شاعری

میں تجھ سے لاکھ بچھڑ کر یہاں وہاں جاتا

میں تجھ سے لاکھ بچھڑ کر یہاں وہاں جاتا مری جبین سے سجدوں کا کب نشاں جاتا زمین مجھ کو سمجھتی نہ آسماں کوئی گناہ گار ہی کہلاتا میں جہاں جاتا نصیب سے تو ملے تھے فقط یہ خالی ہاتھ فراخ دل وہ نہ ہوتا تو میں کہاں جاتا مجھے خبر نہ تھی اس گھر میں کتنے کمرے ہیں میں کیسے لے کے وہاں ساری ...

مزید پڑھیے

کھل کے باتیں کریں سنائیں سب

کھل کے باتیں کریں سنائیں سب کوئی تو ہو جسے بتائیں سب رات پھر کشمکش میں گزری ہے تھوڑا بتلا دیں یا چھپائیں سب کچھ تو اپنے لئے بھی رکھنا ہے زخم اوروں کو کیوں دکھائیں سب لے چلوں آؤ تم کو منزل تک مجھ سے کہتی ہیں یہ دشائیں سب کام لوگوں کے دل کو بھا جائے دل اگر کام میں لگائیں سب

مزید پڑھیے

کیا دکھاتا ہے یہ سفر دیکھو

کیا دکھاتا ہے یہ سفر دیکھو اب کہاں رکتی ہے نظر دیکھو وقت ہر آئینے کا دشمن ہے پھر بھی کچھ روز بن سنور دیکھو خود کو گر دیکھو غیر آنکھوں سے عمر نے کیا کیا اثر دیکھو رات کے بعد رات آئے گی دل سے جاتا ہے کب یہ ڈر دیکھو آئے بھی اور گئے بھی خالی ہاتھ چھوڑو دنیا کو اور گھر دیکھو

مزید پڑھیے

آئے ہیں گھر مرا سجانے درد

آئے ہیں گھر مرا سجانے درد کچھ نئے اور کچھ پرانے درد ذکر جاناں کے باغ سے گزرے زخم مہکے ہوئے سہانے درد خوف اتنا خوشی کا تھا ہم کو بن گئے زیست کے بہانے درد درد کچھ اور دے کے لوٹے ہیں آئے تھے ہم سے جو بٹانے درد کب کوئی چاندنی میں دے آواز کب اٹھے دل میں پھر نہ جانے درد

مزید پڑھیے

ظلم ہے تخت تاج سناٹا

ظلم ہے تخت تاج سناٹا خوف قانون راج سناٹا گفتگو تیر سی لگی دل میں اب ہے شاید علاج سناٹا سو گئیں یادیں بجھ گئی امید گھر میں کتنا ہے آج سناٹا لوگ دل کی کہیں تو کیسے کہیں چاہتا ہے سماج سناٹا اپنی عادت کہ سب سے سب کہہ دیں شہر کا ہے مزاج سناٹا

مزید پڑھیے

ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے

ہم جو پہلے کہیں ملے ہوتے اور ہی اپنے سلسلے ہوتے پھر ہر اک بات ٹھیک سے ہوتی پھر نہ الجھن نہ فاصلے ہوتے پھر نہ تنہائی رات کو ڈستی پھر نہ قسمت سے یہ گلے ہوتے پھر نہ لگتا یہ شہر اک صحرا پھر نہ گم دل کے قافلے ہوتے پھر غزل ہوتی سب زبانوں پر پھر کسی کے نہ لب سلے ہوتے پھر ہر اک لمحہ ...

مزید پڑھیے

جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو

جھوٹی امید کی انگلی کو پکڑنا چھوڑو درد سے بات کرو درد سے لڑنا چھوڑو جو پڑوسی ہیں وہ سب اپنے محلے کے ہیں کام آئیں گے یہ سب ان سے جھگڑنا چھوڑو بے سبب دیتے ہو کیوں اپنی ذہانت کا ثبوت ہیرے موتی کو ہر اک بات میں جڑنا چھوڑو چاند سورج کی طرح تم بھی ہو قدرت کا کھیل جیسے ہو ویسے رہو بننا ...

مزید پڑھیے

خوابوں کے آسرے پہ بہت دن جیے ہو تم

خوابوں کے آسرے پہ بہت دن جیے ہو تم شاید یہی سبب ہے کہ تنہا رہے ہو تم اپنے سے کوئی بات چھپائی نہیں کبھی یہ بھی فریب خود کو بہت دے چکے ہو تم پوچھا ہے اپنے آپ سے میں نے ہزار بار مجھ کو بتاؤ تو سہی کیا چاہتے ہو تم خالی برآمدوں نے مجھے دیکھ کر کہا کیا بات ہے اداس سے کچھ لگ رہے ہو ...

مزید پڑھیے

کیسے ہو کیا ہے حال مت پوچھو

کیسے ہو کیا ہے حال مت پوچھو مجھ سے مشکل سوال مت پوچھو کس نے تم کو ستایا ہے اتنا کس لئے ہے ملال مت پوچھو کیوں وہ خود کو نظر نہیں آتا کیوں ہے شیشے میں بال مت پوچھو جبر کس کا ہے کون ہے مجبور کس نے پھینکا ہے جال مت پوچھو کون مری خوشی کا دشمن ہے مجھ سے تم اس کا حال مت پوچھو

مزید پڑھیے

تیغ کھینچے ہوئے کھڑا کیا ہے

تیغ کھینچے ہوئے کھڑا کیا ہے پوچھ مجھ سے مری سزا کیا ہے زندگی اس قدر کٹھن کیوں ہے آدمی کی بھلا خطا کیا ہے جسم تو بھی ہے جسم میں بھی ہوں روح اک وہم کے سوا کیا ہے آج بھی کل کا منتظر ہوں میں آج کے روز میں نیا کیا ہے آئیے بیٹھ کر شراب پئیں گو کہ اس کا بھی فائدہ کیا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 970 سے 4657