ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے
ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے ہر سوال اس کے لیے ہے ہر جواب اس کے لیے ہجر کے لمحے شماریں یا لکیریں حرف ہم ہر حساب اس کے لیے ہے ہر کتاب اس کے لیے قرب اس کا ہے ہماری واپسی کا منتظر جھیلتے ہیں ہم بھی دوری کا عذاب اس کے لیے وہ ہمارے واسطے رہتا ہے ہر دم مضطرب ہم بھی ہیں آئے ...