شاعری

قدرت کے تماشے

پھول کھلے ہیں رنگ برنگے گملوں میں جو بیج تھے بوئے ان میں سے کچھ پودے پھوٹے کچھ کو گملوں ہی میں چھوڑا کچھ کو کیاری میں جا بویا ان پہ پڑیں پانی کی پھواریں جھوم اٹھی پودوں کی قطاریں روز بڑھیں وہ انگل انگل پھیلیں پتیاں ابھرے ڈنٹھل ان میں سے پھر کلیاں پھوٹیں رنگوں کی پچکاریاں ...

مزید پڑھیے

ٹوٹا تارا

رات کو ٹوٹا ایک ستارہ اوپر سے لڑھکا بیچارہ کرتا تھا دنیا کا نظارہ چکنا تھا چھجے کا کنارا پھسلا وہ شامت کا مارا چھوٹ گیا جنگلے کا سہارا رات کو ٹوٹا ایک ستارا اوپر سے لڑھکا بیچارہ کوئی یہ سمجھے غوطہ مارا آدھی رات بجے تھے بارہ سوتا ہے جب عالم سارا رات کو ٹوٹا ایک ستارا اوپر سے ...

مزید پڑھیے

محبت

محبت پر فدا سارا زمانہ محبت کا ہر اک دل میں ٹھکانہ محبت رات دن صدمے اٹھانا مگر لب پر کبھی شکوہ نہ لانا محبت ہمت دل آزمانا محبت آفتوں میں مسکرانا محبت بارش لعل بدخشاں محبت خون کے آنسو بہانا محبت نالہ و ماتم بظاہر مگر باطن میں عشرت کا ترانا محبت جذبۂ ایثار یکسر محبت زندگی پر کھیل ...

مزید پڑھیے

جگنو اور بچہ

جگنو ادھر آؤ اے میرے نادان بچے کروں گا میں دو چار باتیں تمہیں سے ہو مصروف کیوں کھیلنے میں تم ایسے سنو تو سہی کچھ پڑھو گھر پہ جا کے نہیں پیارے بچے یہ دن کھیلنے کے بچہ میں ابا کا جانی میں اماں کا پیارا نہیں رنج میرا کسی کو گوارا نہ جاؤں گا پڑھنے یہ ہے کیا اشارا میں کھیلوں گا تیرا ...

مزید پڑھیے

برسات

برکھا آئی بادل آئے اوڑھے کالے کمبل آئے ٹھنڈی ٹھنڈی آئیں ہوائیں کالی کالی چھائیں گھٹائیں گرمی نے ڈیرا اٹھوایا دھوپ پہ سایہ غالب آیا بادل سے امرت جل برسا امرت جل کیسا کومل برسا ہو گئی زندہ مردہ کھیتی ڈھل گئے ذرے چمکی کھیتی دریا اور سمندر ابھرے تازہ موجیں لے کر ابھرے باغوں میں ...

مزید پڑھیے

دعا

دعا اے راجہ پرجا کے مالک اے ساری دنیا کے مالک اے دونوں عالم کے داتا تیرا نہیں کسی سے ناتا کوئی نہیں ہے تیرا ہمسر تو ہے سب سے بالا برتر ہم ہیں تیرے در کے بھکاری شرم ہے تیرے ہاتھ ہماری جس کو چاہے عزت دے دے جس کو چاہے ذلت دے دے عزت ذلت کا تو مالک دوزخ جنت کا تو مالک مالک تو دونوں عالم ...

مزید پڑھیے

شام کی دعا

شام ہوئی اور سورج ڈوبا رات نے اپنا خیمہ ڈالا دھوپ کہاں اب ہے اندھیارا سماں ہے ٹھنڈا پیارا پیارا دن بھر خوب پڑھے اور کھیلے دیکھے اس دنیا کے میلے یاد کرو سب دن کی باتیں کیا کیا کام کیے تھے دن میں کس کو مارا کس کو لوٹا لڑنے میں کس کا سر پھوٹا کام کیا ہے نیک بھی کوئی تم نے دعا لی ایک ...

مزید پڑھیے

مزدور

گرد چہرے پر پسینے میں جبیں ڈوبی ہوئی آنسوؤں میں کہنیوں تک آستیں ڈوبی ہوئی پیٹھ پر نا قابل برداشت اک بار گراں ضعف سے لرزی ہوئی سارے بدن کی جھریاں ہڈیوں میں تیز چلنے سے چٹخنے کی صدا درد میں ڈوبی ہوئی مجروح ٹخنے کی صدا پاؤں مٹی کی تہوں میں میل سے چکٹے ہوئے ایک بدبو دار میلا ...

مزید پڑھیے

گوتم بدھ

حسن جب افسردہ پھولوں کی طرح پامال تھا جب محبت کا غلط دنیا میں استعمال تھا بے خودی کے نام پر جب دور جام بادہ تھا جب تجلیٔ حقیقت سے ہر اک دل سادہ تھا زیست کا اور موت کا ادراک دنیا کو نہ تھا ظلم کا احساس جب بے باک دنیا کو نہ تھا بند آنکھیں کر کے اس دنیا کے مکروہات سے تو نے حاصل کی ضیائے ...

مزید پڑھیے

میری ہولی

کاش حاصل ہو حقیقی زندگی کا ایک دن سر خوشی کا ایک لمحہ یا خوشی کا ایک دن کر دیا ہے شورش عالم نے دیوانہ مجھے ہے بساط دہر وحشت ناک ویرانہ مجھے اک نئی دنیا کی خلقت ہے مری تخئیل میں جو معاون ہو سکے انسان کی تکمیل میں اہتمام زندگی جس میں بطور خاص ہو آسماں جس کا محبت ہو زمیں اخلاص ...

مزید پڑھیے
صفحہ 183 سے 960