شاعری

ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض

ہرگز کبھی کسی سے نہ رکھنا دلا غرض جب کچھ غرض نہیں تو زمانے سے کیا غرض پھیلا کے ہاتھ مفت میں ہوں گے ذلیل ہم محروم تیرے در سے پھرے گی دعا غرض دنیا میں کچھ تو روح کو اس جسم سے ہے کام ملتا ہے ورنہ کون کسی سے بلا غرض وصل و فراق و حسرت و امید سے کھلا ہم راہ ہے ہر ایک بقا کے فنا غرض اک ...

مزید پڑھیے

اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا

اب انتہا کا ترے ذکر میں اثر آیا کہ منہ سے نام لیا دل میں تو اتر آیا بہت دنوں پہ مری چشم میں نظر آیا اے اشک خیر تو ہے، تو کدھر کدھر آیا ہزار شکر کہ اس دل میں تو نظر آیا یہ نقشہ صفحۂ خالی پہ جلد اتر آیا بشر حباب کی صورت ہمیں نظر آیا بھری جو قطرہ کے اندر ہوا ابھر آیا زباں پہ آتا ہے ...

مزید پڑھیے

دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا

دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا دریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا احوال جوانی پیری میں کیا عرض کروں اک قصہ ہے وہ طرز گئی وہ وضع گئی انداز گیا اسلوب گیا لا ریب خموشی نے تیری تاثیر دکھا دی مستوں کو بے باک جو مے کش تھا ساقی اس بزم سے وہ محجوب گیا بے ...

مزید پڑھیے

تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا

تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا آنکھ والوں سے نہ دیکھا جائے گا سب طرح کی سختیاں سہہ جائے گا کیوں دلا تو بھی کبھی کام آئے گا ایک دن ایسا بھی ناصح آئے گا غم کو میں اور غم مجھے کھا جائے گا اے فلک ایسا بھی اک دن آئے گا جب کیے پر اپنے تو پچھتائے گا وصل میں دھڑکا ہے ناحق ہجر کا وہ دن ...

مزید پڑھیے

نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا

نہ جاں بازوں کا مجمع تھا نہ مشتاقوں کا میلا تھا خدا جانے کہاں مرتا تھا میں جب تو اکیلا تھا گھروندا یوں کھڑا تو کر لیا ہے آرزوؤں کا تماشا ہے جو وہ کہہ دیں کہ میں اک کھیل کھیلا تھا بہت سستے چھٹے اے موت بازار محبت میں یہ سودا وہ ہے جس میں کیا کہیں کیا کیا جھمیلا تھا اگر تقدیر میں ...

مزید پڑھیے

چست کمر کا کیا سبب تنگ قبا کی وجہ کیا

چست کمر کا کیا سبب تنگ قبا کی وجہ کیا ہم تو ہیں آپ سر بکف ہم سے ادا کی وجہ کیا خاک میں جو ملا ہو خود اس پہ ستم سے کیا حصول حسن کی یہ سرشت ہے ورنہ جفا کی وجہ کیا اپنی ہیں جیسی خصلتیں مجھ پہ بھی ہے گماں وہی یہ نہیں گر سبب تو پھر ترک وفا کی وجہ کیا مشرب عشق میں دلا کفر ہے یار سے ریا جب ...

مزید پڑھیے

مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا

مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا نہ گھبرانا خدا سب مشکلیں آسان کر دے گا خرابات جہاں میں کون ہے دل سوز ساقی سا اگر ترچھٹ بھی دینا ہے تو تجھ کو چھان کر دے گا قناعت کی بھی دولت ہو تو استغنا نہیں لازم جسے تو نفع سمجھا ہے یہی نقصان کر دے گا جگہ دل میں نہ دے شوق نموداری بری شے ...

مزید پڑھیے

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا مژدہ اے روح تجھے عشق سا دم ساز آیا نکبت فقر گئی شاہ سرافراز آیا پاس اپنے جو نیا کوئی فسوں ساز آیا ہو رہے اس کے ہمیں یاد ترا ناز آیا پیتے پیتے تری اک عمر کٹی اس پر بھی پینے والے تجھے پینے کا نہ انداز آیا دل ...

مزید پڑھیے

نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا

نہ دل اپنا نہ غم اپنا نہ کوئی غم گسار اپنا ہم اپنا جانتے ہر چیز کو ہوتا جو یار اپنا جمے کس طرح اس حیرت کدے میں اعتبار اپنا نہ دل اپنا نہ جان اپنی نہ ہم اپنے نہ یار اپنا حقیقت میں ہمیں کو جب نہیں خود اعتبار اپنا غلط سمجھی اگر سمجھی ہے تن کو جان زار اپنا کہیں ہے دام ارماں کا کہیں ...

مزید پڑھیے

لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا

لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا مے کشو شرم کہ اس پر بھی نہ پینا آیا نہ پلانا کسی مے کش کو نہ پینا آیا تجھ کو زاہد اگر آیا بھی تو کینہ آیا عمر بھر خون جگر بیٹھ کے پینا آیا آرزوؤ تمہیں مرنا ہمیں جینا آیا دل نے دیکھا مجھے اور میں نے فلک کو دیکھا بچ کے ساحل پہ اگر کوئی سفینا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 806 سے 4657