شاعری

جینا عذاب کیوں ہے یہ کیا ہو گیا مجھے

جینا عذاب کیوں ہے یہ کیا ہو گیا مجھے کس شخص کی لگی ہے بھلا بد دعا مجھے میں اپنے آپ سے تو لڑا ہوں تمام عمر اے آسمان تو بھی کبھی آزما مجھے نکلے تھے دونوں بھیس بدل کے تو کیا عجب میں ڈھونڈتا خدا کو پھرا اور خدا مجھے پوچھیں گے مجھ کو گاؤں کے سب لوگ ایک دن میں اک پرانا پیڑ ہوں تو مت گرا ...

مزید پڑھیے

دوستی کچھ نہیں الفت کا صلہ کچھ بھی نہیں

دوستی کچھ نہیں الفت کا صلہ کچھ بھی نہیں آج دنیا میں بجز ذہن رسا کچھ بھی نہیں پتے سب گر گئے پیڑوں سے مگر کیا کہیے ایسا لگتا ہے ہمیں جیسے ہوا کچھ بھی نہیں کل کی یادوں کی جلانے کو جلائیں مشعل ایک تاریک اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں ڈھونڈھنا چھوڑ دو پرچھائیں کا مسکن یارو چاہے جس طرح ...

مزید پڑھیے

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں

یہ تمنا ہے کہ اب اور تمنا نہ کریں شعر کہتے رہیں چپ چاپ تقاضا نہ کریں ان بدلتے ہوئے حالات میں بہتر ہے یہی آئینہ دیکھیں تو خود اپنے کو ڈھونڈا نہ کریں تو گریزاں رہی اے زندگی ہم سے لیکن کیسے ممکن ہے کہ ہم بھی تجھے چاہا نہ کریں اس نئے دور کے لوگوں سے یہ کہہ دے کوئی دل کے دکھڑوں کا سر ...

مزید پڑھیے

کچھ تو ٹھہرے ہوئے دریا میں روانی کریں ہم

کچھ تو ٹھہرے ہوئے دریا میں روانی کریں ہم آؤ دنیا کی حقیقت کو کہانی کریں ہم اپنے موجود میں ملتے ہی نہیں ہیں ہم لوگ جو ہے معدوم اسے اپنی نشانی کریں ہم پہلے اک یار بنائیں کوئی اس کے جیسا اور پھر ایجاد کوئی دشمن جانی کریں ہم جب نیا کام ہی کرنے کو نہیں ہے کوئی بیٹھے بیٹھے یوں ہی اک ...

مزید پڑھیے

زماں مکاں سے بھی کچھ ماورا بنانے میں

زماں مکاں سے بھی کچھ ماورا بنانے میں میں منہمک ہوں بہت خود کو لا بنانے میں چراغ عشق بدن سے لگا تھا کچھ ایسا میں بجھ کے رہ گیا اس کو ہوا بنانے میں یہ دل کہ صحبت خوباں میں تھا خراب بہت سو عمر لگ گئی اس کو ذرا بنانے میں گھری ہے پیاس ہماری ہجوم آب میں اور لگا ہے دشت کوئی راستا بنانے ...

مزید پڑھیے

یہ الگ بات کہ وہ مجھ سے خفا رہتا ہے

یہ الگ بات کہ وہ مجھ سے خفا رہتا ہے میں اک انسان ہوں اور مجھ میں خدا رہتا ہے میری باتوں میں بہت اس کی جھلک آتی ہے اس کے لہجے میں مرا ذہن بسا رہتا ہے قید میں اس سے بہادر نہ کوئی دیکھا تھا اب جو آزاد ہے تھوڑا سا ڈرا رہتا ہے اور لوگوں کی نگاہوں میں برا ہو لیکن اپنی نظروں میں بھی گر ...

مزید پڑھیے

کہو تو آج بتا دیں تمہیں حقیقت بھی

کہو تو آج بتا دیں تمہیں حقیقت بھی کہ زندگی سے رہی ہے ہمیں محبت بھی تمہارا حسن تو ہے جان اپنے رشتے کی برت رہے ہیں مگر ہم ذرا مروت بھی ہزار چاہیں مگر چھوٹ ہی نہیں سکتی بڑی عجیب ہے یہ مےکشی کی عادت بھی یہ زندگی کوئی محشر سہی مگر یارو سکون بخش ہے ہم کو یہی قیامت بھی ادھار لے کے ...

مزید پڑھیے

کبھی خوابوں میں ملا وہ تو خیالوں میں کبھی

کبھی خوابوں میں ملا وہ تو خیالوں میں کبھی راہ چلتے نہ ملا دن کے اجالوں میں کبھی زندگی ہم سے تو اس درجہ تغافل نہ برت ہم بھی شامل تھے ترے چاہنے والوں میں کبھی جن کا ہم آج تلک پا نہ سکے کوئی جواب خود کو ڈھونڈا کئے ان تلخ سوالوں میں کبھی تھوڑی رسوائی تمہاری بھی تو ہوگی یارو چھپ گئے ...

مزید پڑھیے

وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا

وہ پاس رہ کے بھی مجھ میں سما نہیں سکتا وہ مدتوں نہ ملے دور جا نہیں سکتا وہ ایک یاد جو دل سے مٹی نہیں اب تک وہ ایک نام جو ہونٹوں پہ آ نہیں سکتا وہ اک ہنسی جو کھنکتی ہے اب بھی کانوں میں وہ اک لطیفہ جو اب یاد آ نہیں سکتا وہ ایک خواب جو پھر لوٹ کر نہیں آیا وہ اک خیال جسے میں بھلا نہیں ...

مزید پڑھیے

کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے

کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے اس نے پھر مجھ کو سمیٹا ہے پریشانی سے مجھ پہ کھلتا ہے تری یاد کا جب باب طلسم تنگ ہو جاتا ہوں احساس فراوانی سے آخرش کون ہے جو گھورتا رہتا ہے مجھے دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے میری مٹی میں کوئی آگ سی لگ جاتی ہے جو بھڑکتی ہے ترے چھڑکے ہوئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 971 سے 4657