شاعری

گھر

دو رستے ہیں دونوں تیرے گھر جاتے ہیں اس رستے سے تین برس میں گھر پہنچے گا اس پر سات برس لگتے ہیں جس پر سات برس لگتے ہیں وہ رستہ ہموار بھی ہے اس رستے کے دونوں جانب شہر بھی ہے بازار بھی ہے تین برس والے رستے کے بیچ میں جنگل پڑتا ہے جنگل جس میں برس برس تک سونے والے کالے اژدر اپنے مقناطیسی ...

مزید پڑھیے

محاسبہ

اچھا خاصا گھر تھا لیکن اجڑ گیا والدین کے انتقال کے بعد دونوں بھائی اپنی لاڈلی اور اکلوتی بہن کی شادی کر کے ملک سے باہر چلے گئے لاہوری آبائی مکان میں صرف چچا سلطان اکیلے رہتے تھے جن کی گھنی نورانی داڑھی خوف خدا سے ہلتی رہتی تھی پرویز اٹلی میں دانتوں کے امراض کا ماہر بن کے رہا اب ...

مزید پڑھیے

ڈسٹ بن

صبح کے جگ مگ سورج کو شام کے نارنجی بادل میں کیوں گہناتی ہو وہ کیا اندیشہ ہے جس کے بڑھتے قدموں کی دھمک سنی اور تم نے اپنے آنسو اپنے اندر گرا لیے اپنی روح میں نوحے جمع کیے اور نسیاں کی ڈسٹ بن میں پھینک دئیے وہ کون سا مجرم درد ہے جس کو دل کے شب خانوں میں چھپائے جس کے نادیدہ شعلوں سے ...

مزید پڑھیے

شیر امداد علی کا میڈک

مگر تنگ نظر مٹیالے تالاب میں اس ادھ کھلے کنول پر وہ بہار تھی جو دیکھنے والی آنکھوں میں دھنک کھلاتی ہے پھر پانی کا بلاوا الگ تھا اس ساحرانہ کشش سے ہار کر اپنا تہمد اتار کر وہ مردہ پانی میں کود پڑے جل کنبھی سے الجھے تو ہفتے عشرے کے حمل کے مانند نرم اور خام سروں والے گل ...

مزید پڑھیے

خرگوش کی سرگزشت

رقص شام کھڑی ہے بھوری جھاڑیوں، پیلی گھاسوں کے خیموں سے باہر نکلو نرم ہوائیں بالوں کی جھالر سے گزرتی لمبے لمبے کانوں میں خرگوشی کرتی ہیں سرخ کونپلیں سبز پتیاں سانپ چھتریاں۔۔۔ جنگل میں گودام کھلا ہے پاگل اپنے بیکل نتھنوں میں اس خوش بو کا چھلا ڈال کے رقص کرو ہر خطرے کو چکمہ دو چور ...

مزید پڑھیے

دیوار

رگوں میں ناچ رہا ہے اک آتشیں زہراب تری تلاش فقط جسم کا تقاضا ہے تری طلب کے جہنم میں جل رہا ہے بدن لہو پکارتا ہے کیا سنا نہیں تو نے کہ میں نے روح کی دیوار ہی گرا دی ہے

مزید پڑھیے

مستانہ ہیجڑا

مولا تری گلی میں سردی برس رہی تھی شاید اسی سبب سے مستانہ ہیجڑا بھی وسکی پہن کے نکلا ٹینس کے بال کستی انگیا میں گھس گھسا کے پستان بن گئے تھے شہوت کے سرخ ڈورے سرمہ لگانے والی آنکھوں میں تن گئے تھے اک دم سے چلتے چلتے اس نے کمر کے جھٹکے سے راہ چلنے والے شہدوں، حرام خوروں سے التفات ...

مزید پڑھیے

بدگمانی

جو ہو سکے تو ایک روز اعتبار کے عذاب سے گزار دے مجھے کہ احتمال اور ہے صفر نہیں تو پھر صفر سے جنگ کیا خدا کے واسطے مجھے بتا اگر کسی کا انتظار ہی نہ تھا تو ساری عمر کس کے انتظار میں گزر گئی جمال خاں اچک زئی میرا سوال اور ہے

مزید پڑھیے

حاجی بھائی پانی والا

دونوں مشکیزے لبا لب ایک چمبک کی طرح اپنی جانب کھینچتے رہتے اسے فیل بندی قہر تھی مرد گاہک مسخری کرتے ہوئے ڈرتے ذرا محتاط رہتے جھرجھری کا سوانگ بھرتے عورتیں مغموم آنکھوں میں ترس کاڑھے ہوئے اپنے بچوں پر برس پڑتیں اگر وہ بد لحاظ بھولپن سے پوچھ لیتے کیوں نہیں اس کے فلانوں کی ...

مزید پڑھیے

فینٹیسی

رات جمائیاں لے رہی ہے وصل کی سیپی جسم سے گہر پھوٹ رہے ہیں ایک اجنبی لڑکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ننگی اور اکڑوں بیٹھی ہوئی ہے وہ چمن کی آن ہے اور جان اس کی رات کی رانی میں رہتی ہے سوچ رہا ہوں میں اس کی الماری میں اپنے آپ کو تہہ کر کے رکھ دوں

مزید پڑھیے
صفحہ 199 سے 960