شاعری

خوبصورت موڑ

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے ...

مزید پڑھیے

آج

ساتھیو! میں نے برسوں تمہارے لیے چاند تاروں بہاروں کے سپنے بنے حسن اور عشق کے گیت گاتا رہا آرزوؤں کے ایواں سجاتا رہا میں تمہارا مغنی تمہارے لیے جب بھی آیا نئے گیت لاتا رہا آج لیکن مرے دامن چاک میں گرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیں میرے بربط کے سینے میں نغموں کا دم گھٹ گیا تانیں چیخوں کے ...

مزید پڑھیے

رد عمل

چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوں تیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں

مزید پڑھیے

خواب

سرخ ڈھلکتے آنچل سے چھلکتے سیاہ پیچیدہ خواب کہ جب سوچ کی گہرائیوں کو پھلانگتے ہوئے اپنی حدیں پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سنگ زنی کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ ادھورے خواب و خیال کفر کی مانند ہوتے ہیں وہ کفر جس پہ سنگ زنی کی دفعہ لگ جائے اور ایک ایک سنگ جسم کو چھوتا ہوا روح میں اترتا ہے ...

مزید پڑھیے

ستمگر

تم مجھ پر وارد ہوئے اک ستم گر کی طرح مئی کی وہ شام تھی مجھے آج بھی یاد ہے سفید رنگ کی شرٹ پہنے ہاتھ میں اخبار رول کئے تم پنڈال کی کرسی پر براجمان تھے پہلی نظر میں تم عام سے تھے جیسے تم عاشق ہو اور میں محبوب میری نظر کا لمس تمہیں خاصا خاص کر گیا دیکھو کہانی نے پلٹا کھایا تم محب بن گئے ...

مزید پڑھیے

قحط

میں اپنے بند کمرے میں پڑا ہوں کہ روشنی بھی اجالوں کی منتظر ہے وہ کونے میں لگا جالا بھی تھک گیا ہے نیلی دیواریں جو امید کا اک زاویہ بناتی تھیں خود کو پردے سے چھپاتی ہیں کہ کھڑکی سے نظر آتا بارش کا خوب صورت منظر محظوظ کن تھا کلینڈر کے پلٹنے پر اب رم نظم بھی سنائی نہیں دیتی مگر کھڑکی ...

مزید پڑھیے

حیرت ہے

عورتیں جنس تو نہیں ہوتیں جن کو بازار میں کھڑا کر دو اپنے ہر اک گناہ کے بدلے ان کو تاوان میں ادا کر دو اپنے کردار کی گراوٹ کو ایسے چہروں پہ تم سجاتے ہو اپنی تہذیب کا حسیں چہرہ کس طرح مسخ کرتے جاتے ہو اپنی ماں بہن اور بیٹی کا جس طرح ماس نوچ کھاتے ہو ایسے بے حس تماش بینوں کی آنکھ کی ...

مزید پڑھیے

مجسمہ

بڑی مشکل سے خود کو پتھروں کے بیچ ڈھالا ہے بڑی دشواریوں کے بعد اس دل کو سنبھالا ہے مگر صدیوں کے بعد اس نے کوئی پیغام بھیجا ہے مرے آغاز کو پھر سے نیا انجام بھیجا ہے سو اب دل چاہتا ہے کہ مدھر نغموں میں کھو جاؤں کسی کے ان کہے جملوں کو من ہی من میں دہراؤں کسی کے نام پر پھر سے میں اب کچھ ...

مزید پڑھیے

پہیلی

ایک سمندر اس میں رکھے چند جزیرے بیچ میں جن کے دوری کی نیلاہٹ رقصاں ربط باہم بس پانی کی اندھی لہریں یا طوفانی ہوا کے جھکڑ سنا ہے ایک جزیرے پر کوہ جودی ہے ہم اولاد نوح تو ہیں پر ناؤ بنانے کا سارا فن بھول چکے ہیں

مزید پڑھیے

مشکل

مجھے کچھ دیر سونا ہے زمانے چیختے ہیں میرے کانوں میں خموشی کس طرح ہوگی مری آنکھوں میں سورج آ بسے ہیں رات کیسے ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 234 سے 960