شاعری

حق نوائی کو زمانے کی زباں کون کرے

حق نوائی کو زمانے کی زباں کون کرے ایسی تلخی کو صمدؔ لذت جاں کون کرے اب سر دار وفاؤں کے لیے کون آئے چند خوابوں کے لیے ترک جہاں کون کرے ہم نے مانا کہ بڑی چیز ہے پابندیٔ وقت سجدۂ شوق کو پابند اذاں کون کرے وقت کی چاپ سے گونجی ہے مری تنہائی وقت کی چاپ کو اب اور گراں کون کرے کون اونچی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں خواب سی ہیں یادیں ذرا ذرا سی

آنکھوں میں خواب سی ہیں یادیں ذرا ذرا سی دن پر جھکی ہوئی ہیں راتیں ذرا ذرا سی موسم بدل گئے ہیں سب شہر آرزو کے کیا کر گئیں قیامت باتیں ذرا ذرا سی یہ زندگی کی بازی بازی گری نہیں ہے کیا کھیل کھیلتی ہیں ماتیں ذرا ذرا سی گزرے ہیں کارواں جب شاداب منزلوں سے قدموں میں رہ گئی ہیں راہیں ...

مزید پڑھیے

آزاد نہیں ذہن ابھی فکر بدن سے

آزاد نہیں ذہن ابھی فکر بدن سے نکلا نہیں انسان ابھی اپنے گہن سے اب دار سے ملتا ہے ترا قامت بالا شکوہ تھا ترے قد کو بہت سرو و سمن سے موسم کا نہیں اپنے کوئی جسم شناسا ماتھے کا تعلق نہیں ماتھے کی شکن سے دشوار تھا کچھ میں بھی زمانے کے ہنر پر کچھ دور رکھا وقت نے مجھ کو مرے فن سے کیا ...

مزید پڑھیے

دست شبنم پہ دم شعلہ نوائی نہ رکھو

دست شبنم پہ دم شعلہ نوائی نہ رکھو صبح کی گود میں شب بھر کی کمائی نہ رکھو میری یادوں کے صنم خانوں سے اٹھنے دو دھواں میرے سینے پہ ابھی دست حنائی نہ رکھو جاگ جائے نہ کہیں حسن کا سوتا پندار دیدۂ شوق میں انداز گدائی نہ رکھو شب کو رہنے دو یوں ہی شام و سحر کا پیوند ڈر کے ظلمات سے بنیاد ...

مزید پڑھیے

وہ گم ہوئے ہیں مسافر رہ تمنا میں

وہ گم ہوئے ہیں مسافر رہ تمنا میں کہ گرد بھی نہیں اب آرزو کے صحرا میں ہے کون جلوہ سرا بام آفرینش پر اتر گئے ہیں ستارے سے چشم بینا میں ملی تھی جس کو نمو درد کی صلیبوں سے وہ لمس بھی نہیں باقی مرے مسیحا میں کشید جن سے ہوئی تھی نئے زمانوں کی وہ میکدے بھی ہوئے غرق موج صہبا میں اٹھا ...

مزید پڑھیے

چشم حیراں کو یوں ہی محو نظر چھوڑ گئے

چشم حیراں کو یوں ہی محو نظر چھوڑ گئے دل میں لہرائے خیالوں میں شرر چھوڑ گئے جن کے سائے میں کبھی بیٹھ کے سستایا تھا وہ گھنے پیڑ مری راہگزر چھوڑ گئے منتظر ان کے لیے ہے کسی گرداب کی آنکھ خود سفینوں کو جو ہنگام خطر چھوڑ گئے قافلے نور کے اترے نہ کسی منزل پر شب کے نم دیدہ کناروں پہ سحر ...

مزید پڑھیے

وہ آرزو کہ دلوں کو اداس چھوڑ گئی

وہ آرزو کہ دلوں کو اداس چھوڑ گئی مری زباں پہ سخن کی مٹھاس چھوڑ گئی لکھی گئی ہے مری صبح کے مقدر میں وہ روشنی جو کرن کا لباس چھوڑ گئی اٹھی تھی موج جو مہتاب کے کنارے سے زمیں کے گرد فلک کی اساس چھوڑ گئی یہ کس مقام تمنا سے بے خودی گزری یہ کس کا نام پس التماس چھوڑ گئی چراغ زیست سے ...

مزید پڑھیے

آہٹوں سے دماغ جلتا ہے

آہٹوں سے دماغ جلتا ہے آج سکہ ہوا کا چلتا ہے تھرتھراتی ہے لو مشیت کی ایک محشر فضا میں پلتا ہے سر اٹھاتے ہیں نقش پاؤں تلے سایہ جب آدمی کا ڈھلتا ہے رنگ چنتا ہے ذہن بلور جسم جب دھوپ سے پگھلتا ہے اپنے محور پہ شام تک سورج کتنے ہی زاویے بدلتا ہے کر کے پتھر سے پاش پاش ہمیں شہر کا شہر ...

مزید پڑھیے

آئینۂ دل داغ تمنا کے لیے تھا

آئینۂ دل داغ تمنا کے لیے تھا سینے کا صدف اک در یکتا کے لیے تھا جو تیرنے والے تھے وہ منجدھار سے گزرے دریا کا کنارہ کف دریا کے لیے تھا کیوں ہاتھ میں تیرے مجھے پتھر نظر آیا دیوانہ اگر تھا تو میں دنیا کے لیے تھا گزرا نہ ترے بعد کوئی کوچۂ دل سے یہ راستہ اک نقش کف پا کے لیے تھا دیوار ...

مزید پڑھیے

چشم نم پہلے شفق بن کے سنورنا چاہے

چشم نم پہلے شفق بن کے سنورنا چاہے اور پھر ریت کے دامن پہ بکھرنا چاہے عجب انسان ہے وہ سحر یہ کرنا چاہے آنکھ سے دیکھو اگر دل میں اترنا چاہے کچھ عجب اس سے تعلق ہے کہ اس کی ہر بات موج خوں بن کے مرے سر سے گزرنا چاہے سارا دن دھوپ کے صحرا میں رہے سرگرداں شام ہوتے ہی سمندر میں اترنا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 949 سے 4657