شاعری

بجھتے سورج کے شرارے نور برسانے لگے

بجھتے سورج کے شرارے نور برسانے لگے رفتہ رفتہ چاند تاروں میں نظر آنے لگے کر گیا بیدار پتھر کو فن خارا تراش کتنے نادیدہ صنم آنکھوں میں لہرانے لگے موج بوئے گل سے بھڑکی ہیں دبی چنگاریاں پھر ہوا کے سرد جھونکے جسم جھلسانے لگے کٹ کے رہ جائے گی آخر قسمت غم کی لکیر تیرے زندانی اگر ...

مزید پڑھیے

پتھر کی نیند سوتی ہے بستی جگائیے

پتھر کی نیند سوتی ہے بستی جگائیے آب حیات سا کوئی اعجاز لائیے جل جائیے مقام پہ اپنے مثال شمع اپنے بدن کی لو سے نہ گھر کو جلائیے اک نہر کاٹیے کبھی سینے سے چاند کے دامان شب میں نور کا دھارا بہائیے آ تو گئے ہیں آپ خریدار کی طرح کچھ تن کو خرچ کیجیئے جاں کو بھنائیے جن کے دھوئیں سے ...

مزید پڑھیے

روشنی تک روشنی کا راستہ کہہ لیجئے

روشنی تک روشنی کا راستہ کہہ لیجئے رات کو شام و سحر کا فاصلہ کہہ لیجئے دے گئی کتنی بہاریں ایک فصل آرزو رنگ و بو کو موسموں کا خوں بہا کہہ لیجئے گونجتی ہے عمر ویراں میں تمنا کی تھکن حرف غم کو گنبد جاں کی صدا کہہ لیجئے کند آخر کر گئیں تلوار کو خونریزیاں دوستی کو دشمنی کی انتہا کہہ ...

مزید پڑھیے

اترے طلسم شب کے اجالوں پہ رات بھر

اترے طلسم شب کے اجالوں پہ رات بھر قرباں ہوئی ہے صبح چراغوں پہ رات بھر ظلمت میں اپنی ڈوب گئیں دن کی بستیاں سورج تمام چمکے ستاروں پہ رات بھر اترے نہیں شبوں میں اڑانوں کے حوصلے بیٹھے رہے پرند بھی شاخوں پہ رات بھر اک لو نہیں نصیب غریبان شہر کو شمعیں جلی ہیں کتنی مزاروں پہ رات ...

مزید پڑھیے

تعاقب میرا خوشبو کر رہی تھی

تعاقب میرا خوشبو کر رہی تھی مرے زخموں پہ مرہم دھر رہی تھی میں چھیڑوں پھر وہی ساز محبت اشارے وہ مسلسل کر رہی تھی ہوا دن فکر دنیا نے دبوچا تمہاری یاد تو شب بھر رہی تھی وہ دن بھی تھے کہ تو نے اشک پونچھے تری ممنون چشم تر رہی تھی ہمارا نام کیا صورت نہیں یاد ملاقات ان سے تو اکثر رہی ...

مزید پڑھیے

اسے بھلا نہ سکی نقش اتنے گہرے تھے

اسے بھلا نہ سکی نقش اتنے گہرے تھے خیال و خواب پر میرے ہزار پہرے تھے وہ خوش گماں تھے تو جو خواب تھے سنہرے تھے وہ بد گماں تھے اندھیرے تھے اور گہرے تھے جو آج ہوتی کوئی بات بات بن جاتی اسے سنانے کے امکان بھی سنہرے تھے سماعتوں نے کیا رقص مست ہو ہو کر صدا میں اس کی حسیں بین جیسے لہرے ...

مزید پڑھیے

دھوپ پیچھا نہیں چھوڑے گی یہ سوچا بھی نہیں

دھوپ پیچھا نہیں چھوڑے گی یہ سوچا بھی نہیں ہم وہاں ہیں جہاں دیوار کا سایہ بھی نہیں جانے کیوں دل مرا بے چین رہا کرتا ہے ملنا تو دور رہا اس کو تو دیکھا بھی نہیں آپ نے جب سے بدل ڈالا ہے جینے کا چلن اب مجھے تلخیٔ احباب کا شکوہ بھی نہیں مے کدہ چھوڑے ہوئے مجھ کو زمانہ گزرا اور ساقی سے ...

مزید پڑھیے

اب خیالوں کا جہاں اور نہ آباد کریں

اب خیالوں کا جہاں اور نہ آباد کریں خواب جو بھول چکے ہیں انہیں بس یاد کریں تھپکی دے دے کے سلانے کی ہے عادت دل کو اب کسی اور سے کیوں خود ہی سے فریاد کریں کتنے موسم کے چھلاوے سے گزر کر پہنچی اس ڈگر پہ کہ جہاں لوگ مجھے یاد کریں ہم بھی اب فکر جہاں چھوڑ کے جی بھر ہنس لیں وقت اتنا بھی ...

مزید پڑھیے

ہم جھکاتے بھی کہاں سر کو قضا سے پہلے

ہم جھکاتے بھی کہاں سر کو قضا سے پہلے وقت نے دی ہے سزا ہم کو خطا سے پہلے اپنی قسمت میں کہاں رقص شرر کا منظر شمع جاں بجھ گئی دامن کی ہوا سے پہلے یہ الگ بات کہ منزل کا نشاں کوئی نہ تھا کوہسار اور بھی تھے کوہ ندا سے پہلے مدعا کوئی نہ تھا تیرے سوا کیا کرتے دل دھڑکتا ہی رہا حرف دعا سے ...

مزید پڑھیے

شکار ہو گیا وہ خود ہی اس زمانے کا

شکار ہو گیا وہ خود ہی اس زمانے کا جواز ڈھونڈ رہا تھا مجھے مٹانے کا یہ امتحان فن آذری سے ہے منسوب تراش لیجئے پتھر کوئی ٹھکانے کا کبھی رہا تو نہیں گردش فلک کا ساتھ کہاں سے سیکھا ہے تم نے ہنر ستانے کا مرے خلوص کا جس کو نہ اعتبار آیا فریب کھاتا رہا عمر بھر زمانے کا جو اہل دل ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 950 سے 4657