شاعری

کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا

کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا وہی شیدا تھا ترا میں نہیں شیدا تیرا دیدۂ شوق سے بے وجہ ہے پردا تیرا کس نے دیکھا نہیں ان آنکھوں سے جلوا تیرا خود نزاکت پہ نہ کیوں بوجھ ہو پردا تیرا کیا کسی آنکھ نے دیکھا نہیں جلوا تیرا مٹ گئی شورش طوفان حوادث اے موج اب وہی تو وہی بہتا ہوا دریا ...

مزید پڑھیے

جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا

جہاں ہے مکتب ہستی سبق ہے چپ رہنا بڑا گناہ یہاں ہے الف سے بے کہنا شب فراق میں سائے سے ڈر کے کہتا ہوں اجی یہ رات ڈرانی ہے جاگتے رہنا چمن میں پھول کھلے باغ میں بہار آئی عروس دہر نے گویا پہن لیا گہنا ہماری آہ و بکا سے ہے جسم شوق قوی یہ ہاتھ بایاں ہے اپنا وہ ہاتھ ہے دہنا فغان بلبل ...

مزید پڑھیے

لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا

لطف کیا ہے بے خودی کا جب مزا جاتا رہا یوں نہ مانوں میں مگر ساغر تو سمجھاتا رہا طاق سے مینا اتارا پاؤں میں لغزش ہوئی کی نہ ساقی سے برابر آنکھ شرماتا رہا مجھ سا ہو مضبوط دل تب مے کشی کا نام لے محتسب دیکھا کیا مجبور جھلاتا رہا کیا کروں اور کس طرح اس بے قراری کا علاج یار کے کوچے میں ...

مزید پڑھیے

غم فراق مے و جام کا خیال آیا

غم فراق مے و جام کا خیال آیا سفید بال لیے سر پہ اک وبال آیا ملے گا غیر بھی ان کے گلے بہ شوق اے دل حلال کرنے مجھے عید کا ہلال آیا اگر ہے دیدۂ روشن تو آفتاب کو دیکھ ادھر عروج ہوا اور ادھر زوال آیا لٹائے دیتے ہیں ان موتیوں کو دیدۂ شوق بھر آئے اشک کہ مفلس کے ہاتھ مال آیا لگی نسیم ...

مزید پڑھیے

خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں

خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں دم اب اکتا گیا اللہ اکبر کب سے جیتے ہیں سمجھ لے قاصدوں نے کچھ تو ایسی ہی خبر دی ہے کہیں کیا تجھ سے اے ناصح کہ جس مطلب سے جیتے ہیں کسی حالت نہ ہم سے بڑھ سکے گی رات فرقت کی کہ ہم بازی سیہ بختی میں بھی اس شب سے جیتے ہیں دم اپنا گھٹ کے کب کا ...

مزید پڑھیے

نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا

نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا اک عمر سے تھی تکلیف جسے کل شب کو وہ قیدی چھوٹ گیا تھی تیری تمنا کاہش جاں اس درد سے میں دیوانہ تھا چھالا تھا دل اپنے سینے میں اے وا اسفا وہ پھوٹ گیا سب اپنی ہی اپنی دھن میں پھنسے تیرا تو نہ نکلا کام کوئی جو آیا ترے دروازے پر وہ اپنا ...

مزید پڑھیے

کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا

کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا یا رب رہے آباد یہ ویرانہ ہمارا باطن کی طرح پاک ہے خم خانہ ہمارا کیوں کر نہ اچھوتا رہے پیمانہ ہمارا جو شمع ہوا کرتی ہے روشن سر بازار اس شمع پہ گرتا نہیں پروانہ ہمارا ساقی ترا مے خانہ رہے حشر تک آباد بھر جاتا ہے کشکول گدایانہ ہمارا بہہ جائے گا ...

مزید پڑھیے

یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا

یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا کیوں اجل کیا کیا ساماں مرے مر جانے کا کیا کہوں نزع میں میں اپنی خموشی کا سبب رنج ہے وقت کے بے کار گزر جانے کا حسب معمول چڑھایا نہیں ناصح کوئی جام یہ سبب بھی ہے مرے منہ کے اتر جانے کا تجھ سے رخصت ہے مری جلد بس اے پیر مغاں منتظر ہوں فقط اس جام کے بھر ...

مزید پڑھیے

یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم

یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم ٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہم جب قیس پہاڑ اس سر سے ٹلے عید آئی تب آئی جان میں جان تا دیر عجب عالم میں رہے ہونٹوں کو ملائے جام سے ہم تھا موت کا کھٹکا جاں فرسا صد شکر کہ نکلا وہ کانٹا گر ہو نہ قیامت کا دھڑکا اب تو ہیں ...

مزید پڑھیے

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا چشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیا داغ ہو یا سوز ہو یا درد و غم لے لیا خوش ہو کے جس نے جو دیا اشک ریزی کے دھڑلے نے غبار جب ذرا بھی دل پہ دیکھا دھو دیا دل کی پروا تک نہیں اے بے خودی کیا کیا پھینکا کہاں کس کو دیا کچھ نہ کچھ اس انجمن میں حسب حال تو نے قسام ازل سب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 808 سے 4657