الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں
الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں کسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیں سبک سر ہے وہی جو دوسروں کے گھر پہ جاتا ہے جو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں غضب ہے قہر ہے شامت ہے آفت ہے قیامت ہے بغل میں وہ عدو کے آج کیوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں کہیں کیا مدعا ...