شاعری

ہو لینے دو بارش ہم بھی رو لیں گے

ہو لینے دو بارش ہم بھی رو لیں گے دل میں ہیں کچھ زخم پرانے دھو لیں گے میرا اس بازار میں جانا ہے بے سود میری انا کو وہ سکوں سے تولیں گے جاتے ہیں سب اپنی اپنی ٹولی میں اپنا کون ہے ساتھ کسی کے ہو لیں گے اس کو شاید یاد ہماری آئے گی ہوا چلے گی اور پرندے ڈولیں گے سب چیخے چلائے کیا پڑتا ...

مزید پڑھیے

نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب

نکل کے ذہن سے میرے زباں پہ آیا کب وہ دل کا نغمہ سہی میں نے گنگنایا کب گئی جو دھوپ تو اب چاندنی کی باری ہے کہ ساتھ چھوڑے گا میرا یہ کالا سایہ کب نہ جانے ہو گیا دنیا میں تیرے جیسا کیوں سبق حیات کا تو نے مجھے پڑھایا کب تمام شہر تو خوشبو سے اس کی واقف ہے کوئی تو مجھ کو بتاتا یہاں وہ ...

مزید پڑھیے

ہماری کاوش شعر و سخن بیکار جاتی ہے

ہماری کاوش شعر و سخن بیکار جاتی ہے غزل کیسی بھی ہو اس کے بدن سے ہار جاتی ہے یہ کیسے مرحلے میں پھنس گیا ہے میرا گھر مالک اگر چھت کو بچا بھی لوں تو پھر دیوار جاتی ہے مرے خوابوں کا اس کی آنکھ سے رشتہ نہیں ٹوٹا مری پرچھائیں اکثر جھیل کے اس پار جاتی ہے چلو آزاد ہو کر کم سے کم اتنا تو ...

مزید پڑھیے

لفظوں کا یہ خزانہ ترے نام کب ہوا

لفظوں کا یہ خزانہ ترے نام کب ہوا یہ شعر کب کہے تجھے الہام کب ہوا یہ بات ٹھیک ہے کہ مجھے دام کم ملے چپکے سے بک گیا ہوں میں نیلام کب ہوا کیسی شراب ہوں کہ ہے تشنہ مرے ہی لب اپنے لئے میں درد تہ جام کب ہوا یہ ہے مرا نصیب کہ شہرت نہیں ملی لیکن کوئی بتائے کہ بد نام کب ہوا آتا رہا ہوں یاد ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کے پتھر گرتے رہتے ہیں دن رات چٹانوں سے

ٹوٹ کے پتھر گرتے رہتے ہیں دن رات چٹانوں سے ساون کی برسات کی صورت برسیں تیر کمانوں سے کالے کوسوں دور سے آخر لائے بھی تو پھلجھڑیاں ہیرے بھی تو مل سکے تھے سوچ کی گہری کانوں سے اس رنگیں بازار میں کوئی کیا خوشبو کا دھیان کرے پھولوں کو مالی بھی پرکھے رنگوں کے پیمانوں سے رات سحر کی ...

مزید پڑھیے

پھر میں ان منزلوں کا طالب ہوں پھر میں اس راہ سے گزرتا ہوں

پھر میں ان منزلوں کا طالب ہوں پھر میں اس راہ سے گزرتا ہوں اب میں تجھ کو صدائیں کیا دوں گا اب میں خود کو تلاش کرتا ہوں ہر صدا سن کے دل دھڑکتا ہے مجھ کو خاموشیوں سے دہشت ہے کیا کروں سامنا جہان کا اب جب میں پرچھائیوں سے ڈرتا ہوں میری ہستی عجیب ہے یارب اب مجھے خود پہ اختیار نہیں عالم ...

مزید پڑھیے

میں جن کو ڈھونڈنے نکلا تھا گہرے غاروں میں

میں جن کو ڈھونڈنے نکلا تھا گہرے غاروں میں پتہ چلا کہ وہ رہتے ہیں اب ستاروں میں پرکھ رہا ہے مجھے جو وہ اس خیال کا ہے ہمیشہ جھوٹ نہیں ہوتا اشتہاروں میں انہیں یقین تھا دنیا کی عمر لمبی ہے جو لوگ پیڑ لگاتے تھے رہ گزاروں میں میں خود کو دیکھوں اگر دوسرے کی آنکھوں سے ملیں گی خامیاں ...

مزید پڑھیے

یہ جھوٹ ہے کہ بچھڑنے کا اس کو غم بھی نہیں

یہ جھوٹ ہے کہ بچھڑنے کا اس کو غم بھی نہیں وہ رو رہا ہے مگر اس کی آنکھ نم بھی نہیں یہ بات سچ ہے کہ وہ زندگی نہیں میری مگر وہ میرے لئے زندگی سے کم بھی نہیں تجھے پتہ ہی نہیں میری راہ کیسی ہے تو چل سکے گا مرے ساتھ دو قدم بھی نہیں یہ کیا کہ لگتا ہے اب سب کو خالی خالی سا مرے علاوہ کوئی ...

مزید پڑھیے

لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اڑی ہے اب بھی

لاکھ سمجھایا مگر ضد پہ اڑی ہے اب بھی کوئی امید میرے پیچھے پڑی ہے اب بھی شہر تنہائی میں موسم نہیں بدلا کرتے دن بہت چھوٹا یہاں رات بڑی ہے اب بھی مان لوں کیسے یہاں دریا نہیں تھا لوگو دیکھ لو ریت پہ اک کشتی پڑی ہے اب بھی چھت میں کچھ چھید ہیں یہ راز بتانے کے لئے دھوپ خاموشی سے کمرے ...

مزید پڑھیے

غزل کہنے میں یوں تو کوئی دشواری نہیں ہوتی

غزل کہنے میں یوں تو کوئی دشواری نہیں ہوتی مگر اک مسئلہ یہ ہے کہ معیاری نہیں ہوتی اگر چہرہ بدلنے کا ہنر تم کو نہیں آتا تو پھر پہچان کی پرچی یہاں جاری نہیں ہوتی سمندر سے تو مجبوری ہے اس کی روز ملنا ہے بہت چالاک ہے لیکن ندی کھاری نہیں ہوتی بتاؤں کیا مجھے محتاط رہنا آ گیا کیسے نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 917 سے 4657