شاعری

جب سے آنکھوں میں کوئی خواب حسیں رکھا ہے

جب سے آنکھوں میں کوئی خواب حسیں رکھا ہے اس کی تعبیر کا تحفہ بھی کہیں رکھا ہے جس کی فطرت ہے سدا لوگوں کو دھوکا دینا کیوں اسے آپ نے پھر اپنا امیں رکھا ہے سب کو دیتا ہوں محبت کا حسیں گلدستہ جذبہ نفرت کا کبھی دل میں نہیں رکھا ہے گرچہ حیوانیت آنے لگی اس میں پھر سے میں نے انسان کی ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا

لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا میں بھی اندر سے نیا ہونے لگا شدت غم نے حدیں سب توڑ دیں ضبط کا منظر ہوا ہونے لگا پھر نئے ارمان شاخوں کو ملے پتہ پتہ پھر ہرا ہونے لگا غور سے ٹک آنکھ نے دیکھا ہی تھا مجھ سے ہر منظر خفا ہونے لگا رات کی سرحد یقیناً آ گئی جسم سے سایا جدا ہونے لگا میں ابھی تو ...

مزید پڑھیے

ہم روح کائنات ہیں نقش اساس ہیں

ہم روح کائنات ہیں نقش اساس ہیں ہم وقت کا خمیر زمانے کی باس ہیں تنہا ہیں ہم تمام نہ قربت نہ فاصلے ہم آپ کے قریب نہ ہم اپنے پاس ہیں کب سے ٹنگے ہوئے ہیں خلاؤں کے آس پاس کب سے یہ آسماں کے ستارے اداس ہیں خود ہٹ گئے ہیں دور وہ پانی کے زور سے دریا کے وہ کنارے جو دریا شناس ہیں خود رو ہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی لو میں کوئی ڈوبا ہی نہیں

اپنی لو میں کوئی ڈوبا ہی نہیں چاند احساس کا ابھرا ہی نہیں کوئی آہٹ نہ کوئی نقش قدم جیسے دل سے کوئی گزرا ہی نہیں چور آئینۂ ایام بھی ہے میرا ماضی مرا فردا ہی نہیں درس میں بھی ہوں زمانے کے لیے ایک عبرت گہہ دنیا ہی نہیں کتنی صدیوں پہ رکے گا جا کر ایک لمحہ کہ جو بیتا ہی نہیں کتنا ...

مزید پڑھیے

ہم پہ اک ظلم کر دیا گیا ہے

ہم پہ اک ظلم کر دیا گیا ہے دل محبت سے بھر دیا گیا ہے اس کے آنگن میں اڑ کے جانے کو اک پرندے کا پر دیا گیا ہے ہم نے اک پھول لینا چاہا تھا باغ کانٹوں سے بھر دیا گیا ہے اب تجھے سوچنا بھی مشکل ہے اتنا مصروف کر دیا گیا ہے کوئی تو یہ خبر سنا جائے جینا آسان کر دیا گیا ہے

مزید پڑھیے

سکھایا عشق نے مجھ کو کہ جنگجو کیا ہے

سکھایا عشق نے مجھ کو کہ جنگجو کیا ہے یہ کیا ہے زخم کی شدت کہ پھر رفو کیا ہے اگر سکوں ہے کسی اک جگہ ٹھہر جانا تو پھر یہ خوب سے برتر کی جستجو کیا ہے اصول ہوتے ہیں کچھ دوستو محبت کے اگر نماز ہے سب کچھ تو پھر وضو کیا ہے اگر ہو چھوڑ گئے مجھ کو چھوڑنے والے تو تیری یادوں سا یہ میرے روبرو ...

مزید پڑھیے

سکوں کو چھوڑ کے غم بے حساب لاتا ہوں

سکوں کو چھوڑ کے غم بے حساب لاتا ہوں سہانے خواب بھی سارے خراب لاتا ہوں جو تم نے توڑے پرانے تھے سارے کے سارے ذرا رکو نیا کوئی میں خواب لاتا ہوں مکان نہر کنارے تمہیں مبارک ہو میں کم سہی مگر آپ اپنا آب لاتا ہوں وہ بولے مجھ سے محبت گناہ تھی سو میں انہیں لٹانے کو اپنے ثواب لاتا ...

مزید پڑھیے

اپنی بھی ایسی اک کہانی ہے

اپنی بھی ایسی اک کہانی ہے درد ہے اور بے زبانی ہے آپ کیا مجھ سے سننے آئے ہیں میرا تو کام خود کلامی ہے ہم نہ جو مانتے تھے اپنی بھی ہم نے بھی بات اس کی مانی ہے عشق ہوگا تو آپ جانیں گے آنکھ میں اشک ہیں یا پانی ہے کان میں انگلیاں رکھو جلدی میں نے اک آرزو سنانی ہے لوگ پڑھتے ہیں تازہ ...

مزید پڑھیے

شرح جمال کیجے شہادت کے ماسوا

شرح جمال کیجے شہادت کے ماسوا حسن ازل کی بات روایت کے ماسوا رگ رگ میں دوڑتی تھی بہاروں کی تازگی اب کچھ نہیں لہو میں حرارت کے ماسوا معنی میں ڈھال دیجئے اک ایک حرف کو کیجے مگر کلام عبارت کے ماسوا ملتا نہیں جہان میں رنگ آستان کا ماتم ہے کربلا میں شہادت کے ماسوا بس اک قیام دید پہ ...

مزید پڑھیے

طلسم لفظ و معانی کو تار تار کریں

طلسم لفظ و معانی کو تار تار کریں تصورات کی ندرت کو آشکار کریں اتار لائیں فلک سے مہہ‌ و نجوم تمام زمیں پہ عظمت آدم کو استوار کریں ہیں سمت سمت عیاں خیر و شر کے ہنگامے کہ آدمی کو خدائی کا راز دار کریں ہیں جمع دہر میں فتنے سبھی قیامت کے اب اور کون سے محشر کا انتظار کریں گزر کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 948 سے 4657