شاعری

آنکھیں دو جڑواں بہنیں

جب ہمارے گناہوں پہ وقت اترے گا بندے کھرے ہو جائیں گے پھر ہم توبہ کے ٹانکوں سے خدا کا لباس سئیں گے تم نے سمندر رہن رکھ چھوڑا اور گھونسلوں سے چرایا ہوا سونا بچے کے پہلے دن پہ مل دیا گیا تم دکھ کو پیوند کرنا میرے پاس ادھار زیادہ ہے اور دکان کم آنکھیں دو جڑواں بہنیں ایک میرے گھر ...

مزید پڑھیے

شیلی بیٹی کے نام

تجھے جب بھی کوئی دکھ دے اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا جب میرے سفید بال تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے ان کھیتوں میں میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی بس پہلی بار ڈری بیٹی میں کتنی بار ڈری بیٹی ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں ...

مزید پڑھیے

سنگ میل پہروں چلتا ہے

آسمان کے سینے میں غم چرخا کات رہا ہے سنگ میل پہروں چلتا ہے اور ساکت ہے رات مجھ سے پہلے جاگ گئی ہے لباس پر پڑے ہوئے دھبے میرے بچوں کے دکھ تھے میرے لہو کو تنہائیاں چاٹ رہی ہیں شہر کی منڈیر سے تنکے چرائے تھے سورج نے دکھ بنا دئے میرے سپنوں کا داغ آنکھیں ہیں میری قبر مجھے چھپ کر دیکھ ...

مزید پڑھیے

آدھا کمرہ

اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیں کہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئے وہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتا اس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھی کاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئی تم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیا سیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولو میں سمجھ ...

مزید پڑھیے

سائے کی خاموشی

سائے کی خاموشی صرف زمین سہتی ہے کھوکھلا پیڑ نہیں یا کھوکھلی ہنسی نہیں اور پھر انجان اپنی انجانی ہنسی میں ہنسا قہقہے کا پتھر سنگریزوں میں تقسیم ہو گیا سائے کی خاموشی اور پھول نہیں سہتے تم سمندر کو لہروں میں ترتیب مت دو کہ تم خود اپنی ترتیب نہیں جانتے تم زمین پہ چلنا کیا جانو کہ ...

مزید پڑھیے

چاند کا قرض

ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی اور اپنا اپنا بین ہوئے ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے میں نے موت کے بال کھولے اور جھوٹ پہ دراز ہوئی نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی شام دوغلے رنگ سہتی رہی آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے میں موت کے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

عجیب لوگ ہیں

عجیب لوگ تھے سورج کی روشنی کے تلے خود اپنے آپ کو پہچان بھی رہے تھے اور لبوں پہ دعویٰ انکار آفتاب بھی تھا وہ جانتے تھے کہ سورج کی روشنی کے سوا کوئی چراغ میسر نہیں ہے ایسا جو تلاش اصل حقیقت کے زینے چڑھتے ہوئے بے امتیازی میں اس آفتاب جیسا ہو عجیب لوگ تھے سورج کے نور خانے میں کرایہ ...

مزید پڑھیے

شاہ دولہ چوہا

میں تھا ماندہ اداس مقبرے کے پاس ایک سبز حجلے میں اپنے جمورے کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا مرجھائی ہوئی دھوپ کاہی دولا شاہی خانقاہ کی زرنگاہ سیڑھیوں سے اترتی دالان پار کرتی حجرے کی سنہری جالیوں سے چھن چھن گزرتی مرمریں فرش پر ٹوٹے ہوئے چتکبرے پروں کی طرح ہلکان پڑی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اے دل پہلے بھی ہم تنہا تھے

اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں ان زخموں سے ان داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے جو داغ کہ بدر منیر ہوئے اس طرح سے کب تک جینا ہے میں ہار گیا اس جینے سے کوئی ابر اٹھے کسی قلزم سے رس برسے میرے ویرانے پر کوئی جاگتا ہو کوئی کڑھتا ہو میرے دیر سے واپس آنے پہ کوئی سانس بھرے ...

مزید پڑھیے

مرتا لمحہ

اس لمحے کی ہمراہی محسوس کرو اس سے تمہارا بس اتنا ہی رشتہ ہے اس کی راہ کا اک بے مصرف پتھر ہو اس کا دل کونپل کی طرح ملایم ہے اس دنیا اور اس کے دکھوں کے بارے میں جب کوئی بات سنے گا کمھلا جائے گا خاموشی سے اس کے سائے سائے چلو اور اگر کوئی بات ہی اس سے کرنی ہے آنے والے اچھے دنوں کی بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 197 سے 960