شاعری

نظم

ڈھیر ساری ریت کے نیچے دبی ایک روح دیر گئے ریت ہٹانے کی کوشش میں اپنے ناخن توڑ بیٹھی یوں تو کچھ توڑنا بھی اچھا لگتا ہے جو ٹوٹنے سے بچ سکتا ہے قتل ہو جاتا ہے ویسے قتل ہونا ہی جینے کا سچ ہے اور اس لمحے کا سچ یہی ہے کہ صدیوں بعد ایسا واقعہ ہوا تھا کہ ریت کے ذرے اس کی آنکھوں میں چبھ جانے ...

مزید پڑھیے

نظم

پڑھ بھی رہے ہو یا یوں ہی میں اپنے ورق پلٹ رہی ہوں کسی بھی اور صورت میں میں تمہیں سالم نہیں ملوں گی آخری بار تمہاری ہاتھ کی لکیریں مجھے چھو رہی ہیں پہلی بار کسی خواہش نے مجھے سہلایا ہے کہ میں تمہارے من میں مجلد ہوں آخری یا پہلے پنے کے بدن سے کوئی لفظ پھیل بھی سکتا ہے مجھے میری من کی ...

مزید پڑھیے

نظم

میں جسم پہ ٹیلکم نہیں اپنے وجود پہ نمک چھڑکنا چاہتی ہوں صدیوں سے جمی ہوئی برف کاٹنا چاہتی ہوں کیا تم رشتوں کا الاؤ دہکا سکتے ہو میں اپنی آنکھوں کو آنسوؤں سے طلاق دلانا چاہتی ہوں جو صدیوں سے آنسو کاشت کر رہی ہیں کیا تم میری آنکھوں کو خواب دے سکتے ہو زمانے کے بکھیڑوں میں نہیں من کی ...

مزید پڑھیے

نظم

میرے دکھوں کی گونج تمہاری آواز سے سریلی ہے تمہاری گویائی اب لوٹی ہے جب من کے ساز سجائے تھے میں نے کہ تم بولو تو دھن بن جائے زندگی ایک گیت بن جائے تم تغافل میں پڑے رہے تمہاری آواز کی آرزو میں میں نے ابھی تک اپنے سفر کا آغاز نہیں کیا لیکن بے شمار دکھ میری جان سے گزرتے رہے رقص کرتے ...

مزید پڑھیے

نظم

اکثر سوچتی ہوں وہ ''میں'' کے وجود کی کھوکھلاہٹ تھی جس میں ''تو'' کی آواز گونجتی تھی میں اور تو گم گشتہ ذات پر بات ''میں'' اور ''تو'' کی کہاں میری اور تیری ہے میں جو میری کچھ نہیں لگتی اکثر سوچتی ہوں شاید تمہارا ''تو'' بھی تمہارا نہ تھا نہ جانے کتنے سجدوں کی تابانی چوکھٹ چوکھٹ بانٹ چکا ...

مزید پڑھیے

نظم

بہت دنوں سے وہ میری توہین کے بہانے ڈھونڈ رہا تھا بے لحاظ بے مروت دوسروں کی ذلت اس کے جینے کا جواز ہر تعلق کے تسمے کھول کر پھینک دینا اس کا مزاج اس کی آواز کی یخ ہوا سے جانے کون کون زخمی ہے میری خاموشی اس کی آواز کو جتنی بار چھوتی اس کا جلاپا اور بڑھ جاتا پھر نہ کسی سفر کی دھوپ نہ ...

مزید پڑھیے

جب تم نے مجھے

اپنے احاطے سے کھدیڑا تھا میرے ساتھ خدا بھی بے گھر ہو گیا تھا تم میری آنکھوں سے درماندہ خواب ہٹا سکتے تھے یا پھر میرے من کے آنسو پونچھ سکتے تھے میں یوں کشکول لیے اس شہر میں اپنائیتیں نہ مانگتی جہاں بھگوان بھی بھیک میں پیسے مانگتا ہے سڑکوں پے

مزید پڑھیے

نظم

زندگی کی سگریٹ تمہارے ساتھ پینے کی خاطر میں نے اپنے سوچنے کی صلاحیت تمہارے نام کر دی تھی اور وہ تمام مکھوٹے تمہارے کمرے میں سجا دئے تھے جنہیں تم نے عمر بھر شکار کیا تھا میں اپنی ساری خوشبوئیں خرچ کر کے تمہارا پورا درد خرید رہی تھی لیکن تم نے آنکھوں پر ہی نہیں دماغ پر بھی پٹی ...

مزید پڑھیے

نظم

کاش یوں ہوتا کہ وفا من کا فرن چاک کر کے فرار پاتی! بخیے ادھیڑ کر اودھم جوت کے من کو چھوڑ جاتی انتظار تمام کٹ جاتے من کی آنکھ لگ جاتی!

مزید پڑھیے

نظم

دعا کرنا میرے دوست ہم اپنے جنون کا خود ہی نوحہ نہ لکھیں دعا کرنا میرے دوست ایک دیوار جو اب بھی فصیل فتح ہے کوئی سیلاب بلا نہ بہا لے جائے دعا کرنا میرے دوست

مزید پڑھیے
صفحہ 177 سے 960