شاعری

آخری کوس

آخری کوس مجھے آج ہی طے کرنا ہے اور اس لمبے سفر کا یہ کڑا کوس مجھے اس قدر لمبا بڑھانا ہے کہ اب سے پہلے جو بھی کچھ گزرا ہے ماضی میں اسے پھر اک بار حاضر و ناظر و موجود سا میں جھیل سکوں عرصۂ غائب و معدوم سے اس لمحے تک وادیاں جھرنے چراگاہیں مویشی پنچھی کھیت کھلیان چھپر کھٹ مرے گھر کا ...

مزید پڑھیے

خون کی خوشبو

خون کی خوشبو اڑی تو خودکشی چیخی کہ میں ہی زندگی ہوں آؤ اب اس وصل کی ساعت کو چومو مر گئی تھی جیتے جی میں اور تم جینے کی خاطر لمحہ لمحہ مر رہے تھے خود مسیحا بھی تھے اور بیمار بھی تھے (اور خود اپنی جراحت کے لیے تیار بھی تھے) آؤ، اب جی بھر کے سونگھو خون کی خوشبو کہ میں ہی زندگی ہوں میرے ...

مزید پڑھیے

لہو بولتا ہے 4

میں اپنے خوں کو جواب دیتا ہوں نچلا حصہ مرے بدن کا جو ذات بھی کائنات بھی تھا مرا ہی اپنا اٹوٹ حصہ تھا میں ہی تھا میرا اپنا میں تھا اگر میں حیواں کی پہلی منزل سے ارتقا کے ہزار زینوں پہ چڑھتا چڑھتا وجود کی ایک ایک منزل پھلانگ کر عہد منصبی کے کسی بھی آئندہ کل کی جانب رواں دواں ہوں تو ...

مزید پڑھیے

آدھا ادھورا شخص

ہمارا روز کا معمول تھا، سونے سے پہلے باتیں کرنے اور جھگڑنے کا گلے شکوے کہ جن میں اگلی پچھلی ساری باتیں یاد کر کے روتے دھوتے تھے کبھی ہنستے بھی تھے تو صرف کچھ لمحے ذرا سی دیر میں ویسا ہی جھگڑا اور وہی طعنے وہی سر پیٹنا، آنسو بہانا، چیخنا، رونا یوں ہی روتے ہوئے خوابوں کے دوزخ ...

مزید پڑھیے

شعور کی تہہ کے پھاٹکوں پر

میں جانتا ہوں شعور کی تہہ کے پھاٹکوں پر جو قفل ہے، وہ کلید بھی ہے میں جانتا ہوں کہ پھاٹکوں کو میں کھول سکتا ہوں، جب بھی چاہوں مگر مجھے اپنے جسم کو بھینٹ کرنا ہوگا کٹانا ہوگا بدن کو اپنے کہ جوں ہی پھاٹک کھلیں گے مجھ کو بشر سے حیوان بننا ہوگا کروڑوں برسوں کے ارتقا کو پھلانگ کر ...

مزید پڑھیے

فَتَکلّمُواَ تُعرَفُوا

طبیب بھنبھنا گیا میں سب علاج کر کے تھک گیا ہوں پر یہ بچہ بولتا نہیں زبان اس کی تندرست ہے کہیں بھی کوئی رخنہ، کوئی نقص، میں نہیں سمجھ سکا بدن بھی تندرست ہے مگر یہ نونہال چار سال کا اشاروں سے ہی بات کرنا جانتا ہے، کیا کروں؟ اسے کسی سپیشلسٹ کے پاس لے کے جائیے یہ میں تھا چار سال ...

مزید پڑھیے

وش کنیا

کس جٹا دھاری شو سے سیکھا تھا اور کب اب یہ بات یاد نہیں ناگ ودیا کا گان سانپوں کو بس میں کرنے کا فن ہمارا تھا ناگ سوامی تھے زہر کو تریاق میں بدلنے کا علم رکھتے تھے ڈر سے ینوڑھائے اپنے ناگ پھنی سانپ خود مانگتے تھے ہم سے پناہ ناگ ودیا کا سارا گیان لیے ہم کمال ہنر کے مالک تھے لیکن اک ...

مزید پڑھیے

باد خزاں کو کیا پروا ہے

اکتوبر ہے کہرے کی اک میلی چادر تنی ہوئی ہے اپنے گھر میں بیٹھا میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں باہر سارے پیڑ دریدہ پیلے یرقانی پتوں کے مٹ میلے ملبوس میں لپٹے نصف برہنہ باد خزاں سے الجھ رہے ہیں حرف حرف پتوں کا ابجد پت جھڑ کی بے رحم ہوا کو سونپ رہے ہیں میں بھی الف سے چلتا چلتا اب یائے ...

مزید پڑھیے

انی کُنُت مِنَ الظَّالمَین

کہا کس نے ستم کے دن کبھی دائم نہیں رہتے خدا کو ماننے والا وہ شاعر جو مرے اندر نہاں ہے پوچھتا ہے کہا کس نے کہ استبداد اک ضمنی حقیقت ہے کہا کس نے تشدد بربریت کم بقا کچھ سانحے سے ہیں ہمیشہ جو نہیں رہتے فقط نیرنگ ہیں کچھ دن رہیں گے اور پھر داد و ستد انصاف کی فرما روائی لوٹ آئے گی مگر ...

مزید پڑھیے

کرونا وائرس کے بعد

وہ جو ہر روز اپنی کھڑکی سے دیکھتا ہے کہ دور سے کوئی راہرو آئے اور وہ اس کو گھر میں مدعو کرے محبت سے بیٹھ کر گفتگو کرے اس کو اس حقیقت کا کوئی علم نہیں؟ شہر کی موت ہو چکی اور وہ اپنی کھڑکی سے جھانکنے والا اک اکیلا ہے ساری دنیا میں نسل کا آخری نمائندہ

مزید پڑھیے
صفحہ 186 سے 960