شاعری

ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے

ساری تعبیریں ہیں اس کی سارے خواب اس کے لیے ہر سوال اس کے لیے ہے ہر جواب اس کے لیے ہجر کے لمحے شماریں یا لکیریں حرف ہم ہر حساب اس کے لیے ہے ہر کتاب اس کے لیے قرب اس کا ہے ہماری واپسی کا منتظر جھیلتے ہیں ہم بھی دوری کا عذاب اس کے لیے وہ ہمارے واسطے رہتا ہے ہر دم مضطرب ہم بھی ہیں آئے ...

مزید پڑھیے

سر میں ایک سودا تھا بام و در بنانے کا

سر میں ایک سودا تھا بام و در بنانے کا آج تک نہیں سوچا ہم نے گھر بنانے کا یوں نہ رینگتی رہتیں کاغذوں پہ تصویریں وقت جو ملا ہوتا بال و پر بنانے کا یوں کہاں بھٹکتے ہم خواہشوں کے صحرا میں فن اگر ہمیں آتا مال و زر بنانے کا چل دیے اکیلے ہی جستجوئے منزل میں کام خاصا مشکل تھا ہم سفر ...

مزید پڑھیے

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا

بچا تھا ایک جو وہ رابطہ بھی ٹوٹ گیا خفا جو خود سے ہوئے آئنہ بھی ٹوٹ گیا فضائیں لاکھ بلائیں اڑان کیسے بھریں پروں کے ساتھ ہی جب حوصلہ بھی ٹوٹ گیا اس ایک پیڑ کے در پے تھیں آندھیاں کیا کیا کہ اس کے ٹوٹتے زور ہوا بھی ٹوٹ گیا پرندے ڈھونڈتے پھرتے ہیں پھر سے جائے اماں شجر کے ساتھ ہی ہر ...

مزید پڑھیے

اک پل بھی مرے حال سے غافل نہیں ٹھہرا

اک پل بھی مرے حال سے غافل نہیں ٹھہرا کیوں پھر وہ مرے درد میں شامل نہیں ٹھہرا حالات کے پالے ہوئے عفریت کے ہاتھوں سینے میں کبھی سانس کبھی دل نہیں ٹھہرا ہر خواہش جاں مار کے سب راحتیں تج کے جز میرے کوئی غم کے مقابل نہیں ٹھہرا جس شخص کو آتا تھا ہنر نوحہ گری کا وہ شخص بھی اب کے لب ...

مزید پڑھیے

ان بلا کی آندھیوں میں اک شجر باقی رہے

ان بلا کی آندھیوں میں اک شجر باقی رہے فاختاؤں کے لئے کوئی تو گھر باقی رہے ایک تارہ ایک دیپک ایک جگنو ہی سہی رات کی دیوار میں کوئی تو در باقی رہے چاند کی کشتی تہ دریا ہوئی تھی جس جگہ کچھ نشاں باقی رہے کوئی بھنور باقی رہے جانے والے کو کبھی بھی لوٹ کر آنا نہیں لوٹ آنے کی بہر صورت ...

مزید پڑھیے

گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر

گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر قریہ قریہ پھیل رہا ہے تنہائی کا زہر مجھ کو ڈستا رہتا ہے بس ہر دم یہی خیال ایک ہی رخ پر کیوں بہتا ہے دریا آٹھوں پہر کون سا بھولا بسرا غم تھا جو آیا ہے یاد رہ رہ کر پھر دل میں اٹھے درد کی میٹھی لہر میرا جیتے رہنا بھی تو بن گیا ایک عذاب لیکن میرا ...

مزید پڑھیے

کنج تنہائی بسائے ہجر کی لذت میں ہوں

کنج تنہائی بسائے ہجر کی لذت میں ہوں سب سے دامن جھاڑ کر بس اک تری چاہت میں ہوں کون سا سودا ہے سر میں کس کے قابو میں ہے دل ہر قدم صحراؤں میں ہے ہر گھڑی وحشت میں ہوں میں اناؤں کا تھا پروردہ تو پھر دست سوال کس طرح پھیلا کسی کے سامنے حیرت میں ہوں یہ بھی کیا بے چارگی ہے کاغذی ...

مزید پڑھیے

دیکھ کر اس کو مجھے دھچکا لگا

دیکھ کر اس کو مجھے دھچکا لگا مثل دریا تھا مگر پیاسا لگا نفرتوں کی دھند میں لپٹا لگا آئنے کا نقش بھی جھوٹا لگا سخت جاں تھے بچ گئے اس بار بھی زخم اب کے بھی ہمیں گہرا لگا پورے قد سے ایستادہ جب ہوئے شہر کا ہر شخص پھر بونا لگا کس کی چھاؤں سائباں کرتے شفیقؔ ہر شجر پر خوف کا سایہ لگا

مزید پڑھیے

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا

تیز آندھی نے فقط اک سائباں رہنے دیا ہم زمیں زادوں کے سر پر آسماں رہنے دیا لفظ وہ برتے کہ ساری بات مبہم ہو گئی اک پردہ تھا کہ حائل درمیاں رہنے دیا آنکھ بستی نے سبھی موسم مسافر کر دیے ایک اشکوں کی روانی کا سماں رہنے دیا خون کی سرخی اندھیروں میں اجالا بن گئی ہم نے ہر صورت چراغوں ...

مزید پڑھیے

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے

بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے کیسا تھا وہاں گرم دوپہروں کا جھلسنا برسات رتوں کا یہ نگر کیسا لگا ہے دن میں بھی دہل جاتا ہوں آباد گھروں سے سایا سا مرے ساتھ یہ ڈر کیسا لگا ہے ہونٹوں پہ لرزتی ہوئی خاموش صدا کا آنکھوں کے دریچوں سے گزر کیسا لگا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 799 سے 4657