تلاش
وہ چھٹی کی گھنٹی وہ کمزور کاندھے پہ بھاری سا بستہ وہ معصوم چہرہ وہ مصروف رستہ سو میں چونک اٹھا آئینے نے بہت غور سے مجھ کو دیکھا میرا ہم زاد ہے تجھ سے پردہ ہی کیا آج پھر یاد اپنی مجھے کتنی شدت سے تڑپا گئی
وہ چھٹی کی گھنٹی وہ کمزور کاندھے پہ بھاری سا بستہ وہ معصوم چہرہ وہ مصروف رستہ سو میں چونک اٹھا آئینے نے بہت غور سے مجھ کو دیکھا میرا ہم زاد ہے تجھ سے پردہ ہی کیا آج پھر یاد اپنی مجھے کتنی شدت سے تڑپا گئی
جانے کیوں یہ دیواریں مجھ کو گھور کے دیکھتی ہیں جانے کس کی آہٹ پر اکثر کھڑکیاں چونکتی ہیں میں پاگل ہو جاتا ہوں یادوں کی گہری سانسیں اندر تک خالی سانسیں جانے کیوں یہ دیواریں
یہ کمرہ تو پھر سے وہی ہے وہی میں وہی بلب کا ایک جانب سے اکھڑا ہوا ہولڈر بھی مگر آج پھر یہ ہوا اجنبی ہے
گلابی ہوا اور نیلی اداسی یہ کن جنگلوں کا سفر ہے ہر اک سمت کانٹوں بھری رہ گزر ہے کہاں کھو گئے ہیں گجک کے وہ ٹھیلے وہ جاڑوں کی راتیں دیوالی کے میلے وہ ٹوپی وہ بستے وہ بوڑھے محافظ وہ کیچڑ کے رستے وہ برساتی نالے وہ مدہوش بچے وہ کرتوں کی جیبوں میں امرود کچے وہ پنی کے چشمے وہ مٹی کے ...
ہے مرے پاس اک مرا چوہا خوب صورت سا دل ربا چوہا دم بھی چوہے کی سر بھی چوہے کا ہے مرا چوہا بس نرا چوہا بلی کو بھی سبق پڑھاتا ہے ہے بہت ہی پڑھا لکھا چوہا میرے چوہے کو کوئی کچھ نہ کہے مرا چوہا ہے لاڈلا چوہا سو گیا دیکھ کر وہ بلی کو لوگ سمجھے کہ مر گیا چوہا حرکتیں اس کی سب دلیروں کی کام کا ...
بلی کو سمجھانے آئے چوہے کئی ہزار بلی نے اک بات نہ مانی روئے زار و زار سنو گپ شپ سنو گپ شپ ناؤ میں ندی ڈوب چلی ہاتھی کو چیونٹی نے پیٹا مینڈک شور مچائے اونٹ نے آ کر ڈھول بجایا مچھلی گانا گائے سنو گپ شپ سنو گپ شپ ناؤ میں ندی ڈوب چلی آدھی رات کو چاند اور سورج بادل کے گھر آئے بجلی نے ...
اک فسوں کار بت تراش ہوں میں زندگی کی طویل راتوں کو بار ہالے کے تیشۂ افکار بت تراشے ہیں سینکڑوں میں نے ترے سانچے میں ڈھالنے کے لیے چاند سے نور مرمریں لے کر تیرا سیمیں بدن تراش لیا مہر سے تاب آتشیں لے کر ترے رنگیں لبوں کا روپ دیا لے کے توبہ کی عنبریں سائے تیری زلفوں کے بال ...
جس نے بنائی دنیا جس نے بسائی دنیا ہاں وہ مرا خدا ہے مجھ کو بھی زندگی دی تجھ کو بھی زندگی دی ہاں وہ مرا خدا ہے اس نے بنائے سارے یہ چاند اور تارے سورج کو روشنی دی پھولوں کو تازگی دی ہاں وہ مرا خدا ہے لیتا ہوں نام اس کا کرتا ہوں اس کی پوجا وہ میرا رہنما ہے وہ میرا آسرا ہے ہاں وہ مرا ...
زندگی ہے تو کوئی بات نہیں ہے اے دوست زندگی ہے تو بدل جائیں گے یہ لیل و نہار یہ شب و روز، مہ و سال گزر جائیں گے ہم سے بے مہر زمانے کی نظر کے اطوار آج بگڑے ہیں تو اک روز سنور جائیں گے فاصلوں، مرحلوں راہوں کی جدائی کیا ہے دل ملے ہیں تو نگاہوں کی جدائی کیا ہے کلفت زیست سے انسان پریشاں ...
یہ کس نے مری نظر کو لوٹا ہر چیز کا حسن چھن گیا ہے ہر شے کے ہیں اجنبی خط و خال بڑھتے چلے جا رہے ہیں ہر سمت موہوم سی بے رخی کے سائے کچھ اس طرح ہو رہا ہے محسوس جیسے کسی شے کا نقش مانوس آ آ کے قریب لوٹ جائے بیگانہ ہوں اپنے آپ سے میں اور تو بھی ہے دور دور مجھ سے کچھ ایسے بکھر بکھر ...