شاعری

بیٹھے بیٹھے

میرا چہرہ تمہارا بن جاتا ہے تمہاری آنکھوں سے دیکھتی ہوں تمہارے ہونٹوں سے مسکراتی ہوں میں تم بن جاتی ہوں

مزید پڑھیے

یہ کیسا رائیگاں سا

انتظار سونپا ہے تم نے نہ کوئی حرف دل داری کہ جس کو دہراتے ہوئے سبھی پھیکے سے دن کاسنی بیلوں سے ڈھک جائیں نہ کوئی لمس کی اترن کہ جس کو اوڑھ کے میں شام کے پہلو میں بیٹھی تمہارے وصل کے کچھ خواب ہی کاڑھوں نہ کوئی بوسۂ امید میرے ماتھے پہ مہکا کہ جس کی لو میں میری نظمیں رات بھر رقص کرتی ...

مزید پڑھیے

نظم

تم آنکھیں کھولتے ہو تو تتلیوں کے پر مجھے چھو کر گزرتے ہیں کنول کے پھول دل کی جھیل میں ہلکورے لیتے ہیں تمہارے بازوؤں میں آسماں کی رفعتیں بسرام کرتی ہیں میں اپنے ادھ کھلے خوابوں کو ریشمی آواز دیتی ہوں خمار آلود مشک بار نظمیں میرے در پہ دستک سی دیتی ہیں

مزید پڑھیے

قرار جاں

تمہارے عارض و لب پہ نثار کتنے ہوں تمہارے فکر و جمال کے ہوں شیدائی تمہارے صندلی بوسے کسی رخ پہ مہرباں ہوں تمہارے بازوؤں کی پناہیں کسی کا حاصل ہوں تمہارے گیسوئے مشکبار کسی کی سانس مہکائیں تمہارے نقرئی لب لاکھ کیف چرائیں تمہارے دل پہ کسی کی مہر جگمگاتی ہو مگر اتنا تو ...

مزید پڑھیے

میں انسان ہوں

ہر رنگ میں خوب صورت ہر ڈھنگ میں بے مثال تم مجھے رنگ زاویے قد کاٹھ سے مت ماپو میرے دماغ کے روبرو آؤ میں تمہارے برابر نہیں تم سے بہتر ہوں میں عورت ہوں

مزید پڑھیے

جدید ترین آدمی نامہ

راکٹ اڑا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی موٹر چلا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی بس میں جو جا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی پیڈل گھما رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی پیدل جو آ رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی پبلک سے جس نے ووٹ لیا وہ بھی آدمی رشوت کا جس نے نوٹ لیا وہ بھی آدمی ''لنڈے'' کا جس نے کوٹ لیا وہ بھی آدمی ''چرغا'' ...

مزید پڑھیے

جہاں سلطانہ پڑھتی تھی

وہ اس کالج کی شہزادی تھی اور شاہانہ پڑھتی تھی وہ بے باکانہ آتی تھی وہ بے باکانہ پڑھتی تھی بڑے مشکل سبق تھے جن کو وہ روزانہ پڑھتی تھی وہ لڑکی تھی مگر مضمون سب مردانہ پڑھتی تھی یہی کالج ہے وہ ہم دم جہاں سلطانہ پڑھتی تھی کلاسوں میں ہمیشہ دیر سے وہ آیا کرتی تھی کتابوں کے تلے فلمی ...

مزید پڑھیے

موٹر رکشا

بیٹھ کر ایک بار رکشے میں پھر نہ بیٹھے گا یار رکشے میں آج کل ہو رہا ہے زوروں پر حسن کا کاروبار رکشے میں دے حسینوں کو کار سے تشبیہ کر ہمارا شمار رکشے میں آ رہا ہے مشاعرے کے لئے شاعر نامدار رکشے میں ہے جہاں دو کا بیٹھنا مشکل یہ بٹھاتے ہیں چار رکشے میں شاہراہوں پہ روز ہوتے ...

مزید پڑھیے

ڈاج محل

ڈاج کے نام سے جاناں تجھے الفت ہی سہی ڈاج ہوٹل سے تجھے خاص عقیدت ہی سہی اس کی چائے سے چکن سوپ سے رغبت ہی سہی ڈاج کرنا بھی ازل سے تری عادت ہی سہی تو مری جان کہیں اور ملا کر مجھ سے قیس و لیلیٰ بھی تو کرتے تھے محبت لیکن عشق بازی کے لئے دشت کو اپناتے تھے ہم ہی احمق ہیں جو ہوٹل میں چلے آتے ...

مزید پڑھیے

دفتر شادی کا منتظم

وہ چلاتا ہے دفتر شادی دوست ایسا بھی اک ہمارا ہے فیس لیتا ہے دل ملانے کی اور اسی کام پر ''گزارہ'' ہے کوئی شادی بغیر مر جائے یہ بھلا کب اسے گوارا ہے عقد ثانی کی جن کو خواہش ہو ان کی امید کا ستارا ہے جن کو رشتہ کہیں نہ ملتا ہو ان کا یہ آخری سہارا ہے سوچتا ہوں کہ ہے وہ خوش قسمت یا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 194 سے 960