شاعری

زومبی

میں اک زومبی کے جیسا ہوں بظاہر تو میں زندہ ہوں مگر اندر سے مردہ ہوں کوئی احساس انسانی نہیں اب میری مٹی میں نہ ہنستا ہوں نہ روتا ہوں نہ کوئی زخم دکھتا ہے نہ مجھ کو درد ہوتا ہے میری سانسیں تو چلتی ہیں مگر ان کو نہیں محسوس کر سکتا میرے سینہ میں دل تو ہے مگر دھڑکن ندارد ہے میں اک زومبی ...

مزید پڑھیے

روگ

مجھے معلوم ہے مجھ سے میرے اس روگ سے میرے سبھی اپنے پریشاں ہیں میری تیمار داری سے میری بیوی میرے بچے بہت تنگ آ چکے ہیں اب یہ بالکل صاف لکھا ہے سبھی چہروں پہ کے وہ اب بہت بے ربط ہیں مجھ سے مگر یہ فرض آخر ہے نبھانا ہے زمانہ ہے دکھانا ہے سبھی تیاریاں لگ بھگ مکمل ہو چکی ہوں گی دواؤں کے ...

مزید پڑھیے

نوستالجیا

وہ جب ناراض ہوتی تھی تو اپنے گارڈن میں جا کے مجھ کو فون کرتی تھی ستانے کے لئے مجھ کو وہ کہتی تھی بہت بننے لگے ہو تم مزہ تم کو چکھاؤنگی تمہاری وہ جو گڑیا ہے مرے اندر میں اس کی انگلیوں میں سیکڑوں کانٹے چبھاؤں‌ گی رولاؤں گی میں کہتا تھا اگر تم نے مری پیاری سی گڑیا کو رلایا تو قسم سے ...

مزید پڑھیے

مصرعے

میرے خیالوں کا ایک تنکا تمہاری آنکھوں میں گر گیا ہے برا نا مانو اگر جو تم تو قریب آؤں تمہاری آنکھوں سے مجھ کو مصرعے نکالنا ہے

مزید پڑھیے

بے روزگار

تو اور اک بار پھر میرا سلیکشن ہو نہیں پایا میری ہر ایک ناکامی پہ رسی مسکراتی ہے خوشی سے اینٹھتی ہے اور نئے بل پڑتے جاتے ہیں مجھے اپنا گلا گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے میں اپنی چھت سے جب نیچے گلی میں جھانکتا ہوں تو یہ لگتا ہے سڑک مجھ کو اچھل کر کھینچ لے جائے گی اپنے سنگ ڈرا دیتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

محاذ

میں ظالموں کے خلاف مٹی کا جسم لے کر کھڑا رہوں گا ضمیر جن کو بھی بیچنا ہے وہ بیچ دیں میں نہیں بکوں گا اڑا رہوں گا میں جانتا ہوں یہ بھیڑ مجھ کو تو ایک لمحے میں روند دے گی تو روند دے پھر کسے پڑی ہے ذرا سی ہمت بھی ہے اگر تو وہ بزدلی سے بہت بڑی ہے ہر ایک در بند ہو بھی جائے بھلے دریچوں کو ...

مزید پڑھیے

یہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتا

یہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتا میری جاناں ہمیں بچھڑے تو کتنے دن مہینے سال گزرے ہیں مگر یہ چوٹ گہری ہے مگر یہ زخم تازے ہیں یہ دکھ کم کیوں نہیں ہوتا میری جاناں اگر میں ساتھ دو پنچھی بھی بیٹھے دیکھتا ہوں تو میرے ماضی کا ہر منظر میری آنکھوں کے ڈوروں میں ابھرتا ہے تڑپتا ہے میری آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

بے روزگار 2

میں اپنی جانب سے پوری کوشش تو کر رہا ہوں مگر نتیجہ خلاف آئیں تو کیا کروں میں مجھے پتہ ہے کہ جاب پر ہی ہمارا فیوچر ٹکا ہوا ہے مگر یہ رستہ تو دن بہ دن اب طویل ہوتا ہی جا رہا ہے جو ڈر تمہارا ہے میرے ڈر سے الگ نہیں ہے ہو تم پریشاں تو میں بھی جاناں سکوں میں کب ہوں میں اپنی جانب سے پوری ...

مزید پڑھیے

اداکار

مرے راز داں میری آنکھوں میں دیکھو بتاؤ مجھے کیا کہیں خوف ہے کیا کہیں کوئی خواہش مچلتی ہوئی پا برہنہ ملی کیا مری آنکھ کے بانکپن میں نقاہت تو ابھری نہیں محبت کا دھاگا جو الجھا ہوا ہے کہیں اس کی سرخی تو آنکھوں میں دکھتی نہیں مرے راز داں میری باتوں کو سوچو بتاؤ مجھے کیا کہیں ان میں ...

مزید پڑھیے

گل داؤدی

الماری میں پڑے برتنوں کے ساتھ ایک عطیہ دان جو صدقے کے سکوں سے بھرا پڑا ہے آج اس میں چند سکے اور ڈال دئے جائیں گے تاکہ بلائیں دور رہیں لیکن بلاؤں کو دور رکھنا اتنا آسان کیسے ہے معلوم نہیں کیا اندر کی بلاؤں سے چھٹکارا پانے کی کوئی ایسی آسان تدبیر بھی موجود ہے شاید گوگل کرنا پڑے مگر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 117 سے 960