آج شاید زندگی کا فلسفہ سمجھا ہوں میں
آج شاید زندگی کا فلسفہ سمجھا ہوں میں ہوں ضرورت زندگی کی اس لئے زندہ ہوں میں ہے مری تخلیق میں عنصر بغاوت کا کوئی جس جگہ پابندیاں تھیں اس جگہ پہنچا ہوں میں اک عجب سا ہے تعلق اس کے میرے درمیاں ایسا لگتا ہے کہ اس کی ذات کا حصہ ہوں میں ہیں نمایاں جس کے چہرے پر حقیقت کے نقوش تیرے شہر ...