ہو لینے دو بارش ہم بھی رو لیں گے
ہو لینے دو بارش ہم بھی رو لیں گے دل میں ہیں کچھ زخم پرانے دھو لیں گے میرا اس بازار میں جانا ہے بے سود میری انا کو وہ سکوں سے تولیں گے جاتے ہیں سب اپنی اپنی ٹولی میں اپنا کون ہے ساتھ کسی کے ہو لیں گے اس کو شاید یاد ہماری آئے گی ہوا چلے گی اور پرندے ڈولیں گے سب چیخے چلائے کیا پڑتا ...