رد تشکیل
خدائی میرے باطن میں اترتی سرد شاموں کو کسی تعبیر کے مرقد پہ اک دن چھوڑ آئے گی مرے اشعار کی تکرار سے عاجز میرے الفاظ کے ٹکڑوں سے اپنی آہنی دیوار اور شجرے سجائے گی خدائی مجھ سے مجھ کو چھین کر اپنا بنانے کی تمنا میں مرے ہاتھوں سے میری انگلیاں کاٹے گی محنت سے اور اس پر فکر کا کلمہ ...