کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا
کیا فقط طالب دیدار تھا موسیٰ تیرا وہی شیدا تھا ترا میں نہیں شیدا تیرا دیدۂ شوق سے بے وجہ ہے پردا تیرا کس نے دیکھا نہیں ان آنکھوں سے جلوا تیرا خود نزاکت پہ نہ کیوں بوجھ ہو پردا تیرا کیا کسی آنکھ نے دیکھا نہیں جلوا تیرا مٹ گئی شورش طوفان حوادث اے موج اب وہی تو وہی بہتا ہوا دریا ...