیا نازل عذاب مل چکا تھا حکم اس کو قتل کا اب رہائی کا کوئی چارہ نہ تھا موت کی ...

مزید پڑھیے

گھاؤ

ترے اختیار کی حد نہیں ترے فیصلوں سے مفر نہیں مرے دل کے گھاؤ عمیق تر ترے فیصلوں کی ہیں ضرب سے میں تری خوشی میں جو خوش رہی تو مری خوشی کا خیال کر کوئی ایسا دارو کہیں سے لا مرے گہرے گہرے سے گھاؤ بھر

مزید پڑھیے

فن کار

اس بھرے شہر میں ہر چیز کی قیمت ٹھہری درد بک جاتے ہیں جذبات بکا کرتے ہیں جگمگاتے ہوئے سکوں کے عوض دنیا میں کتنے شاعر ہیں جو دن رات بکا کرتے ہیں اک ترا شاعر خوددار نہیں بک سکتا میری محبوب ترا پیار نہیں بک سکتا میرے خاکوں میں ترے حسن کی تصویریں ہیں جنبش زلف تری جنبش لب تیری ہے میرا ...

مزید پڑھیے

آج کی رات

رات آتے ہی مجھے خود سے بھی ڈر لگتا ہے پیڑ چلتے ہیں ہواؤں سے صدا آتی ہے میری تنہائی کی خاموش فضا گاتی ہے روشنی جاگنے لگتی ہے سیہ خانے میں جان پڑ جاتی ہے بھولے ہوئے افسانے میں آنے لگتی ہیں کئی اجنبی مہکاریں سی گونجنے لگتی ہیں پازیب کی جھنکاریں سی ہاتھ میں وقت کے ہوتا ہے مسرت کا ...

مزید پڑھیے

ماکھن چور

میں نا ماکھن کھایو میا میں نا ماکھن چور ملا کھا گئے پنڈت کھا گئے کھا گئے رشوت خور کہنے کو آزاد ہیں ہم پر کیسی یہ آزادی ہر کٹیا نردھن کا بندھن ہر نگری بربادی بھوکے دیس میں ہر دن بڑھتی بھوکوں کی آبادی میں نا ماکھن کھایو میا میں نا ماکھن چور ملا کھا گئے پنڈت کھا گئے کھا گئے رشوت ...

مزید پڑھیے

اور موڑ نے کہا

بعد مدت چلے آئے کیسے ادھر آج کس طرح میرا خیال آ گیا ٹھہرو رک جاؤ رشتہ ہے کچھ مجھ سے بھی کچھ دنوں کا نہیں ربط دیرینہ ہے نقش پا میں تمہارے لیے بیٹھا ہوں راز سینے میں ہے لب سیئے بیٹھا ہوں ایسے گزرے ہو پہچانتے ہی نہیں تم تو جیسے مجھے جانتے ہی نہیں رک گیا اور کچھ سوچ کر کھو گیا دور اپنے ...

مزید پڑھیے

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ظلم کی رات بہت جلد ٹلے گی اب تو آگ چولہوں میں ہر اک روز جلے گی اب تو بھوک کے مارے کوئی بچہ نہیں روئے گا چین کی نیند ہر ایک شخص یہاں سوئے گا آندھی نفرت کی چلے گی نہ کہیں اب کے برس پیار کی فصل اگائے گی زمیں اب کے برس ہے یقیں اب نہ کوئی شور شرابہ ہوگا ظلم ہوگا نہ کہیں خون خرابا ہوگا اوس ...

مزید پڑھیے

تیری یاد میری بھول

تیرے خوابوں کے دریچوں سے ہٹا کر پردے کیوں جگاؤں تری خوابیدہ تمناؤں کو؟ میرے ارمان سسکتے رہیں میرے دل میں اور خبر تک نہ ملے شہر کی سلماؤں کو ہائے وہ میرے خیالوں کی درخشاں وادی جانے کیوں چاند ستاروں کی تمنا کی تھی اٹھ گئی ہوگی یوں ہی آنکھ مری تیری طرف لوگ کہتے ہیں سہاروں کی تمنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 259 سے 960