تیری تصویر
تیری تصویر تو ڈھونڈے سے مجھے مل نہ سکی ہاں تیرے خط تھے میرے پاس امانت کی طرح ایک گمنام سی خاموش محبت کی طرح آج کی رات میری جان وہ پانی برسا چھت ٹپکتے ہی ترے ہاتھ کی اک اک تحریر لقمۂ آب ہوئی زندگی خواب ہوئی
تیری تصویر تو ڈھونڈے سے مجھے مل نہ سکی ہاں تیرے خط تھے میرے پاس امانت کی طرح ایک گمنام سی خاموش محبت کی طرح آج کی رات میری جان وہ پانی برسا چھت ٹپکتے ہی ترے ہاتھ کی اک اک تحریر لقمۂ آب ہوئی زندگی خواب ہوئی
اور میں سوچتا ہوں یوں ہی عمر بھر ایک کمرے میں شطرنج کی میز پر تم مسلسل مجھے مات دیتی رہو میں مسلسل یوں ہی مات کھاتا رہوں اپنی تقدیر پر مسکراتا رہوں
آنکھ بوجھل ہوئی زرد پتے ہوا میں بکھرنے لگے میں تری سمت آگے بڑھا اور پھر یوں لگا جیسے یک دم اندھیرا سا چھانے لگا چار سو دیکھتے دیکھتے گھپ اندھیرا ہوا میں تجھے دیکھتا رہ گیا تیری تصویر جب دیکھتے دیکھتے گھپ اندھیرے میں کھونے لگی تو بنا وقت ضائع کئے احتیاطاً تجھے میں بھی اپنے تصور ...
میں اپنے خوں کو جواب دیتا ہوں نچلا دھڑ میرے ساتھ رہنے دو میرے حصہ ہے میرا میں ہے کہ اپنے حیواں کی پہلی منزل سے چلنے والا کہ اپنے انساں کی سیڑھیوں تک پہنچنے والا مرا ہی جوہر تھا شہد کا قطرہ قطرہ حیواں تھا اپنے انساں کی سیڑھیوں سے بھی اور اونچا وہ منصب نسل جو فرشتوں سے بالاتر ہے جو ...
میں اگر شاعر تھا مولا تو مری عہدہ برائی کیا تھی آخر شاعری میں متکفل تھا تو یہ کیسی نا مناسب احتمالی کیا کروں میں بند کر دوں اپنا باب لفظ و معنی اور کہف کے غار میں جھانکوں جہاں بیٹھے ہوئے اصحاب معبود حقیقی کی عبادت میں مگن ہیں اور سگ تازی سا چوکیدار ان کے پاس بیٹھوں وحدت و توحید کا ...
آج کا دن اور کل جو گزر گیا یہ دونوں میرے شانوں پر بیٹھے ہیں کل کا دن بائیں کندھے پر جم کر بیٹھا میرے بائیں کان کی نازک لو کو پکڑے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیے جاتا ہے ''میں زندہ ہوں! بائیں جانب کندھا موڑ کے دیکھو مجھ کو'' آج کا دن جو دائیں کندھے پر آرام سے پاؤں پھیلا کر بیٹھا ہے بار بار ...
زندہ رہنا سیکھ کر بھی میں نے شاید زندگی کو درد تہہ تک پی کے جینے کی کبھی کوشش نہیں کی! پیاس تھی پانی نہیں تھا صبر سے شکر و رضا کے بند حجروں میں بندھا بیٹھا رہا اور حلق میں جب پیاس کے کانٹے چبھے تو سہہ گیا میں! میرے گھر والوں نے، میرے بیوی بچوں نے بھی جلتے ہونٹ سی کر پیاس کے کانٹوں کو ...
''ناگہاں'' اور ''بے نہایت'' سے اگر پیچھے ہٹو گی تو تجھے معلوم ہوگا ناگہاں تو میں ہوں، لیکن کون تھا وہ بے نہایت کوئی پچھلا جس نے تجھ کو مجھ سے پہلے تیری کچی عمر میں یوں چیر کر زخمی کیا تھا تو تڑپتی رہ گئی تھی اور یہ کڑوا کسیلا زہر سوتے جاگتے خوابوں میں امرت جان کر پیتی رہی ہے کیوں ...
میں سوچتا ہوں کہ میرے تن کا یہ نچلا حصہ جو معصیت کے مہیب غاروں میں گر گیا تھا جسے کوئی دیو عین عہد شباب میں اپنے غار کی تیرگی میں محبوس کر گیا تھا جسے گنہ کا گھنا اندھیرا خود اپنے خوں میں امڈتی آتش کا رقص گردش کا شور و غوغا وہ عشق پیچاں کی بیل جسے گٹھے ہوئے خواب قہوہ رنگت گداز کو ...
بلڈنگیں ذیشان اونچی شاہراہوں کے کناروں پر کھڑی تھیں شاہراہیں آتی جاتی گاڑیوں کاروں سے پر تھیں قہوہ خانوں پارکوں گلیوں محلوں اور گھروں میں زندگی معمول کی رفتار سے چلتی تھی لیکن بحر کے ساحل کی گولائی سے ہم آغوش میلوں تک یہ آبادی کا مسکن اک خموشی کی ردا اوڑھے ہوئے تھا گنگ بے آواز ...