شاعری

اسے خود کو بدل لینا گوارہ بھی نہیں ہوتا

اسے خود کو بدل لینا گوارہ بھی نہیں ہوتا ہمارا ایسی دنیا میں گزارہ بھی نہیں ہوتا ہمیں اس موڑ پر لے آتے ہیں یہ خون کے رشتے کہ جینے کے علاوہ اور چارہ بھی نہیں ہوتا یہ سارے چاند سورج ان کے قدموں میں ہی رہتے ہیں ہمارے ہاتھ میں کیوں ایک تارہ بھی نہیں ہوتا ڈبو دیتیں ہمیں دریائے ماہ و ...

مزید پڑھیے

اک ایک لفظ میں کئی پہلو کہاں سے آئے

اک ایک لفظ میں کئی پہلو کہاں سے آئے جاناں ترے سخن میں یہ جادو کہاں سے آئے جب تیرگی میں چاند ستارے بھی گم ہوئے پلکوں کے شامیانے میں جگنو کہاں سے آئے سلجھا رہا تھا پیچ و خم زندگی مگر ہاتھوں میں یک بہ یک ترے گیسو کہاں سے آئے شکوہ نہیں ہے تجھ سے کہ اس رہ گزار میں سائے نہ ساتھ آئے تو ...

مزید پڑھیے

سہانے خواب آنکھوں میں سنجونا چاہتا ہوں

سہانے خواب آنکھوں میں سنجونا چاہتا ہوں میں اب آرام سے کچھ دیر سونا چاہتا ہوں شجر کو بار آور دیکھنا مقصد نہیں ہے کہ میں تو بس زمیں پر خواب بونا چاہتا ہوں مرے ہنستے ہوئے بچو یہ سارا گھر تمہارا میں رونے کے لئے بس ایک کونا چاہتا ہوں نواح زیست میں کیوں بارشیں ہوتی نہیں ہیں میں ...

مزید پڑھیے

یہ خیال اب تو دل آزار ہمارے لیے ہے

یہ خیال اب تو دل آزار ہمارے لیے ہے آخر شب کوئی بے دار ہمارے لیے ہے ہم عجب دیکھ کے سرشار ہوئے جاتے ہیں جیسے یہ گرمئ بازار ہمارے لیے ہے خانہ‌ٔ زیست میں رہتا ہے اجالا شب بھر کوئی روشن سر دیوار ہمارے لیے ہے ختم ہونے کو نہیں سختی‌ و آلام سفر راہ میں پھر کوئی کہسار ہمارے لیے ...

مزید پڑھیے

ایک تو دنیا کا کاروبار ہے

ایک تو دنیا کا کاروبار ہے عشق کا اس پر الگ آزار ہے کون اس جا صاحب کردار ہے ہر کوئی بس غازیٔ گفتار ہے صبح تک اٹھتی رہی آہ و فغاں کون مجھ میں شام سے بیدار ہے اہل دل آئے یہاں تاخیر سے اب کہاں وہ گرمئ بازار ہے شور میں ڈوبا ہوا ہے گھر تمام اور سناٹا پس دیوار ہے میں ہوا بے لطف اس کے ...

مزید پڑھیے

کس نے کہا کہ مجھ کو یہ دنیا نہیں پسند

کس نے کہا کہ مجھ کو یہ دنیا نہیں پسند بس سامنے کا تھوڑا سا حصہ نہیں پسند برسوں سے اس کے ساتھ گزر کر رہے ہیں ہم ہر چند زندگی کا رویہ نہیں پسند سورج طلوع ہوتے ہی در بند ہو گئے یہ کیسے لوگ ہیں کہ سویرا نہیں پسند خواہش تو ہے مجھے بھی کہ منزل ملے مگر یوں دوسروں کی راہ پہ چلنا نہیں ...

مزید پڑھیے

ہر چند ترے غم کا سہارا بھی نہیں ہے

ہر چند ترے غم کا سہارا بھی نہیں ہے جینے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے ہر روز کیے جاتی ہے یہ زیست تقاضے کیا قرض تھا جو ہم نے اتارا بھی نہیں ہے پہلے تو یہ موجیں بھی حمایت میں کھڑی تھیں اب میرا مددگار کنارہ بھی نہیں ہے جاتا بھی نہیں چھوڑ کے وہ مجھ کو اکیلا اور ساتھ مرا اس کو گوارہ ...

مزید پڑھیے

کم رنج موسم گل تر نے نہیں دیا

کم رنج موسم گل تر نے نہیں دیا دل کے کسی بھی زخم کو بھرنے نہیں دیا سارے ہی مستفیض ہوئے اس کی ذات سے ہم کو ہی ایک پھل بھی شجر نے نہیں دیا مرجھا گئی ہے تلخئ حالات سے مگر کم ہے کہ ہم نے یاد کو مرنے نہیں دیا جلتا چراغ دل شب ہجراں میں دیر تک موقع مگر نمود سحر نے نہیں دیا مخصوص تھی بس اس ...

مزید پڑھیے

کچھ نئے خواب ہر اک فصل میں پالے گئے ہیں

کچھ نئے خواب ہر اک فصل میں پالے گئے ہیں ہم اسی جرم میں بستی سے نکالے گئے ہیں ابھی زنجیر جنوں پاؤں میں ڈالے گئے ہیں دیکھ کس سمت ترے چاہنے والے گئے ہیں کون اس شہر چراغاں میں ابھی آیا تھا دور تک اس کے تعاقب میں اجالے گئے ہیں حاکم وقت کے قدموں پہ سبھی ابن الوقت رکھ کے دستار کو سر ...

مزید پڑھیے

دیکھ ماضی کے دریچوں کو کبھی کھولا نہ کر

دیکھ ماضی کے دریچوں کو کبھی کھولا نہ کر بھاگتے لمحوں کے پیچھے اس طرح دوڑا نہ کر اے مرے سورج مرے سائے کے دیرینہ رفیق راستے میں روشنی بن کر بکھر جایا نہ کر یہ بھی ممکن ہے ترے دیوار و در تیرے نہ ہوں گھر کے اندر بیٹھ کر تو اس طرح رویا نہ کر کہہ لیا کر گاہے گاہے تو کوئی اچھی غزل محفل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 978 سے 4657