شاعری

خاتون خانہ

میں اپنی اولاد کے لئے دودھ کی ایک بوتل اپنے صاحب کے لئے تسکین گھر کے لیے مشین اور اپنے لیے ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں میرا گھر جہاں مجھے رات اور دن انتظار کے دہکتے ہوئے لمس لپیٹ کر سونا پڑ رہا ہے خیال کی ادھ سلی باس سے کلائیوں کے گجرے گوندھ کر سنگھار کرنا پڑ رہا ہے تنہائیوں کے ...

مزید پڑھیے

فنا کی انجمن سے

بڑی گھٹن ہے سوال ہستی تو ہانپتے ہیں نظر کی عریانیاں ملی ہیں کسے کہوں کہ یہ مرے جذبوں کا باسی پن ہے بڑی گھٹن ہے جو سر بکف تھے، گرے پڑے ہیں جو گل شفق تھے، وہ نالیوں سے ابل رہے ہیں کسی جہنم کی سی جلن ہے بڑی گھٹن ہے کوئی تو روزن کوئی دریچہ کہیں دراڑوں سے کوئی رستہ فنا کی لمحوں کی ...

مزید پڑھیے

گمشدہ لمحے کی تلاش

کسی آنکھ کے پپوٹوں کے کھلنے اور بند ہونے کے درمیان ایک روشنی کا آسمان اپنی چھب دکھا کے کہیں گم ہو گیا ہے اور میں کبھی اپنی آنکھ کی پتلیوں کے جاگتے ہوئے اندھیروں میں اسے ڈھونڈتی ہوں اور کبھی کھلی آنکھ کے قلم سے لکھے گئے عکس میں اسے تراشتی ہوں مگر وہ روشنی کا آسمان مجھے مل نہیں رہا ...

مزید پڑھیے

آگہی کا جال

مرے اپنے حروف کا جال مری روح پر تنگ ہوتا جا رہا ہے اور اب تو مری روح کی ہڈیاں چٹخ رہی ہیں اور سراب آگہی کے سامنے سر پٹخ رہی ہیں ''سکوت'' کے حروف جنہوں نے میری سماعتوں سے شور کا لہو نچوڑ لیا ہے یہ ''روشنی'' کے حروف کہ جنہوں نے مری آنکھ کے کانچ کے دیوں میں رکھا ہوا تیل پی لیا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

کاش

کاش سمجھوتوں کو کانچ کی چوڑیوں کی طرح پیس کر کھایا جا سکتا تنہائی کے زہر کو شیو کے نیل کنٹھ کی طرح گلے میں رکھ کر جیا جا سکتا کاش پیاس کو اسنووہائٹ کے نصف سیب کی طرح حلق میں دبا کر موت کی نیند کا ابدی وقفہ لیا جا سکتا مگر یہ سمجھوتے تو میرے خون کو زہر کی طرح نیلا کرتے جا رے ہیں میری ...

مزید پڑھیے

سائے کا اضطراب

آج تم تک پہنچ کر تمہاری آنکھوں کے آئینوں میں جھانک کر خود کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ میرا جسم تو تم تک آتے آتے کہیں بیچ رستے میں گم ہو گیا تھا میرا دل!! کسی اور سینے میں دبا دیا گیا تھا مرے ہونٹ سرخیوں کی تہوں کے نیچے پڑے پڑے سیاہ ہو چکے تھے میری خوشبو جو میں تمہارے لیے لا رہی تھی کسی ...

مزید پڑھیے

وقت بھی مرہم نہیں ہے

مجھے سانپ سیڑھی کے اس کھیل سے آج گھن آ رہی ہے مرے دل کے پانسے پہ کھودے گئے یہ عدد مجھ کو محدود کرنے لگے ہیں بساط زیاں پر مرے خواب کا ریشمی اژدہا چال کے پیرہن کو نگلنے لگا ہے میری جست کی سیڑھیاں سوختہ ہڈیوں کی طرح بھربھری ہو کے جھڑنے لگی ہیں کھیل ہی کھیل میں سبز چوکور خانے کسی قبر ...

مزید پڑھیے

پرائے اجنبی آنگن میں

ڈالر اور درہم کے لیے سینچا گیا ہوں یہ مرے سبزے کی خوبی تھی جبھی تو مجھ کو دھرتی سے نکالا مل گیا تھا اور اب اس اجنبی بوتل میں میرے سبز رہنے کے ہنر کو آزمایا جا رہا ہے مرے اپنے وطن کی خاک سے مجھ کو بچایا جا رہا ہے چھپایا جا رہا ہے مجھے ویران کر کے گھر سجایا جا رہا ہے غلامی اور ...

مزید پڑھیے

صداؤں کا سمندر

صداؤں کا سمندر میرے جسم میں ایک صداؤں کا سمندر ٹھہر گیا ہے یہ میری آنکھ کسی خواب کے پیہم چٹخنے کی گونج دے رہی ہے میں اپنی کوکھ میں سے خاموشیوں کے ہمکنے کی آواز سن رہی ہوں اور پھر! میری انگلی کی پوروں سے میرے حرف بہے جا رہے ہیں میرے خون کی روانیاں جسم کی نالیوں میں سے کسی بپھرتی ...

مزید پڑھیے

بے پروں کی تتلی

یہ جھاڑن کی مٹی سے میں گر رہی ہوں یہ پنکھے کی گھوں گھوں میں میں گھومتی ہوں یہ سالن کی خوشبو پہ میں جھومتی ہوں میں بیلن سے چکلے پہ بیلی گئی ہوں توے پر پڑی ہوں ابھی پک رہی ہوں یہ ککر کی سیٹی میں میں چیختی ہوں کسی دیگچی میں پڑی گل رہی ہوں مگر جی رہی ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 192 سے 960