شاعری

تاج محل

تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ...

مزید پڑھیے

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم بد حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے ...

مزید پڑھیے

تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا

تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا اچھا ہے ابھی تک تیرا کچھ نام نہیں ہے تجھ کو کسی مذہب سے کوئی کام نہیں ہے جس علم نے انسانوں کو تقسیم کیا ہے اس علم کا تجھ پر کوئی الزام نہیں ہے تو بدلے ہوئے وقت کی پہچان بنے گا انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا مالک نے ...

مزید پڑھیے

متاع غیر

میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ہے کہ نہیں پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو میری راتوں کے مقدر میں سحر ہے کہ نہیں چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں عمر بھر کے لیے آزار ہوئی جاتی ہے زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشان سی تھی اب تو ہر سانس گراں بار ...

مزید پڑھیے

چکلے

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں یہ پر پیچ گلیاں یہ بے خواب بازار یہ گمنام راہی یہ سکوں کی جھنکار یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار ثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں تعفن سے پر نیم روشن یہ ...

مزید پڑھیے

ہراس

تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر میرے تخئیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے یوں اچانک ترے عارض کا خیال آتا ہے جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے تیرے پیراہن رنگیں کی جنوں خیز مہک خواب بن بن کے مرے ذہن میں لہراتی ہے رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے تیرے انفاس ترے جسم کی آنچ ...

مزید پڑھیے

فن کار

میں نے جو گیت ترے پیار کی خاطر لکھے آج ان گیتوں کو بازار میں لے آیا ہوں آج دکان پہ نیلام اٹھے گا ان کا تو نے جن گیتوں پہ رکھی تھی محبت کی اساس آج چاندی کے ترازو میں تلے گی ہر چیز میرے افکار مری شاعری میرا احساس جو تری ذات سے منسوب تھے ان گیتوں کو مفلسی جنس بنانے پہ اتر آئی ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں گزرنے پاتی تو شاداب ہو بھی سکتی تھی یہ تیرگی جو مری زیست کا مقدر ہے تری نظر کی شعاعوں میں کھو بھی سکتی تھی عجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہو کر ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا ترا گداز بدن تیری نیم باز آنکھیں انہی ...

مزید پڑھیے

آواز آدم

دبے گی کب تلک آواز آدم ہم بھی دیکھیں گے رکیں گے کب تلک جذبات برہم ہم بھی دیکھیں گے چلو یوں ہی سہی یہ جور پیہم ہم بھی دیکھیں گے در زنداں سے دیکھیں یا عروج دار سے دیکھیں تمہیں رسوا سر بازار عالم ہم بھی دیکھیں گے ذرا دم لو مآل شوکت جم ہم بھی دیکھیں گے یہ زعم قوت فولاد و آہن دیکھ لو ...

مزید پڑھیے

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا تلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میں ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میں عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 233 سے 960