بجز سایہ تن لاغر کو میرے کوئی کیا سمجھے
بجز سایہ تن لاغر کو میرے کوئی کیا سمجھے مری صورت کو محفل میں وہ نقش بوریا سمجھے ہم اس کو اپنے حق میں آفت جاں اور بلا سمجھے بتان بے وفا ہیں جن کو اک اپنی ادا سمجھے کوئی کیا خاک راز مشکل ذات خدا سمجھے اگر نور خدا کو ذات انساں سے جدا سمجھے وہاں جا کر کرے گر قتل تو بیمار ہجراں کو ترے ...