شاعری

کیا کیا منظر دیکھ رہا ہوں

کیا کیا منظر دیکھ رہا ہوں خود سے مل کر دیکھ رہا ہوں جان رہا ہوں کون رکے گا پھر بھی مڑ کر دیکھ رہا ہوں شاید گھر پر وہ مل جائے دستک دے کر دیکھ رہا ہوں اندھیاروں کا روپ ہے کیسا دیپ بجھا کر دیکھ رہا ہوں اندر کیسا منظر ہوگا جو کچھ باہر دیکھ رہا ہوں

مزید پڑھیے

سامنا زندگی کا کر تو سہی

سامنا زندگی کا کر تو سہی تپ کے اس آگ میں نکھر تو سہی ظلم سے آنکھ چار کر تو سہی ہو نہ جائے یہ بے اثر تو سہی دولت عمر جاوداں مل جائے تو بنام حیات مر تو سہی تیری تصویر بول اٹھے گی میری آنکھوں کا رنگ بھر تو سہی ساحل بحر میں کہاں گوہر ذرا گہرائی میں اتر تو سہی حق و باطل اگر سمجھنا ...

مزید پڑھیے

اتنا احسان اور کرتا کون

اتنا احسان اور کرتا کون مجھے سے بڑھ کر مجھے سمجھتا کون دین و دنیا سے ماورا تھا میں میری باتوں پہ کان دھرتا کون میں نہ ہوتا تو یوں لب دریا آبرو تشنگی کی رکھتا کون جو کسی نے لکھا نہیں وہ حرف میں نہ لکھتا تو اور لکھتا کون کھوٹ مجھ میں تو سب نے دیکھ لیا اپنا سونا مگر پرکھتا کون جس ...

مزید پڑھیے

یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو

یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو بات تو جب ہے کہ اپنا سامنا کرتے رہو ہر نفس پر زندگی کا حق ادا کرتے رہو روز مرنا ہے تو جینے کی دعا کرتے رہو ہر قدم پر منزلیں آواز دیں گی خود تمہیں شرط یہ ہے اپنے ہونے کا پتا کرتے رہو کیا ضروری ہے نہ مانو دل کی کوئی بات بھی اچھا لگتا ہے کبھی دل کا ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کے بادل پھر برسا ہے

ٹوٹ کے بادل پھر برسا ہے ہائے وہ جس کا گھر کچا ہے کیوں نہیں اٹھتے پاؤں ہمارے جب یہ رستہ گھر ہی کا ہے میں نے بھی کچھ حال نہ پوچھا وہ بھی کچھ چپ چپ سا رہا ہے منزل منزل دیپ جلے ہیں پھر بھی کتنا اندھیارا ہے دل میں اٹھا کر رکھ لیتا ہوں پاؤں میں جو کانٹا چبھتا ہے اب تو یہ بھی بھول گیا ...

مزید پڑھیے

تبصرہ یوں نہ مرے حال پہ اتنا ہوتا

تبصرہ یوں نہ مرے حال پہ اتنا ہوتا اس کو نزدیک سے دنیا نے جو دیکھا ہوتا کوئی مرتے ہوئے لمحوں کا مسیحا ہوتا کرب تنہائی کا احساس نہ اتنا ہوتا یہ جو آہٹ کی طرح ساتھ مرے رہتا ہے بن کے تصویر کبھی سامنے آیا ہوتا دے گیا جو مجھے تپتے ہوئے لمحوں کا گداز کاش وہ درد مرے واسطے تنہا ...

مزید پڑھیے

ہر سانس میں ہے صریر خامہ (ردیف .. ن)

ہر سانس میں ہے صریر خامہ میں خود کو ہر آن لکھ رہا ہوں کم ذائقہ آشنا ہیں جس کے ایک ایسی زبان لکھ رہا ہوں پتھر ہیں تمام لفظ لیکن میں پھول سمان لکھ رہا ہوں روشن ہے یقیں کی روشنائی یا اپنے گمان لکھ رہا ہوں ان دست بریدہ موسموں میں اللہ کی شان لکھ رہا ہوں دیوار چٹخ رہی ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

میرے پیار کا قصہ تو ہر بستی میں مشہور ہے چاند

میرے پیار کا قصہ تو ہر بستی میں مشہور ہے چاند تو کس دھن میں غلطاں پیچاں کس نشے میں چور ہے چاند تیری خندہ پیشانی میں کب تک فرق نہ آئے گا تو صدیوں سے اہل زمیں کی خدمت پر مامور ہے چاند اہل نظر ہنس ہنس کر تجھ کو ماہ کامل کہتے ہیں! تیرے دل کا داغ تجھی پر طنز ہے اور بھرپور ہے چاند تیرے ...

مزید پڑھیے

ہر آن ایک نیا امتحان سر پر ہے

ہر آن ایک نیا امتحان سر پر ہے زمین زیر قدم آسمان سر پر ہے دہائی دیتی ہیں کیسی ہری بھری فصلیں کسی غنیم کی صورت لگان سر پر ہے میں خاندان کے سر پر ہوں بادلوں کی مثال سو بجلیوں کی طرح خاندان سر پر ہے قدم جماؤں تو دھنستے ہیں ریگ سرخ میں پاؤں جو سر اٹھاؤں تو نیلی چٹان سر پر ہے میں ...

مزید پڑھیے

لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار

لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار میں گھر جلتا چھوڑ آیا ہوں دریا کے اس پار کس کی روح تعاقب میں ہے سائے کے مانند آتی ہے نزدیک سے اکثر خوشبو کی جھنکار تیرے سامنے بیٹھا ہوں آنکھوں میں اشک لیے میرے تیرے بیچ ہو جیسے شیشے کی دیوار میرے باہر اتنی ہی مربوط ہے بے ربطی میرے اندر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 818 سے 4657