شاعری

یوں اہتمام رد سحر کر دیا گیا

یوں اہتمام رد سحر کر دیا گیا ہر روشنی کو شہر بدر کر دیا گیا اپنے گھروں کے سکھ سے بھی روکش دکھائی دیں لوگوں کو مبتلائے سفر کر دیا گیا جینا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں رہا جینے کو ایک کار ہنر کر دیا گیا چہروں سے رنگ ہاتھ سے آئینے چھین کر بے چہرگی کو رخت نظر کر دیا گیا اب جسم و جاں پہ ...

مزید پڑھیے

اک راز دل ربا کو بیاں ہونا ہے ابھی

اک راز دل ربا کو بیاں ہونا ہے ابھی حرف و صدا کو شعلہ بجاں ہونا ہے ابھی جاگی ہے دل میں شہد شہادت کی آرزو راہ وفا کا سنگ نشاں ہونا ہے ابھی روکا ہوا ہے تم نے ہواؤں کو کس لیے اس راکھ میں شرر کا گماں ہونا ہے ابھی سانسیں شبوں کی جاں کی طنابیں اکھڑ گئیں اگلے سفر پہ ہم کو رواں ہونا ہے ...

مزید پڑھیے

پس آئنہ خد و خال میں کوئی اور تھا

پس آئنہ خد و خال میں کوئی اور تھا کوئی سامنے تھا خیال میں کوئی اور تھا جو دنوں کے دشت میں چل رہا تھا وہ میں نہ تھا جو دھڑکتا تھا مہ و سال میں کوئی اور تھا کوئی اور تھا مرے ساتھ دور عروج میں مرے ساتھ عہد زوال میں کوئی اور تھا جسے صید کرنا تھا دام میں وہ چلا گیا وہ جو رہ گیا ترے جال ...

مزید پڑھیے

عجب خجالت جاں ہے نظر تک آئی ہوئی

عجب خجالت جاں ہے نظر تک آئی ہوئی کہ جیسے زخم کی تقریب رو نمائی ہوئی نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی برون خاک فقط چند ٹھیکرے ہیں مگر یہاں سے شہر ملیں گے اگر کھدائی ہوئی خبر نہیں ہے کہ تو بھی وہاں ملے نہ ملے اگر کبھی مرے دل تک مری رسائی ...

مزید پڑھیے

وہی ہے دشت سفر رہ گزر سے آگے بھی

وہی ہے دشت سفر رہ گزر سے آگے بھی وہی خلا ہے حدود نظر سے آگے بھی وہ آفتاب اسی صحن میں معلق ہے اگرچہ گھر ہیں بہت اس کے گھر سے آگے بھی ہمارے دم سے ہے قائم زمیں کی زرخیزی ہمارا فیض ہے شاخ شجر سے آگے بھی تلاش نور میں ہم بارہا نکل آئے نظر کے ساتھ حدود سفر سے آگے بھی غلط امید نہ باندھ ...

مزید پڑھیے

لہو میں پھول کھلانے کہاں سے آتے ہیں

لہو میں پھول کھلانے کہاں سے آتے ہیں نئے خیال نہ جانے کہاں سے آتے ہیں یہ کون لوگ ہیں ہر شام طاق مژگاں پر چراغ یاد جلانے کہاں سے آتے ہیں خزاں کی شاخ میں حیراں ہے آنکھ کی کونپل پلٹ کے عہد پرانے کہاں سے آتے ہیں سمندروں کو سکھاتا ہے کون طرز خرام زمیں کی تہہ میں خزانے کہاں سے آتے ...

مزید پڑھیے

وہ چراغ سا کف رہ گزار میں کون تھا

وہ چراغ سا کف رہ گزار میں کون تھا میں کہاں تھا اور مرے انتظار میں کون تھا کوئی دھول اڑتی تھی راستوں پہ نہ کھل سکا وہ غنیم تھا کہ کمک غبار میں کون تھا کوئی شام حلقۂ دوستاں میں گزارتا جسے جا کے ملتا میں اس دیار میں کون تھا مرے خواب کس نے چرا لیے سر شام غم مری عمر جس کے تھی اختیار ...

مزید پڑھیے

شکوۂ آب میں گم تھے جہت نشاں میرے

شکوۂ آب میں گم تھے جہت نشاں میرے ہوا نے رکھ دیئے تہہ کر کے بادباں میرے سحر کو ساتھ اڑا لے گئی صبا جیسے یہ کس نے کر دیئے رستے دھواں دھواں میرے ترے اشارۂ ابرو پہ رت بدلتی ہے بہار ہے نہ تسلط میں ہے خزاں میرے اترنے والے سفینوں میں چھید کرتے گئے ڈبو گئے مجھے ساحل پہ مہرباں ...

مزید پڑھیے

زندگی کے کٹہرے میں اک بے خطا آدمی کی طرح

زندگی کے کٹہرے میں اک بے خطا آدمی کی طرح ہم مخاطب ہوئے آپ سے بے نوا آدمی کی طرح دوریوں سے ابھرتا ہوا عکس تصویر بنتا گیا گفتگو رات کرتی تھی ہم سے ہوا آدمی کی طرح کون کیا سوچتا ہے ہمارے رویوں پہ سوچا نہیں عمر ہم نے گزاری ہے اک مبتلا آدمی کی طرح روزنوں تک سے کوئی مکیں جھانکتا یہ ...

مزید پڑھیے

ہوا نقیب بہاراں ابھی نہیں اے دل

ہوا نقیب بہاراں ابھی نہیں اے دل یہ رت بدلنے کا امکاں ابھی نہیں اے دل فراق نغمہ سے میرے ہی لب ملول نہیں کوئی پرندہ غزل خواں ابھی نہیں اے دل ابھی کچھ اور خجل ہو رہ تمنا پر تو اس کے لطف کا عنواں ابھی نہیں اے دل اسے بھلانے میں کچھ وقت تو لگے گا مجھے یہ کام اتنا بھی آساں ابھی نہیں اے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 887 سے 4657