شاعری

الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں

الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں کسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیں سبک سر ہے وہی جو دوسروں کے گھر پہ جاتا ہے جو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں غضب ہے قہر ہے شامت ہے آفت ہے قیامت ہے بغل میں وہ عدو کے آج کیوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں کہیں کیا مدعا ...

مزید پڑھیے

تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیں

تمہیں شب وعدہ درد سر تھا یہ سب ہیں بے اعتبار باتیں یقیں نہ آئے گا ہم کو ہرگز بناؤ گو تم ہزار باتیں نہیں جو منظور تم کو ملنا تو کیوں نہیں صاف صاف کہتے سمجھ میں آتی نہیں ہمارے کرو نہ تم پیچ دار باتیں اٹھی ہے کالی گھٹا فلک پر ہے ساقیٔ ماہ وش بغل میں بہک بہک کر ہیں کیا مزے سے بنا رہے ...

مزید پڑھیے

کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میں

کالی گھٹا کب آئے گی فصل بہار میں آنکھیں سفید ہو گئیں اس انتظار میں کیوں کر قرار آئے دل بے قرار میں تم پورے کب اترتے ہو قول و قرار میں تاریک دشت ہو گیا آنکھوں میں قیس کی پنہاں ہوا جو ناقۂ لیلیٰ غبار میں آئے کبھی نہ پھر تجھے سیر چمن میں لطف بیٹھے اگر تو آ کے دل داغدار میں لازم ...

مزید پڑھیے

کیفؔ بے سمت رواں بات بری لگتی ہے

کیفؔ بے سمت رواں بات بری لگتی ہے ہم تو ٹوکیں گے جہاں بات بری لگتی ہے پیار کرنے کا سلیقہ جسے آ جاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہاں بات بری لگتی ہے جس جگہ کام اشاروں سے نکالا جائے اے مرے دوست وہاں بات بری لگتی ہے جس پہ مالک کی عنایت ہو اگر بن مانگے وہ کرے شکوہ یہاں بات بری لگتی ہے جب سے ...

مزید پڑھیے

سلگتے سوچتے گھلتے رہے شباب کے دن

سلگتے سوچتے گھلتے رہے شباب کے دن گزر گئے ہیں ترے ہجر میں عذاب کے دن خود اپنے آپ سے لڑ کر کبھی زمانے سے بسر ہوئے ہیں کئی اس طرح جناب کے دن غرور اتنا بھی جوبن پہ مت کرو دلبر یہ جان لو ہیں بہت مختصر گلاب کے دن مرے رفیق مجھے رفتہ رفتہ چھوڑ گئے ہمیشہ تو نہیں رہتے ہیں آب و تاب کے ...

مزید پڑھیے

وسعت بحر عشق کیا کہیے

وسعت بحر عشق کیا کہیے ابتدا ہو تو انتہا کہیے تیرے جور و جفا کو کیا کہیے ناز کہیے انہیں ادا کہیے اس ستم گر کو اور کیا کہیے سارے جھوٹوں کا پیشوا کہیے پوچھنا چاہیے طبیبوں سے درد دل کی ہے یہ دوا کہیے ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں کچھ سمجھ کر برا بھلا کہیے غیروں کے سامنے بلا کے ...

مزید پڑھیے

دیکھا کسی کا ہم نے نہ ایسا سنا دماغ

دیکھا کسی کا ہم نے نہ ایسا سنا دماغ ان سنگ دل بتوں کا ہے اللہ کیا دماغ کرتا نہیں تمیز شریف و رذیل میں اس چرخ پیر کا ہے مگر پھر گیا دماغ دیکھے بہت ہیں ہم نے حسینان پر غرور لیکن عجب طرح کا ہے کچھ آپ کا دماغ کل جتنا ہم نے اس کو منا کے بنایا تھا اتنا ہی آج اور ہے بگڑا ہوا دماغ جب ہوں ...

مزید پڑھیے

ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیے

ناصحا آیا نصیحت ہے سنانے کے لیے یا کہ آیا ہے یہاں تیرے ستانے کے لیے آ کے لاشہ پہ مرے وہ آب دیدہ گر ہوا یہ بہانا آنسوؤں کا ہے بہانے کے لیے تم جو کہتے ہو کہ کیا وہ ایسی جلدی مر گیا کیا ہیں برسوں چاہئیں اک جان جانے کے لیے کیا ہوا گر موت آئی ہے وہ آنے کے لیے کیا ہوا گر جاں گئی ہے وہ ...

مزید پڑھیے

میں وہ آتش‌ نفس ہوں آگ ابھی (ردیف .. ا)

میں وہ آتش‌ نفس ہوں آگ ابھی خرمن‌ برق میں لگا دوں گا روٹھو مجھ سے نہ وہ بلا ہوں میں رونی صورت کو بھی ہنسا دوں گا تو اٹھائے جو خنجر پر خم گردن اپنی وہیں جھکا دوں گا آہ سے عرش کو ہلا دوں گا کنگر چرخ کو جھکا دوں گا نہ چلو مجھ سے تم رقیبوں چال انگلیوں پر تمہیں نچا دوں گا وقت رونے ...

مزید پڑھیے

خریدنا ہو اگر اختیار بکتا ہے

خریدنا ہو اگر اختیار بکتا ہے لگاؤ دام یہاں اعتبار بکتا ہے جہاں پہ لمحہ بہ لمحہ وفا بدلتی ہے وہاں پہ کذب و ریا بار بار بکتا ہے وہاں پہ اہل ہنر خاک چھانتے ہوں گے گلی گلی میں جہاں روزگار بکتا ہے وفا کے شہر میں تم سوچ کر قدم رکھنا وہاں تو درد جگر بے شمار بکتا ہے بتاؤ کیفؔ یہ کیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 914 سے 4657