شاعری

کس سے پوچھوں

کس سے پوچھوں جب بھی کوئی نظم مکمل ہو جاتی ہے میرے اندر ایک خلا کیوں بھر جاتا ہے کیوں مجھ کو ایسا لگتا ہے جیسے میرے خواب کسی نے چھین لیے ہیں زخموں کے مہتاب کسی نے چھین لیے ہیں کس سے پوچھوں نظم مکمل ہوتے ہی کیوں بے چہرہ یادوں کے پنچھی درد کے موسم میرے بدن سے کیوں ہجرت کرنے لگتے ...

مزید پڑھیے

مری نظمیں تمہاری منتظر ہیں

مرے خوابوں کے صورت گر مری سوچوں کے چہرہ گر کہاں ہو تم مری نظمیں تمہاری منتظر ہیں خفا ہیں لفظ لہجے بے صدا ہیں کئی دن سے تمہاری یاد کے پنچھی بھی میرے ذہن و دل کے آسمانوں پر نظر آتے نہیں ہیں ندی کہسار جھرنے پھول تتلی رنگ جگنو سب مری بے چارگی پر نوحہ خواں ہیں کوئی منظر مری بے چہرگی کو ...

مزید پڑھیے

اپولو دس

اپالو دس یہ کہتا ہے نہیں اب دور وہ منزل کہ جب مہتاب کی وادی بنے گی کھیل کی محفل یہ زریں کامیابی بھی ہماری ہی بدولت ہے ملے گا چاند پھولوں سے کہ دھرتی ایک جنت ہے ابھی تو چاند ہارا ہے ستارے اور ہاریں گے زمیں ہم نے سجائی ہے فلک بھی ہم سنواریں گے بزرگوں کی نگاہوں میں یہ سب کچھ ایک جادو ...

مزید پڑھیے

یہ دھرتی خوبصورت ہے

نہیں فاروقی! اس دھرتی کو میں ہرگز نہ چھوڑوں گا مجھے جس دور نے پالا ہے، وہ بے شک پرانا ہے مجھے محبوب اب بھی عہد رفتہ کا فسانہ ہے مگر یہ دور نو یہ ضو شعاع آگہی کی رو میں اتنی خوبصورت زندگی سے منہ نہ موڑوں گا اجل برحق سہی لیکن رہے گا جب تلک ممکن میں چاہوں گا کہ لپٹا ہی رہوں دھرتی کے ...

مزید پڑھیے

پیتل کا سانپ

اور پیتل کا یہ زہریلا سانپ جس کی نازک سی زباں پر یہ خنک شمع کی لو لہر کی طرح اندھیرے میں اٹھا کرتی ہے میرے اک دوست نے تحفے میں مجھے بھیجا ہے ہیں یہ ٹیگور کے بے ربط تخیل کے نقوش اور یہ چین کے نغمات کا مجموعہ ہے میز کے گوشے پہ رکھا ہوا گوتم کا یہ بت تم کو اچھا نہ لگے گا شاید مدتیں ...

مزید پڑھیے

اف یہ گرمی

اف یہ گرمی دیا رے دیا لو ہے کہ بجلی دیا رے دیا جلتا ہے کمرہ بھیا رے بھیا کھول دو پنکھا بھیا رے بھیا دھوپ کی شدت باجی رے باجی ٹھنڈا شربت باجی رے باجی گرمی کا عالم توبہ رے توبہ آگ کا موسم توبہ رے توبہ بھوت ہوا میں آہا آہا جادو فضا میں آہا آہا روحوں کی ٹولی سی شاں رے سی شاں آگ کی ...

مزید پڑھیے

ڈرائنگ روم

یہ سینری ہے یہ تاج محل یہ کرشن ہیں اور یہ رادھا ہیں یہ کوچ ہے یہ پائپ ہے مرا یہ ناول ہے یہ رسالہ ہے یہ ریڈیو ہے یہ قمقمے ہیں یہ میز ہے یہ گلدستہ ہے یہ گاندھیؔ ہیں ٹیگورؔ ہیں یہ یہ شاہنشہ یہ ملکہ ہیں ہر چیز کی بابت پوچھتی ہے جانے کتنی معصوم ہے یہ ہاں اس پر رات کو سونے سے میٹھی میٹھی ...

مزید پڑھیے

جنگلی ناچ

جنگلی لباس میں ایک پیکر گداز چل رہا ہے جھاڑیوں میں سانپ جھوم جھوم کر اڑ رہا ہے مور اپنے بال چوم چوم کر جھیل مانگنے لگی شام کی ہوا سے ساز ایک بار تین بار دست صندلی اٹھے پاؤں لہر کھا گئے جسم ناز کے شرار جھیل کے کنارے مست ہو کے ناچنے لگے جنگلی جوان شام کو سکون پا گئے جھونپڑوں سے اپنے ...

مزید پڑھیے

اسپتال

میں جس جگہ ہوں وہاں زندگی معمہ ہے ابھی تو نوحہ ابھی دل نواز نغمہ ہے ابھی حیات ابھی موت ابھی سکوں ابھی غم یہ اسپتال کی دنیا عجیب دنیا ہے ہر ایک نرس کے لب پر ہنسی سکھائی ہوئی جو ڈاکٹر ہے وہ اپنے تئیں مسیحا ہے بیان شوق کی صبحیں نہ عرض حال کی شام بڑی اداس سی رہتی ہے اسپتال کی شام سویرا ...

مزید پڑھیے

آؤ چلیں ماں

آؤ چلیں ماں ٹھنڈی فضاؤں میں شہروں سے دور کہیں چھوٹے سے گاؤں میں مانا یہ چاندی کی دنیا حسین ہے دھرتی کی حوروں کا جلوہ حسین ہے اونچے اونچے محلوں کا نغمہ حسین ہے کیسے یہاں گھوموں کہ زور نہیں پاؤں میں آؤ چلیں ماں ٹھنڈی فضاؤں میں شہروں سے دور کہیں چھوٹے سے گاؤں میں چار طرف اپنی ترقی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 224 سے 960