شاعری

نظام شمسی

اس نے اپنے سفید پپوٹے جھپکائے مٹیالی آنکھوں سے پورے آسمان کو تاکا اور سورج کو گود میں بھر کر بولا بڑی آگ ہے تجھ میں چل تجھے قطب شمالی میں دفن کرتے ہیں چھوٹے چھوٹے سیاروں کی بھی اپنی زندگی ہوتی ہے انہیں اپنے اپنے کرے پر گھومنے دے کس میں پانی ہے کس میں ہوا یہ دیکھنا تیرا کام ...

مزید پڑھیے

مان سروور

برسوں گزرے کسی جھیل میں پنکھ ڈبوئے ہوئے صدیاں بیتیں سر ساحل بانہہ پسارے ہوئے وہ مان سروور جس میں سحر کی ہلکی میٹھی دھوپ بھی ہے پیڑوں کا گھنیرا سایہ بھی اور قل قل کرتی خاموشی وہ جس کی راہیں درگم سی یہ ہنس اسے پا جائے اگر سب گرد وہیں دھو آئے گا سب درد ڈبو آئے گا وہیں وہ جس کی تمنا ...

مزید پڑھیے

منتظم

ہمارے جیسے عجیب لوگوں کی رنجشوں کا ملال کس کو زمین کرتی ہے بین آنسو فلک بہاتا ہے چپکے چپکے فضا میں سسکی سی تیرتی ہے ہیں سر بہ زانوں تمام منظر کہیں چھنی ہے کسی کی گڑیا کہیں پھٹی ہیں نئی کتابیں کسی کی شہ رگ پہ کوئی جھپٹا کسی کی گلیوں میں خون بکھرا سنا ہے ہم نے کہ اس شجاعت پہ تمغہ ملے ...

مزید پڑھیے

پاپ

برا نہ مانو نمازیں اب بھی یہیں پڑی ہیں پہ سجدہ گاہیں اٹھا کے جانے کدھر چلے تھے وہ صبح تم کو بھی یاد ہوگی الگ تھے گھر اور علیحدہ چولھے تمہارے پرچم کا رنگ الگ تھا وطن تمہارا نیا نیا تھا سبھی تو بانٹا تھا آدھا آدھا مگر پڑی ہیں وہاں پہ اب تک ہماری رادھا کی ایک پائل ہمارے کرشنا کی ایک ...

مزید پڑھیے

جہل

کسے کیا کہوں مرے لفظ ترسیل سے منحرف ہیں مری سوچ اپنی ہی پیچاک پہ گھومتی جا رہی ہے سنہرے روپہلے ہرے کاسنی کوزہ در کوزہ رنگوں میں لپٹے ہوئے میرے جذبات جن کو پروسوں تو سوچوں بہت تلخ ہے ذائقہ کون سمجھے محبت کی جادوگری کون پرکھے عداوت کی پاکیزگی کس کو سمجھاؤں ہجرت کی آوارگی کس کو ...

مزید پڑھیے

حسینؓ! تومی کوتھائے

کھنڈر سا شہر گھپ تاریک راتوں میں حسین ابن علیؓ کی یاد میں ماتم کناں رو رو کے کہتا ہے حسینؓ! تومی کوتھائے؟ مہابت جنگ کی یہ سرزمیں مرشد کی یہ بستی ترستی ہے سراج الدولہ کو ہر پل مساجد میں نمازی چڑیاں پابندی سے آتی ہیں شکستہ ہیں بھی تو ایماں کا محرابوں سے کیا مطلب عقیدوں کو ہے منبر ...

مزید پڑھیے

نشاۃ الثانیہ

یہ مانا کہ سارے مظاہر ہیں فطری مگر کوئی پوچھے ہواؤں سے بے مہر کیوں لاتی ہے پتے ہری ڈالیوں سے زمیں کروٹیں کیوں بدلتی ہے لاوے اگلتی ہے کیوں بستیاں راکھ ہوتی ہیں بہہ جاتے ہیں گاؤں کے گاؤں جب طیش میں دوڑتا ہے سمندر حدیں بھول کر بجلیاں ٹوٹ پڑتی ہیں کیوں خرمنوں پر گہن چاند سورج پہ ...

مزید پڑھیے

نئے یگ کا خواب

بد خوابی سے بچنے کے تھے کیسے کیسے نسخے بسم اللہ پھر پہلا کلمہ دوسرا کلمہ چاروں قل اور داہنی کروٹ سونا نیند تو اب آتی ہے کم کم اور اگر آ بھی جائے تو خواب کہاں اچھے آتے ہیں گہرا دریا ڈوبتی ناؤ ٹوٹے پل کے اکھڑے تختے روشندان پہ کالے شیشے دیواروں پر خون کے چھینٹے آگ دھواں بے چین ...

مزید پڑھیے

وہ کیوں آیا

صبا کے سبز خطے سے سنہرے موسموں کی آرزو لے کر دیار جاں میں کیوں آیا وہ جس کی آنکھ چمکیلے دنوں کا کھوج دیتی ہے جہاں رنگوں کی دھن میں آشنا منظر تحیر کے کھلی خواہش کے پانی میں ابھرتے تیرتے ہیں ڈوب جاتے ہیں وہ مجھ سے پوچھتا ہے سینکڑوں اسرار جینے اور مرنے کے نظر کا روشنی سے رابطہ کیا ...

مزید پڑھیے

اگر مجھے زباں ملے

اگر مجھے زباں ملے تو دل کی داستاں کہوں خود اپنے چارہ گر سے حال سعی رائیگاں کہوں کہوں کہ کیوں فسردگی ہے خیمہ زن بہار میں دھنک کے رنگ کیوں نہیں ہیں عکس شاخسار میں وہ ابر بن کے تیرتی ہیں کیوں فلک کے نیل میں گئے دنوں کی کشتیاں جو ہیں نظر کی جھیل میں الم نصیب دوستوں کو کیا ہوا وہ سبز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 165 سے 960