حق نوائی کو زمانے کی زباں کون کرے
حق نوائی کو زمانے کی زباں کون کرے ایسی تلخی کو صمدؔ لذت جاں کون کرے اب سر دار وفاؤں کے لیے کون آئے چند خوابوں کے لیے ترک جہاں کون کرے ہم نے مانا کہ بڑی چیز ہے پابندیٔ وقت سجدۂ شوق کو پابند اذاں کون کرے وقت کی چاپ سے گونجی ہے مری تنہائی وقت کی چاپ کو اب اور گراں کون کرے کون اونچی ...