اسے خود کو بدل لینا گوارہ بھی نہیں ہوتا
اسے خود کو بدل لینا گوارہ بھی نہیں ہوتا ہمارا ایسی دنیا میں گزارہ بھی نہیں ہوتا ہمیں اس موڑ پر لے آتے ہیں یہ خون کے رشتے کہ جینے کے علاوہ اور چارہ بھی نہیں ہوتا یہ سارے چاند سورج ان کے قدموں میں ہی رہتے ہیں ہمارے ہاتھ میں کیوں ایک تارہ بھی نہیں ہوتا ڈبو دیتیں ہمیں دریائے ماہ و ...