شاعری

دوسرا پہاڑ

یہ دوسرا پہاڑ تھا جہاں چیزوں میں میری عمر کے کچھ حصے پڑے تھے میں یہاں سے کتنی بے ترتیب گئی تھی اور میں اپنا دن گرد کر کے آ رہی تھی ساری چیزوں نے مجھے گلے لگایا میں نے چھوٹے جوتے چھابڑی والے کو فروخت کر دئیے اور سکے ہینگر میں پڑے چھوٹے کپڑوں میں ڈال دئیے میں آئینے کے سامنے کھڑی ...

مزید پڑھیے

عورت اور نمک

عزت کی بہت سی قسمیں ہیں گھونگھٹ تھپڑ گندم عزت کے تابوت میں قید کی میخیں ٹھونکی گئی ہیں گھر سے لے کر فٹ پاتھ تک ہمارا نہیں عزت ہمارے گزارے کی بات ہے عزت کے نیزے سے ہمیں داغا جاتا ہے عزت کی کنی ہماری زبان سے شروع ہوتی ہے کوئی رات ہمارا نمک چکھ لے تو ایک زندگی ہمیں بے ذائقہ روٹی کہا ...

مزید پڑھیے

خالی آنکھوں کا مکان

خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو آگ کا ذائقہ چراغ ہے اور نیند کا ذائقہ انسان مجھے پتھروں جتنا کس دو کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو میں خدا کی زبان منہ میں رکھے کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی ...

مزید پڑھیے

پرندہ کمرے میں رہ گیا

رات نے جب گھڑیوں سے وقت اٹھا لیا گھنٹی کی تیز آواز نے سارے پردوں کا رنگ اڑا دیا کمرے میں چار آدمیوں نے اپنی اپنی سانسیں لیں سانسیں مختلف رنگوں میں تھیں ایک آدمی پرانے کلینڈر پر نشان لگا رہا تھا دوسرا نیا کلینڈر ہاتھ میں مروڑ رہا تھا تیسرے کا چہرہ چوتھے آدمی کے چہرے پر لگ گیا ...

مزید پڑھیے

آتش دان

آتش دانوں سے اپنے دہکتے ہوئے سینے نکال لو ورنہ آخر دن آگ اور لکڑی کو اشرف المخلوق بنا دیا جائے گا

مزید پڑھیے

نثری نظم

شاعری جھنکار نہیں جو تال پر ناچتی رہے گیا وقت جب خواجہ سرا ٹوٹی کمان ہوتے تھے اور موت پر تالیاں پیٹا کرتے تھے پازیب پہن کر میدان میں نہیں بھاگ سکتے یہ کہیں بھی ساتھ چھوڑ سکتی ہے غار میں چنی چنائی جگہ ہے دار ہے با مشقت قیدی ہے لیکن نظم میں نہ غار ہے نہ دار ہے نہ مشقت ہے پھر بھی ایک ...

مزید پڑھیے

موت کی تلاشی مت لو

بادلوں میں ہی میری تو بارش مر گئی ابھی ابھی بہت خوش لباس تھا وہ میری خطا کر بیٹھا کوئی جائے تو چلی جاؤں کوئی آئے تو رخصت ہو جاؤں میرے ہاتھوں میں کوئی دل مر گیا ہے موت کی تلاشی مت لو انسان سے پہلے موت زندہ تھی ٹوٹنے والے زمین پر رہ گئے میں پیڑ سے گرا سایہ ہوں آواز سے پہلے گھٹ نہیں ...

مزید پڑھیے

کیسے ٹہلتا ہے چاند

کیسے ٹہلتا ہے چاند آسمان پہ جیسے ضبط کی پہلی منزل آواز کے علاوہ بھی انسان ہے آنکھوں کو چھو لینے کی قیمت پہ اداس مت ہو قبر کی شرم ابھی باقی ہے ہنسی ہماری موت کی شہادت ہے لحد میں پیدا ہونے والے بچے ہماری ماں آنکھ ہے قبر تو مٹی کا مکر ہے پھر پرندے سورج سے پہلے کسی کا ذکر کرتے ہیں آواز ...

مزید پڑھیے

بدن سے پوری آنکھ ہے میری

بدن سے پوری آنکھ ہے میری جاؤ جانماز سے اپنی پسند کی دعا اٹھا لو ہر رنگ کی دعا میں مانگ چکی باغباں دل کا بیج تیرے پاس بھی نہ ہوگا دیکھو دھوئیں میں آگ کیسے لگتی ہے میرے پیرہن کی تپش مٹی کیسے جلاتی ہے بدن سے پوری آنکھ ہے میری نگاہ جو تنے کی ضرورت ہی کیا پڑی ہے میری بارشوں کے تین رنگ ...

مزید پڑھیے

پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے

کسی پرندے کی رات پیڑ پر پھڑپھڑاتی ہے رات پیڑ اور پرندہ اندھیرے کے یہ تینوں راہی ایک سیدھ میں آ کھڑے ہوتے ہیں رات اندھیرے میں پھنس جاتی ہے رات تو نے میری چھاؤں کیا کی جنگل چھوٹا ہے اس لئے تمہیں گہری لگ رہی ہوں گہرا تو میں پرندے کے سو جانے سے ہوا تھا میں روز پرندے کو دلاسہ دینے کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 196 سے 960