شاعری

مردہ لوگوں کی تصویری نمائش

جب مسجدوں اور امام بارگاہوں میں نقب لگائی جاتی تھی تو کئی بے رنگ دائرے سوالیہ نشان لئے ہمارے راستے میں آ کھڑے ہوتے کہ کلیساؤں اور مندروں کا نظام کون سے خدا کے پاس ہے جو امن کی فاختاؤں کو عبادت گاہ کے روشن دانوں میں بھیج دیتا ہے اسی سوال میں جوابی رنگ بھرنے کے لئے ہم نے لہو کو ...

مزید پڑھیے

صبر آزما

ہم کہاں کے ایوب تھے؟ جو رزق کی تلاش میں نکلے حشرات کو ہمارے بدن کا پتا دے دیا گیا ہمیں اپنے آپ کا بوجھ گوارہ نہیں کسی کی گزر اوقات کا انحصار ہم پہ کیوں ہو؟

مزید پڑھیے

جنم کدے میں ناجائز آنکھیں

میں ٹیڑھی پسلی کا گستاخ جنم ہوں جس کے حلقوں میں بد تہذیب چیخوں کا ہجوم بغیر اطلاع دئیے نقارۂ بے‌‌ اماں کا راگ الاپتا ہے پھونکتا ہے آنکھ آنکھ میں دھواں ادھ جلے تعلقات کا مجھے پتھریلے احساس کے پنگھوڑوں میں کھلایا گیا سکھائی گئی بے ترتیب زندگی کی بندر بانٹ قلاش لوگوں کے ...

مزید پڑھیے

ناکام مذاکرات

لوگ ربر بینڈ کی طرح ہاتھوں پہ چڑھائے جا سکتے ہیں پہنے جا سکتے ہیں پیروں میں کاغذ چھوٹی چھوٹی گولیوں میں تبدیل کئے جا سکتے ہیں جنہیں جب چاہو دیوار پہ دے مارو ان کو کوڑے‌ دان میں پھینکا جا سکتا ہے جالے اور وحشت اتاری جا سکتی ہے کمروں کی اتنی بھیانک اور نوکیلی ہیں ان کی آوازیں جو ...

مزید پڑھیے

مہینے کے اخیر دنوں میں

گھر میں داخل ہوتے ہی ہم خود کو آوازیں دینے لگتے ہیں اور کپڑوں سے بھرا شاپنگ بیگ پھینک دیتے ہیں بیڈ کے نیچے رکھتے ہیں اپنے جوتے صوفے پر اور الماری کے دراز سے کچے امردو نکال کر بیڈ شیٹ سے رگڑتے ہیں اور کترنے لگتے ہیں چار دن پرانے بسکٹ جب بھی نظر پڑتی ہے آئنے پہ خود کو گالیاں دیتے ...

مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں موت کی ریہرسل

تنہائی کے جوتے پہنے ہم سیکنڈ ہینڈ قبروں میں رہ رہے ہیں ہمیں اکیلے پن کی مشینوں میں ڈال کر سکھایا جا رہا ہے کہ موت سے جنگ ہو جائے تو کمر پر گولی کھا کر میدان سے بھاگنا نہیں ہے ہمارے سینے پرچم کی طرح لہرا رہے ہیں برسات کا موسم نہیں مگر موت پوری شدتوں کے ساتھ تمام شہروں پر برس رہی ...

مزید پڑھیے

ڈیتھ سرٹیفیکٹ پر لکھی ایک نظم

میں اس آدمی کی زبان کاٹ دینا چاہتی ہوں جس نے پہلی بار پاؤں چاٹنے کی روایت قائم کی میں اس لڑکی کے ہاتھ قلم کرنا چاہتی ہوں جس نے پہلی بار ایک مرد کے پیروں کو چھوا اس ماں کو سنگسار کرنا چاہتی ہوں جس نے بیٹی کے خواب پھاڑ کر بیٹے کی کتابوں پر کور چڑھائے اور بیٹی کو بدبو دار شوہر دیتے ...

مزید پڑھیے

نقشہ بدل چکا ہے

حادثاتی موت کے بعد تمام چیخیں سہی سلامت کاغذ پہ اتار لی گئی ہیں اور چہرے مسخ کر دئیے گئے ہیں لاشوں کے لوگ اپنے اپنے لہو کی زندہ تصویریں مردہ ہاتھوں میں لئے دیواروں کو گھورتے ہیں اور گھورتے ہی چلے جاتے ہیں

مزید پڑھیے

با عزت طریقے سے جینے کے جتن

گذشتہ آل پارٹیز کانفرنس میں طے ہوا تھا کہ شہر بھر کی تاریکی آنکھ کے بوسیدہ پیالوں میں انڈیل کر صبح، دوپہر، شام باقاعدگی سے استعمال کی جائے تو اندھیروں میں جوتیاں ٹٹولنا سہل ہو جائے گا کون ننگے پاؤں محل کی طرف جائے کہ راستے میں اچکوں کے خوف سے کانچ کی زمین بچھا دی گئی ہے ہمارے ...

مزید پڑھیے

ایل او وی ای

پاگل لڑکی دیواروں کو گالیاں دیتی ہے اور تھوک دیتی ہے آئنے پر ہوا کی طرف پھینکتی ہے اپنے گلابی جوتے اور بند ہونے والی آنکھوں پر پھیر دیتی ہے نیل پالش پور پہ سیفٹی پن لگاتی ہے اور سرخ لپ اسٹک سے ملا کر دیکھتی ہے باریک سی دھار کی خونی رنگت تمہارا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے؟ تم انگلیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 119 سے 960