شاعری

آج شاید زندگی کا فلسفہ سمجھا ہوں میں

آج شاید زندگی کا فلسفہ سمجھا ہوں میں ہوں ضرورت زندگی کی اس لئے زندہ ہوں میں ہے مری تخلیق میں عنصر بغاوت کا کوئی جس جگہ پابندیاں تھیں اس جگہ پہنچا ہوں میں اک عجب سا ہے تعلق اس کے میرے درمیاں ایسا لگتا ہے کہ اس کی ذات کا حصہ ہوں میں ہیں نمایاں جس کے چہرے پر حقیقت کے نقوش تیرے شہر ...

مزید پڑھیے

وہ تیرگیٔ شب ہے کہ گھر لوٹ گئے ہیں

وہ تیرگیٔ شب ہے کہ گھر لوٹ گئے ہیں اس در سے ابھی نجم و قمر لوٹ گئے ہیں اے موسم گل تو ابھی آیا ہے یہاں پر جب شاخ و شجر دیدۂ تر لوٹ گئے ہیں شب بھر تو تری یاد کا میلہ سا لگا تھا اس بھیڑ میں کچھ خواب سحر لوٹ گئے ہیں ہم ہیں کہ ترے ساتھ چلے جاتے ہیں ورنہ سب لوگ شروعات سفر لوٹ گئے ہیں جب ...

مزید پڑھیے

ہر چند مرا شوق سفر یوں نہ رہے گا

ہر چند مرا شوق سفر یوں نہ رہے گا کیا خار سر راہ گزر یوں نہ رہے گا ممکن ہے تری یاد سلگتی رہے تا عمر یہ شعلہ شرر بار مگر یوں نہ رہے گا اس دھوپ میں میری بھی جھلس جائیں گی آنکھیں تیرا بھی رخ غنچۂ تر یوں نہ رہے گا موقعہ ہے گل و برگ سجا لو سر مژگاں ہر فصل میں سر سبز شجر یوں نہ رہے گا کچھ ...

مزید پڑھیے

تری تلاش میں گزرے کئی زمانے مجھے

تری تلاش میں گزرے کئی زمانے مجھے خدا ہی جانے تو جانے ہے یا نہ جانے مجھے دھواں دھواں ہیں جہاں پر خیال کی راہیں مثال گرد اڑایا تری ہوا نے مجھے نہ اس طرح مجھے دیکھو کہ جیسے پتھر ہوں جو ہو سکے تو پکاروں کسی بہانے مجھے وہ بات بات پہ ہنسنا تری ادا ہی سہی تمام عمر رلایا ہے اس ادا نے ...

مزید پڑھیے

دل میں اوروں کے لئے کینہ و کد رکھتے ہیں

دل میں اوروں کے لئے کینہ و کد رکھتے ہیں لوگ اخلاص کے پردے میں حسد رکھتے ہیں آپ سے ہاتھ ملاتے ہوئے ڈر لگتا ہے آپ تو پیار کے رشتوں میں بھی حد رکھتے ہیں یہ ضروری نہیں دل ان کے ہوں حق سے معمور وہ جو چہروں پہ عبادت کی سند رکھتے ہیں کیا پتہ کب کسی رشتے کا بھروسہ ٹوٹے ایسے لوگوں سے نہ ...

مزید پڑھیے

تمام عمر کی تنہائیوں پہ بھاری تھی

تمام عمر کی تنہائیوں پہ بھاری تھی وہ ایک شام ترے ساتھ جو گزاری تھی افق پہ لکھتا رہا آفتاب تحریریں مگر بیاض زمیں روشنی سے عاری تھی سفیر صبح کی آہٹ پہ ہو گئی بیدار غنودگی میں جو خوابیدہ شب خماری تھی اسی نے کر دیا پیوست پیٹھ میں خنجر وہ شخص جس کی رفاقت سے پیٹھ بھاری تھی دل و دماغ ...

مزید پڑھیے

ضبط کی حد سے گزر کر خار تو ہونا ہی تھا

ضبط کی حد سے گزر کر خار تو ہونا ہی تھا شدت غم کا مگر اظہار تو ہونا ہی تھا آئنے کب تک سلامت رہتے شہر سنگ میں ایک دن پتھر کوئی بیدار تو ہونا ہی تھا خاک میں ملنا ہی تھا اک دن غرور زندگی ریت کی دیوار کو مسمار تو ہونا ہی تھا کس طرح کرتے نظر انداز اپنے آپ کو اک نہ اک دن زندگی سے پیار تو ...

مزید پڑھیے

کیا لطف ہواؤں کے سفر میں نہیں رکھا

کیا لطف ہواؤں کے سفر میں نہیں رکھا یا جذبۂ پرواز ہی پر میں نہیں رکھا ننھا سا دیا بھی شب تیرہ میں بہت ہے سودا کسی خورشید کا سر میں نہیں رکھا بجھ جائیں گے خوابوں کے چراغ آب رواں سے اس ڈر سے انہیں دیدۂ تر میں نہیں رکھا شاید در و دیوار بھی پہچان نہ پائیں برسوں سے قدم اپنے ہی گھر ...

مزید پڑھیے

فصل جنوں میں دامن و دل چاک بھی نہیں

فصل جنوں میں دامن و دل چاک بھی نہیں کیا دشت ہے کہ اڑتی کہیں خاک بھی نہیں جینا ترا محال تو ہونا ہی تھا کہ تو اس دور کے حساب سے چالاک بھی نہیں رقص جنوں تو خیر بڑی بات ہے مگر اب شہر میں نمائش ادراک بھی نہیں اچھا ہوا کہ جلد ہی تو نے اتار دی جچتی ہے سب پہ درد کی پوشاک بھی نہیں دریا ...

مزید پڑھیے

ابھی موجود تھی لیکن ابھی گم ہو گئی ہے

ابھی موجود تھی لیکن ابھی گم ہو گئی ہے نہ جانے کس جہاں میں زندگی گم ہو گئی ہے مرے ہم راہ کیوں وہ شخص چلنا چاہتا ہے سفر کے جوش میں کیا آگہی گم ہو گئی ہے سبھی خوش ہیں کہ سارے گمشدہ پھر مل گئے ہیں مجھے غم ہے کہ اب تیری کمی گم ہو گئی ہے مرے ہونٹوں کو دریا نے کیا سیراب لیکن حیات افروز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 977 سے 4657