شاعری

جشن آزادی

کام جو رشوت سے بن جائے بنانا چاہئے چور بازاری میں کالا دھن کمانا چاہئے دودھ میں پانی با آزادی ملانا چاہئے جس سے مطلب ہو اسے مکھن لگانا چاہئے دوستو! یوں جشن آزادی منانا چاہئے؟ چاول اور گندم نہ کچھ فولاد پیدا کیجئے نصف درجن کم سے کم اولاد پیدا کیجئے مسئلے پھر آپ لاتعداد پیدا ...

مزید پڑھیے

یہ عشق کہاں لے جائے گا

تپتی راہوں سے چل چل کے جب چھاؤں کی خواہش بھی نہ رہی عاشقوں کی روانی روک تو لی قطرہ قطرہ امید بہائی یہ عشق کہاں لے جائے گا بے خواب سویروں کی آواز پر نور شبوں کو بھول گئے انداز بیاں میں الجھ گئے شیریں لبوں کو بھول گئے یہ عشق کہاں لے جائے گا صدیوں کی تھکن سے جیت کے بھی اک پل کی نراشا ...

مزید پڑھیے

گلابی شام کا آنسو

گلابی شام کی دستک سنی تم نے عجب ساعت میں تم نے دل میں میرے یاد کا اک بیج پھینکا تھا کہ اس سے پھوٹنے والے تمہارے اور میرے درمیاں کچھ حاملہ لمحے تمہیں معلوم کب ہوگا کہ وہ تکمیل کی دہلیز پہ آتے ہوئے کس ضبط سے گزرے بقا کی جنگ کو ہارے وہ سب لمحے کہاں کس درد سے گزرے کسی اجڑی ہوئی اب کوکھ ...

مزید پڑھیے

راکھ

سوچ رہی ہوں ارمانوں کے پنجرے سے پنچھی کو آزاد کروں میں دل کے بہلانے کو میں نے گھر کے گل دانوں میں کب سے مردہ خواب سجا رکھے ہیں کمرے کو کچھ صاف کروں میں صندل کی لکڑی کے نیچے دھیرے دھیرے چلاتی اک آس رکھی ہے اک کونے میں جیتی مرتی خواہش کی ایک سانس پڑی ہے جانے کتنے برسوں کی آتش دان میں ...

مزید پڑھیے

زرد جھیل

دیکھو اس کا جھیل سا مکھڑا جیسے خواب خیال کیسا ہے آواز کا جادو جیسے میگھ ملہار زلفیں ہیں کہ ہولے سے چھو لے کوئی پروائی اس کا ہنسنا ایسے جیسے پائل کی جھنکار رنگت ایسی دور پہاڑوں پر ڈھلتی سی شام دیکھو اس کی آنکھیں دیکھو جیسے دیپ جلیں دیکھو اس کے ہاتھ کی ریکھاؤں کی سندرتا لیکن ...

مزید پڑھیے

دل مضطرب

اے دل مضطرب اے مرے بے وفا اے مرے بے رحم اب ٹھہر جا ذرا جان من باز آ باز آ چاہے جانے کی خواہش میں مارا گیا ان سرابوں کے پیچھے تو گھائل ہوا میرے مژگاں پہ تارے ہیں بکھرے ہوئے کون دیکھے انہیں ہیں دیا سی ان آنکھوں میں پل پل جو پروانے مچلے ہوئے یہ تو جل جائیں گے خاک ہو جائیں گے چاہے جانے ...

مزید پڑھیے

چیونٹی بھر آٹا

ہم کس دکھ سے اپنے مکان فروخت کرتے ہیں اور بھوک کے لئے چیونٹی بھر آٹا خریدتے ہیں ہمیں بند کمروں میں کیوں پرو دیا گیا ہے ایک دن کی عمر والے تو ابھی دروازہ تاک رہے ہیں چال لہو کی بوند بوند مانگ رہی ہے کسی کو چرانا ہو تو سب سے پہلے اس کے قدم چراؤ تم چیتھڑے پر بیٹھے زبان پہ پھول ہو اور ...

مزید پڑھیے

اے میرے سر سبز خدا

بین کرنے والوں نے مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا انسان کے دو جنم ہیں پھر شام کا مقصد کیا ہے میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی کتوں نے جب چاند دیکھا اپنی پوشاک بھول گئے میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے اے میرے سر سبز خدا خزاں ...

مزید پڑھیے

شاید مٹی مجھے پھر پکارے

سن دریا اپنی مٹھی کھول رہا ہے سن کچھ پتے اور پتوں کے ساتھ کچھ ہوا اکھڑ گئی ہے جنگل کے پیڑ ارادے زمین کو بوسہ دے رہے ہیں چاہتے ہیں دریا کو مٹھی کا جال لگائیں آنکھیں منظر تہہ کرتی جا رہی ہیں سمندر مٹی کو چوکور کر نہیں پا رہے سن گلی لے پہ پھنکار رہی ہے اس میں جلے ہوئے کپڑے پھینک زینے ...

مزید پڑھیے

چراغ جب میرا کمرہ ناپتا ہے

چراغ نے پھول کو جنم دینا شروع کر دیا ہے دور بہت دور میرا جنم دن رہتا ہے آنگن میں دھوپ نہ آئے تو سمجھو تم کسی غیر آباد علاقے میں رہتے ہو مٹی میں میرے بدن کی ٹوٹ پھوٹ پڑی ہے ہمارے خوابوں میں چاپ کون چھوڑ جاتا ہے رات کے سناٹے میں ٹوٹتے ہوئے چراغ رات کی چادر پہ پھیلتی ہوئی صبح میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 195 سے 960