شاعری

وہ زندہ ہے

گلابی دور میں وہ اپنے فن کا شاہزادہ تھا فضائے عارض و چشم و لب و گیسو کا شیدائی وہ عریاں نیم عریاں جسم کی قوس قزح ان کا تأثر ان کی بجلی اپنی تصویروں میں بھرتا تھا حسینوں کے دلوں میں وہ تھا خود بھی ان پہ مرتا تھا اسے اس دور میں عزت ملی دولت ملی لیکن دل رومان پرور میں کوئی شعلہ سا بھی ...

مزید پڑھیے

رد عمل

اک حقیقت اک تخیل نقرئی سی ایک کشتی دو منور قمقمے ان پہ مغرور تھی اس زمیں کی حور تھی کس قدر مسرور تھی ٹوٹ جا آئینے اب تیری ضرورت ہی نہیں نقرئی کشتی ہے اب بچوں کی اک کاغذ کی ناؤ وہ منور قمقمے بھی ہو گئے ہیں آج فیوز اور سراپا بزم ہوں میں کوئی خلوت ہی نہیں ٹوٹ جا آئینے اب تیری ...

مزید پڑھیے

سڑک بن رہی ہے

مئی کے مہینے کا مانوس منظر غریبوں کے ساتھی یہ کنکر یہ پتھر وہاں شہر سے ایک ہی میل ہٹ کر سڑک بن رہی ہے زمیں پر کدالوں کو برسا رہے ہیں پسینے پسینے ہوئے جا رہے ہیں مگر اس مشقت میں بھی گا رہے ہیں سڑک بن رہی ہے مصیبت ہے کوئی مسرت نہیں ہے انہیں سوچنے کی بھی فرصت نہیں ہے جمعدار کو کچھ ...

مزید پڑھیے

تسلسل

ٹھہر جاؤ انہیں گاتی ہوئی پر نور راہوں میں اور اک لمحے کو یہ سوچو ہرے شیتل منوہر کتنے جنگل آج ویراں ہے وہ کیسی لہلہاتی کھیتیاں تھیں اب جو پنہاں ہیں وہ منظر کتنے دل کش تھے جو اب یاد گریزاں ہیں بس اک لمحے کو یہ سوچو نہ جانے کتنی نعشوں کو کچل کر آج لائے ہو نئی تہذیب کی ان جنتوں ...

مزید پڑھیے

معاف اے عروش صبح

تاریک رات پچھلے پہر تک تھی شعلہ بار اے صبح نو معاف کہ جاگا ہوں دیر سے تیرے لئے ہمالہ سے لاتا ہوں ایک گیت پہلے یہ اپنی سرخ کرن تیز تر تو کر تیرے لئے اٹھاتا ہوں گنگ و جمن کا ساز ناہید ناز پاؤں میں چھاگل پہن تو لے چنتا ہوں پھول جنت کشمیر کی قسم ہاں اے نگار نو ذرا آراستہ تو ہو میں توڑتا ...

مزید پڑھیے

کشمکش

زندگی آج بھی اک مسئلہ ہے نہ تخیل نہ حقیقت نہ فریب رنگیں گیت قربان کیے شعلۂ دل نذر نغمۂ خواب دیئے پھر بھی یہ مسئلہ گیت موسم کا حسیں جسم کا خوابوں کا جسے میں نے اور میرے ہم عصروں نے گایا تھا اسے زندگی سنتی نہیں سن کے بھی ہنس دیتی ہے آگ جذبات کی آگ دل نشیں شبنمیں معصوم خیالات کی ...

مزید پڑھیے

اندیشہ

آرٹسٹ اپنی یہ تصویر مکمل کر لے ہاں یہ ہونٹ اور بھی پتلے ہوں یہ آنکھیں اور بھی مست لیکن ان گالوں کی سرخی کو ذرا کم کر دے میں نے شاید انہیں مرجھایا ہوا پایا ہے ہلکے آنسو سے ان آنکھوں کو ذرا نم کر دے میں نے افسردہ نگاہوں سے یہی سمجھا ہے آج بھی میں نے سر راہ اسے دیکھا ہے ایک شاہکار اسے ...

مزید پڑھیے

آج پھر یہ کہہ رہا ہوں

آج پھر یہ کہہ رہا ہوں یا مجھے اپناؤ یا میری کلا میں ڈوب جاؤ یا تو اک پتھر بنو یا پھول بن کر مسکراؤ میں تمہاری خواہشوں کے ساتھ سب کچھ سہہ رہا ہوں آج پھر یہ کہہ رہا ہوں زندگی اک فن ہے، فن مایا ہے، مایا ایک جال میرا فن بخشے گا تم کو ظاہری حسن و جمال جو بھی چاہو گی، ملے گا، پھول جیون کا ...

مزید پڑھیے

نیا آنے والا زمانہ ہمارا

ہے روشن حقیقت فسانہ ہمارا نئی زندگی بن کے بکھرے گا ہر سو نئی روشنی کا ترانہ ہمارا نیا آنے والا زمانہ ہمارا پرانے چراغوں کے مدھم اجالو ہمارے ہی ہاتھوں سجے گی یہ محفل ہمیں صرف بچہ سمجھ کر نہ ٹالو نیا آنے والا زمانہ ہمارا تمہاری بزرگی کا ہے پاس ہم کو مگر اس نئے دور کی روشنی میں ہے ...

مزید پڑھیے

دھواں

وہ قہوہ خانے میں آیا اور ہماری میز کے کنارے بن پوچھے ہی بیٹھ گیا ہم باتوں میں کھوئے ہوئے تھے سوچ رہے تھے دنیا کیا ہے کیا یہ اسٹیج ہے جس پر جیون کا ناٹک ہوتا ہے کیا ہم اس بے نام ڈرامے کے ہیں بس فرضی کردار؟ الجھی تھی اپنی گفتار اور اچانک وہ نو وارد سگریٹ کا ایک گہرا سا کش لے کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 225 سے 960