شاعری

باکرہ

۔۔۔۔اور چادر پر شب باشی کا زندہ لہو تھا اس نے اٹھ کے انگڑائی لی آئینے میں چہرہ دیکھا سرشاری میں اطمینان کی ٹھنڈی سانس لی اس کی تھکی ہوئی آنکھوں میں دیوانی مغرور چمک تھی فتح کے نشے سے پلکیں بوجھل تھیں اس نے سوچا ہائیڈ پارک میں جو لڑکی اک جاسوسی ناول میں ڈوبی اسے ملی تھی وہ تو جیسے ...

مزید پڑھیے

(۱)

یہ احساس کہ اک ذی روح مری آواز کے شعلے سے جل سکتا ہے خاموشی کے ریشم سے کٹ سکتا ہے اتنا جاں پرور ہے کہ آنکھیں بند ہوئی جاتی ہیں خوشی سے بھیگی جاتی ہیں

مزید پڑھیے

الکبڑے

یہ سست ماہے ماں کے خالی پیٹ کے ویرانے میں کراہے ننگوں، بھوکوں، بھک منگوں نے اپنی سدا سہاگن لائن اور بڑھا دی وہ اعزاز دیا ایک جگہ مستقل بنا دی ان کی خمیدہ پشت اپنے کوہان سے مڑی کمان تھی جس کی بد صورت پرچھائیں خط فلک پر داغ کاڑھتی تھی نیلے رنگ افسردہ لگتے تھے ان کے باپ پرانے ...

مزید پڑھیے

کیمرا

ایک امنگ سے تنی ہوئی اک پراسرار گلی پتی پتی آگ لیے جاتی ہے۔۔۔ یہ سرکش خون فروش اپنے برش کی جنبش سے میلی صبح میں سرخ رنگ بھر دے گی۔۔۔ آج نمو کے نیلے زہر سے بھری ہوئی بیٹھی ہے۔۔۔ اوس میں تر کوئی بے گھر تتلی نیند پیڑ کی خواب شاخ پر پیلے دھانی اندیشوں کی دھنک پہن کے سوتی ہے۔۔۔۔۔۔ اس ...

مزید پڑھیے

موت کی خوشبو

جدائی محبت کے دریائے خوں کی معاون ندی ہے وفا یاد کی شاخ مرجاں سے لپٹی ہوئی ہے دل آرام و عشاق سب خوف کے دائرے میں کھڑے ہیں ہواؤں میں بوسوں کی باسی مہک ہے نگاہوں میں خوابوں کے ٹوٹے ہوئے آئنے ہیں دلوں کے جزیروں میں اشکوں کے نیلم چھپے ہیں رگوں میں کوئی رود غم بہہ رہا ہے مگر درد کے بیج ...

مزید پڑھیے

ایک کتا نظم

پیارے سات سال سے اس ٹیلی ویژن پر ہز ماسٹرس وائس کے منکسر مزاج اور بردبار کتے کی طرح بے نیاز اور مطمئن اور بے خبر دم سادھے بیٹھے ہوئے ہو تمہارے قدموں کے نیچے ایک حشر برپا ہے جیتا جیتا لہو ٹیلی ویژن کی شریانوں سے پھوٹ پھوٹ کر بہہ نکلا ہے قالین بھیگ گئی ہے صوفے تیر رہے ہیں میں اپنے ...

مزید پڑھیے

پوسٹر

یاد کی دیوار ہے دیوار پر ایک پوسٹر اور پوسٹر میں کامنی۔۔۔ سبز آنکھیں بے کراں آنکھیں تری کلبۂ نسیان میں اور برف کے طوفان میں دھندلی ہوئیں، خالی ہوئیں یہ فنا کے گرم بوسوں کے نشاں جل گیا مٹی کا رس رائیگاں سب رائیگاں

مزید پڑھیے

ایک سور سے

وہ طلسمی دوپہر تھی سانس لیتے گھاس کے میدان میں سبز مٹی سے شعاعیں اگ رہی تھیں اور تم کرنوں میں اپنے تھوتھنے گاڑے ہوئے دندناتے پھر رہے تھے میں تمہاری جان کا دشمن انا کے ہش پپی جوتے پہن کر اپنے کینے کا نیا کمپا لیے برتری کے بنچ پر محجوب سا بیٹھا ہوا اک پرانے جھوٹ سے دامن چھڑانا ...

مزید پڑھیے

نوحہ

یہ کیسی سازش ہے جو ہواؤں میں بہہ رہی ہے میں تیری یادوں کی ساری شمعیں بجھا کے خوابوں میں چل رہا ہوں تری محبت مجھے ندامت سے دیکھتی ہے وہ آبگینہ ہوں خواہشوں کا کہ دھیرے دھیرے پگھل رہا ہوں یہ میری آنکھوں میں کیسا صحرا ابھر رہا ہے میں بال روموں میں بجھ رہا ہوں شراب خانوں میں جل رہا ...

مزید پڑھیے

پارٹی

رم اور جن کی خالی بوتلو اخباروں میں چھپے ہوئے بے مصرف لفظو اسٹرپٹیز کلب کے پھٹے پرانے ٹکٹو کوٹ کے کالر کے افسردہ تنہا پھولو ٹیب رکارڈ میں سہمے سہگل کے نغمو دوستیوں اور دشمنیوں کے زندہ لمحو کانپتے ہونٹوں پر کمھلاتے، مونیکا کے آخری بوسو گھیرا ڈال کے میرے گرد کھڑے ہو جاؤ ناچو گاؤ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 198 سے 960