شاعری

اپنی ہم زاد کے لیے

یہ مرے رو بہ رو کون ہے؟ جسم و جاں چیتھڑے کرنے والی مری جاں تو مری کون ہے؟؟؟ تیری آہیں مری تیری چیخیں مری تیرے زخموں کی آہٹ مرے جسم پر درد سہہ کے مجھے زندگی دینے والی مری جاں تو مری کون ہے؟ جبر تجھ کو ملے خوف اس کوکھ میں ہجر تو نے پئے زہر اس سوچ میں ریسماں باندھ کر پنکھڑی دینے والی ...

مزید پڑھیے

بستر اور باورچی

ہزار صدیوں کے سفر کے باوجود بنت حوا کا یہ سفر تو ازل سے اب تک تمہاری خواب گاہ اور دالان کے درمیان قید کر دیا گیا ہے نہ جانے کتنے قدم ہیں جو تمہارے بستر میں حنوط ہو کر پڑے ہوئے ہیں کتنی منزلیں ہیں جو تمہارے بستر پر باورچی خانے کے درمیان دفن ہو چکی ہیں

مزید پڑھیے

بنت حوا

بنت حوا ہوں میں یہ مرا جرم ہے اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے میں تماشا نہیں اپنا اظہار ہوں سوچ سکتی ہوں سو لائق دار ہوں میرا ہر حرف ہر اک صدا جرم ہے اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے مجھ میں احساس کیوں ہو کہ عورت ہوں میں زندگی کیوں لگوں؟ بس ضرورت ہوں میں یہ مری آگہی بھی مرا جرم ہے اور پھر ...

مزید پڑھیے

حیرت کدہ

گریباں سے پہلے یہ گردن تو گردن سے پہلے یہ مہروں کی خود پر چڑھائی قلم روشنائی سے پہلے یہ انگلی تو انگلی سے پہلے رگوں کی ترائی صداؤں سے پہلے دہن یہ زباں اور ان سے بھی پہلے یہ عصبی کڑھائی تماشے سے پہلے یہ پتلی سفیدی کی عریاں طنابیں تو اس سے بھی پہلے اندھیری لکیروں کی کھائی سفر تجھ سے ...

مزید پڑھیے

شیری کا نوحہ

مجھے آج پھر اپنے پاس سے مردہ گوشت کی بو آ رہی ہے مری کوکھ ایک بار پھر خون کے آنسوؤں سے پاک کر دی گئی ہے اور ہوا سے لوریوں کی پہلی چیخ چھین کے میری آواز میں دفن کر دی گئی ہے میرے آسمان نے گہری نیند سے چونکنے کے بعد پھر سے آنکھ موند لی ہے میرے فرہاد نے اپنا عشق ثابت کرنے کے لیے میرے ...

مزید پڑھیے

خلا میں لڑھکتی زمین

زمیں بانجھ چہروں کے ہمراہ چلتی چلی جا رہی ہے خلا اپنی برفاب سی وسعتوں میں زمانے اگلتا ہوا چل رہا ہے سفر زاویوں کی پناہوں میں بیٹھا ہوا خواب میں ڈھل رہا ہے زمیں بانجھ چہروں کے ہمراہ چلتی چلی جا رہی ہے ہوا اپنی سانسوں کے بارود میں خواہشوں کو الٹتی ہوئی بہہ رہی ہے زمیں بانجھ چہروں ...

مزید پڑھیے

وقت کا نوحہ

میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے صحن میں دھواں پھیلتا جا رہا ہے گھروں کی چلمنوں سے اس پار باہر بیٹھی ہوا رو رہی ہے نظام سقا پیاس کی اوک کے سامنے سبیل لگائے ہوئے العطش بانٹتا ہے زمانہ پیاس کے نوحے پر ماتمی دف بجا رہا ہے ڈبلیو ٹی او اناج کی گٹھریوں پہ بیٹھی بھوکوں کو امن کے حروف سے ...

مزید پڑھیے

آگہی

چند سمجھوتوں کا لامتناہی سلسلہ ہے جو مجھے میرے شعور کے انعام میں دیا جا رہا ہے زندگی صرف اک طویل ہجر کا ذائقہ ہے جو مجھے عشق کے الزام میں دیا جا رہا ہے شاعری جذبوں کو لفظ سے گانٹھ کر مار دینے کا حوصلہ ہے جو مجھے بندگی کے نام پر دیا جا رہا ہے

مزید پڑھیے

آمریت کا قصیدہ

بھاری بوٹوں تلے روندتے جائیے کونپلوں کے بدن آہٹوں کے دیے بھاری بوٹوں تلے روندتے جائیے ریسماں باندھ کر خواب ہنستے رہے حبس کی تال پر سانس چلتے رہے چاہئے آپ کو اور کیا چاہئے بھاری بوٹوں تلے روندتے جائیے شام لو کو لیے رات سہنے گئی درد کی اوڑھنی خاک پہنے گئی ڈھانپئے شوق سے ہر کرن ...

مزید پڑھیے

عجائب خانہ

مرا وجود دیکھتے ہی دیکھتے ایک عجائب خانے میں ڈھل رہا ہے کہ میرے لا شعور نے آثار قدیمہ کی نادر عنایتوں کو چھپا کے مجھ سے مجھ ہی میں جمع کر دیا ہے یہاں کہیں کسی ریک میں مرے حنوط شدہ حرف اور لمحے پڑے ہوئے ہیں جنہیں نہ جانے کون سا مسالہ لگا دیا گیا ہے کہ مرے جسم کی حرارت سے بھی وہ گل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 193 سے 960