شاعری

تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں

تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں کر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیں تسبیح نے جس دم فخر کیا دانوں میں وہیں ڈورے کو دکھا زنار نے اس رشتے سے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں اس باغ میں تو اے برگ حنا ہنسنے پہ مرے زخموں کے نہ جا رونے میں لہو خنداں ہوں کیا تو اور ...

مزید پڑھیے

وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئی

وہ مے پرست ہوں بدلی نہ جب نظر آئی سمٹ گئیں جو سیہ کاریاں گھٹا چھائی سفید بال ہوئے شب ہوئی جوانی کی دمیدہ صبح ہوئی چونک سر پہ دھوپ آئی حرم میں خاک ہوا ہوں وہ عاشق برباد میان دیر ہواے بتاں اڑا لائی میں وہ ہوں بلبل باغ جہاں کوئی گل ہو دیا دل اس کو محبت کی جس میں بو پائی چمن میں جا ...

مزید پڑھیے

لب جاں بخش پر جو نالہ ہے

لب جاں بخش پر جو نالہ ہے اب مسیحا بھی مرنے والا ہے خون تھوکا مدام صورت زخم دل ناصور اب تک آلا ہے رو رہا ہوں مثل ابر بہار دونگڑا مینہ کا ہے نہ جھالا ہے وہ بلانوش رنج و محنت ہوں غم کونین اک نوالا ہے ہر قدم پر ہیں سیکڑوں پامال سرکشوں کا چلن نرالا ہے ہر مژہ پر رواں ہیں کودک اشک نے ...

مزید پڑھیے

عشق رخ و زلف میں کیا کوچ

عشق رخ و زلف میں کیا کوچ شب آ کے رہا سحر کیا کوچ خیاط نفس کا ہے بجا کوچ درزی کا ہے کیا مقام کیا کوچ جب موج رواں کہیں نہ ٹھہری دم لے کے حباب کر گیا کوچ ہر دم ہے روا نہ عمر انساں ہر ایک نفس ہے کر رہا کوچ پروانہ جلا تو شمع بولی تیرا ہے ادھر ادھر مرا کوچ وہ سوزن ساعت رواں ہوں کرتی ہے ...

مزید پڑھیے

جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے

جو بیچ میں آئنہ ہو پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے تو پھر ہوں باہم دگر نظارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے جو کچھ گزرتی ہے دل پہ پیارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے کہیں وہ کس سے عدو ہیں سارے ادھر ہمارے ادھر تمہارے چلے وہ باد مراد ہمدم جو بحر غم سے نکالے باہم خوشی کے بجرے لگیں کنارے ادھر ہمارے ...

مزید پڑھیے

شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے

شکل مژگاں نہ خار کی سی ہے ہم نے تاڑی کٹار کی سی ہے ہنس کے کہتے ہیں بوسہ بازی میں جیت بھی اپنی ہار کی سی ہے عشق مژگاں میں ہم نے کانٹوں سے سوزنی جسم زار کی سی ہے اس پہ عالم فریب ہے دنیا پھوس بڑھیا مدار کی سی ہے گرم رفتار ہے وہ جانے میں مجھ کو آمد نجار کی سی ہے اپنی آنکھوں میں ہر ...

مزید پڑھیے

سدا رنگ مینا چمکتا رہا

سدا رنگ مینا چمکتا رہا ہمیشہ یہ سبزہ لہکتا رہا وہ کوچہ ہے الفت کا جس میں سدا خضر راہ بھولا بھٹکتا رہا کھلا یہ جہاں پردۂ در ہلا جہاں جو رہا سر پٹکتا رہا بتا لاغری سے ہے پر بال بھی میں آنکھوں میں سب کی کھٹکتا رہا لبالب یہاں ہو چکا جام عمر وہاں ساغر مے چھلکتا رہا برستی رہی قبر ...

مزید پڑھیے

ہم نے باندھے ہیں اس پہ کیا کیا جوڑ

ہم نے باندھے ہیں اس پہ کیا کیا جوڑ پر چلا ایک بھی نہ فقرا جوڑ جوڑتا ہے جو تو محبت کا ہم سے زنار دار رشتا جوڑ سر دشمن نہ توڑیئے کب تک مجھ پہ چلتا ہے وہ ہمیشہ جوڑ اے رفو گر جو ٹانک جامۂ تن تار تار اور پرزہ پرزہ جوڑ ذوالفقار علی کی تجھ کو قسم سر جدا جس سے ہو وہ فقرا جوڑ نسبت زلف ...

مزید پڑھیے

دل کی کہوں یا کہوں جگر کی

دل کی کہوں یا کہوں جگر کی کچھ بات کروں ادھر ادھر کی لو دل کی بجھائیں یا جگر کی لیں اشک خبر کدھر کدھر کی اٹھنے نہ دیا ہمیں مرے پر لی ضعف نے عاقبت پسر کی گھڑیال نصیب ہوں شب وصل سر چوٹ ہے ہر گھڑی گجر کی ڈھلنے کو ہے مہر نوجوانی چھٹنے پہ ہے توپ دوپہر کی کیا کم سخنوں کو شمع ...

مزید پڑھیے

سمجھ میں اس کی مقام بشر نہیں آیا

سمجھ میں اس کی مقام بشر نہیں آیا جسے خود اپنے سوا کچھ نظر نہیں آیا رہے گی پیاسی یہ دھرتی مرے خدا کب تک رتیں گزر گئیں بادل ادھر نہیں آیا ہزار چاند ستاروں کی سیر کر آئے ہمیں زمین پہ چلنا مگر نہیں آیا ضمیر بیچنا آساں سہی مگر یارو خطا معاف ہمیں یہ ہنر نہیں آیا بھلے تھے دن تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 814 سے 4657