پرندہ
بہت سفاک ہو تم بھی محبت ایسے کرتے ہو کہ جیسے گھر کے پنجرے میں پرندہ پال رکھا ہو
بہت سفاک ہو تم بھی محبت ایسے کرتے ہو کہ جیسے گھر کے پنجرے میں پرندہ پال رکھا ہو
کسی نے یہ بتایا تھا کہ بس تم آنے والے ہو بہت اچھا کیا تم نے مرا یہ بوجھ کم ہوگا تمہاری چند چیزیں تھیں ذرا ٹھہرو مجھے کچھ یاد کرنے دو ہوں ہاں وفا کی بے اثر قسمیں محبت کے کئی دعوے بہت بے ربط باتوں کے کئی ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ہنسی کا کھوکھلا پن بھی پرانے سے کئی جھوٹے بہانوں کے ذرا کچھ ...
میں اپنی عدالت میں مجرم کھڑی ہوں مجھے میرے جذبوں مری خواہشوں نے گرفتار کر کے سر عام ذلت سے دو چار کر کے یہ دعویٰ کیا ہے انہیں قید رکھا اور اکثر انہیں حبس بے جا میں رکھ کر زد و کوب کر کے انہیں مار دینے کی حد تک اذیت بھی دی ہے میں اپنی عدالت میں مجرم کھڑی ہوں
دادی اماں ہمیں سناؤ اب اک نئی کہانی جس میں ظالم راجہ نہ ہو نہ ہی ظالم رانی جس میں بھوت پریت دیو اور جناتوں کی بات نہ ہو جس میں شہزادی کی خاطر شہزادے کی مات نہ ہو جس میں کوئی لوبھی لٹیرا سات سمندر سے نہ آئے جس میں سونے کی چڑیا کے پنکھوں کو نوچا نہ جائے آج کے یگ میں ان قصوں کی بات ہوئی ...
مگر ان کے اندر جراثیم ہیں روح کی جھریوں کو جھلس دینے والے جنہیں زنگ آلود چہرے فقط کاسٹک اور تیزاب سے صاف کرنا سکوں بخشتا ہے جن کی تھیوری سگریٹوں کے دھوئیں چائے کی پیالیاں کچھ نہ کچھ کر گزرنے کی باتیں مگر کچھ نہ کرنے کی عادت پہ موقوف ہے سوچ میں روشنی ہے عمل نفرتوں کے اندھیرے کی ...
محبت وصل و ہجراں کی عجب سی اک کہانی ہے کہ جیسے رائگانی ہے کسی بھی خواب کو تعبیر کا در تک نہیں ملتا جو دل پہ زخم لگتا ہے نہیں سلتا تڑپتا ہے ہر اک دل کوئی پل راحتوں کا مل نہیں پاتا کسی کی یاد آنکھوں کو جلا کے جب نکلتی ہے تو روح تک تڑپتی ہے
ڈھیروں شوخ سے لمحے ہنس مکھ سی کئی گھڑیاں یاد میں اب تک زندہ ہیں ان گنت سے پل ملن کے کچھ انمول سے وہ وعدے ترے شکوے اور ارادے ساتھ میں بیتے شام و سحر قسمت کے وہ زیر و زبر باقی سب بے مول ہوئے پل یہ بس انمول ہوئے لمحے تیری یادوں کے یاد میں اب تک زندہ ہیں دن بھر تجھ سے باتیں کرنا پھر ...
دل کے مندر میں ہوں ایک مورت ہوں میں میں کہ پر کیف ہوں خوب صورت ہوں میں ماں کی ممتا ہوں میں ایک عورت ہوں میں مجھ کو سمجھو ذرا بنت حوا ہوں میں اک قصیدہ ہوں میں ایک نوحہ ہوں میں ایک عورت ہوں میں ایک حرمت ہوں میں گلشن زیست میں ایک فرحت ہوں میں میں ازل سے محبت کا عنوان ہوں حسن فطرت کی ...
دوست ہیں اپنے بھائی بھلکڑ باتیں ان کی ساری گڑبڑ راہ چلیں تو رستہ بھولیں بس میں جائیں تو بستہ بھولیں پورب جائیں پچھم پہنچیں منزل پر اپنی کم پہنچیں ٹوپی ہے تو جوتا غائب جوتا ہے تو موزہ غائب پیالی میں ہے چمچہ الٹا پھیر رہے ہیں کنگھا الٹا کام ہے ان کا سارا الٹا اور تو اور پجامہ ...
بولتی ہے کیا ٹر ٹر باتونی بٹو چپ نہیں رہتی لحظہ بھر باتونی بٹو رک نہیں سکتی ایک ہی سانس میں بولتی جائے الٹا سیدھا بے مطلب جو منہ میں آئے بھائی کہیں میں پڑھتا ہوں مت دھیان بٹاؤ باجی بولیں بھاگو میرے کان نہ کھاؤ بولے کوئی کسی سے تو یہ بیچ میں ٹپکے بات کرے تو اچکے مٹکے آنکھیں ...