شاعری

جہت کی تلاش

یہاں درخت کے اوپر اگا ہوا ہے درخت زمین تنگ ہے (جیسے کبھی فراخ نہ تھی) ہوا کا کال پڑا ہے، نمی بھی عام نہیں سمندروں کو بلو کر فضاؤں کو متھ کر جنم دیے ہیں اگر چند ابر کے ٹکڑے جھپٹ لیا ہے انہیں یوں دراز شاخوں نے کہ نیم جاں تنے کو ذرا خبر نہ ہوئی جڑیں بھی خاک تلے ایک ہی لگن میں رواں نہ ...

مزید پڑھیے

ساتھی

میں اس کو پانا بھی چاہوں تو یہ میرے لیے نا ممکن ہے وہ آگے آگے تیز خرام میں اس کے پیچھے پیچھے افتاں خیزاں آوازیں دیتا شور مچاتا کب سے رواں ہوں برگ خزاں ہوں جب میں اکتا کر رک جاؤں گا وہ بھی پل بھر کو ٹھہر کر مجھ سے آنکھیں چار کرے گا پھر اپنی چاہت کا اقرار کرے گا پھر میں منہ توڑ کے تیزی ...

مزید پڑھیے

پاداش

کبھی اس سبک رو ندی کے کنارے گئے ہی نہیں ہو تمہیں کیا خبر ہے وہاں ان گنت کھردرے پتھروں کو سجل پانیوں نے ملائم رسیلے، مدھر گیت گا کر امٹ چکنی گولائیوں کو ادا سونپ دی ہے وہ پتھر نہیں تھا جسے تم نے بے ڈول، ان گھڑ سمجھ کر پرانی چٹانوں سے ٹکرا کے توڑا اب اس کے سلگتے تراشے اگر پاؤں میں ...

مزید پڑھیے

رات کے پچھلے پہر

شام ہی سے تھی فضا میں کسی جلتے ہوئے کپڑے کی بساند اور ہوا چلتی تھی جیسے اس کے زخمی ہوں قدم دیدۂ مہر نے ان جانے خطر سے مڑ کر جاتے جاتے بڑی حسرت سے کئی بار زمیں کو دیکھا لیکن اس سبز لکیر اس درختوں کی ہری باڑ کے پار کچھ نہ پایا کوئی شعلہ نہ شرار اور پھر رات کے تنور سے ابلا پانی تیرگیوں ...

مزید پڑھیے

مبارک وہ ساعت

میں بھٹکا ہوا اک مسافر رہ و رسم منزل سے ناآشنائی پہ نازاں تعاقب میں اپنی ہی پرچھائیوں کے رواں تھا میرے جسم کا بوجھ دھرتی سنبھالے ہوئے تھی مگر اس کی رعنائیوں سے مجھے کوئی دل بستگی ہی نہیں تھی کبھی راہ چلتے ہوئے خاک کی روح پرور کشش میں نے محسوس کی ہی نہیں تھی میں آنکھوں سے بینا تھا ...

مزید پڑھیے

لرزتا دیپ

دور شب کا سرد ہات آسماں کے خیمۂ زنگار کی آخری قندیل گل کرنے بڑھا اور کومل چاندنی ایک در بستہ گھروندے سے پرے مضمحل پیڑوں پہ گر کر بجھ گئی بے نشاں سائے کی دھیمی چاپ پر اونگتے رستے کے ہر ذرے نے پل بھر کے لیے اپنی پلکوں کی بجھی درزوں سے جھانکا اور آنکھیں موند لیں اس سمے طاق شکستہ ...

مزید پڑھیے

کالا پتھر

میرا چہرہ آئینہ ہے آئینے پر داغ جو ہوتے لہو کی برکھا سے میں دھوتا اپنے اندر جھانک کے دیکھو دل کے پتھر میں کالک کی کتنی پرتیں جمی ہوئی ہیں جن سے ہر نتھرا ستھرا منظر کجلا سا گیا دریا سوکھ گئے ہیں شرم کے مارے کوئلے پر سے کالک کون اتارے!!

مزید پڑھیے

مجرم

یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے جس کے فٹ پاتھ فقیروں سے اٹے رہتے ہیں خستہ کپڑوں میں یہ لپٹے ہوئے مریل ڈھانچے یہ بھکاری کہ جنہیں دیکھ کے گھن آتی ہے ہڈیاں جسم کی نکلی ہوئی پچکے ہوئے گال میلے سر میں جوئیں، اعضا سے ٹپکتا ہوا کوڑھ روح بیمار، بدن سست، نگاہیں پامال ہاتھ پھیلائے پڑے ...

مزید پڑھیے

جشن عید

سبھی نے عید منائی مرے گلستاں میں کسی نے پھول پروئے کسی نے خار چنے بنام اذن تکلم بنام جبر سکوت کسی نے ہونٹ چبائے کسی نے گیت بنے بڑے غضب کا گلستاں میں جشن عید ہوا کہیں تو بجلیاں کوندیں کہیں چنار جلے کہیں کہیں کوئی فانوس بھی نظر آیا بطور خاص مگر قلب داغ دار جلے عجب تھی عید ...

مزید پڑھیے

دعوت فکر

کس طرح ریت کے سمندر میں کشتیٔ زیست ہے رواں سوچو سن کے باد صبا کی سرگوشی کیوں لرزتی ہیں پتیاں سوچو پتھروں کی پناہ میں کیوں ہے آئنہ ساز کی دکاں سوچو اصل سرچشمۂ وفا کیا ہے وجہ بے مہریٔ بتاں سوچو ذوق تعمیر کیوں نہیں مٹتا کیوں اجڑتی ہیں بستیاں سوچو فکر سقراط ہے کہ زہر کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 160 سے 960