شاعری

یاد نہیں ہے کب اترے تھے خوف سمندر میں

یاد نہیں ہے کب اترے تھے خوف سمندر میں لیکن صدیوں سے ہیں ڈیرے خوف سمندر میں انجانی طاقت کے جتنے روپ ہیں دنیا میں ہم سے سارے ملنے آئے خوف سمندر میں زرد رتوں کے پھول کھلے ہیں ہر اک چہرے پر سارے چہرے ایک سے چہرے خوف سمندر میں مستقبل کی سوچ میں گم ہیں نجم و مہر و ماہ ہر اک شے ہی ڈوبی ...

مزید پڑھیے

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے

بے نام دیاروں سے ہم لوگ بھی ہو آئے کچھ درد تھے چن لائے کچھ اشک تھے رو آئے کچھ پاس نہ تھا اپنے بس آس لیے گھومے اک عمر کی پونجی تھی سو اس کو بھی کھو آئے توہین انا بھی کی تحسین ریا بھی کی یہ بوجھ بھی ڈھونا تھا یہ بوجھ بھی ڈھو آئے اک کار نمو برسوں کرتے رہے بن سوچے ہم بیج محبت کے ...

مزید پڑھیے

جاری تھی ابھی دعا ہماری

جاری تھی ابھی دعا ہماری اور ٹوٹ گئی صدا ہماری یاں راکھ سے بات چل رہی ہے تو شعلگی پر نہ جا ہماری جھونکا تھا گریز کے نشے میں دیوار گرا گیا ہماری دنیا میں سمٹ کے رہ گئے ہیں بس ہو چکی انتہا ہماری میں اور الجھ گیا ہوں تجھ میں زنجیر کھلی ہے کیا ہماری آ دیکھ جو ہم دکھا رہے ہیں آ بانٹ ...

مزید پڑھیے

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا

زمیں کا آخری منظر دکھائی دینے لگا میں دیکھتا ہوا پتھر دکھائی دینے لگا وہ سامنے تھا تو کم کم دکھائی دیتا تھا چلا گیا تو برابر دکھائی دینے لگا نشان ہجر بھی ہے وصل کی نشانیوں میں کہاں کا زخم کہاں پر دکھائی دینے لگا وہ اس طرح سے مجھے دیکھتا ہوا گزرا میں اپنے آپ کو بہتر دکھائی دینے ...

مزید پڑھیے

رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ

رہا شامل جو میرے رتجگوں میں کون تھا وہ جو تھا تسکین جاں تنہائیوں میں کون تھا وہ مری آواز جیسی اور بھی آواز تھی اک یقیناً تھا کوئی تو پربتوں میں کون تھا وہ جو میرے ساتھ پہنچا منزلوں تک کون ہے یہ جسے میں چھوڑ آیا راستوں میں کون تھا وہ بہت ملتا تھا مجھ سے وار کرنے کا طریقہ جو اک ...

مزید پڑھیے

سوال کرتا نہیں اور جواب اس کی طلب

سوال کرتا نہیں اور جواب اس کی طلب کہ ان کہی کا بھی دہرہ عذاب اس کی طلب زمین شور سے کونپل نمو کی مانگتا ہے نہال خشک سے تازہ گلاب اس کی طلب وہ آنکھ کھلنے کا بھی انتظار کرتا نہیں درون خواب ہی تعبیر خواب اس کی طلب وصال رت کا ہر اک لمحہ اس کے نام کیا مگر ہے گزرے دنوں کا حساب اس کی ...

مزید پڑھیے

ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا

ہم زمین زادوں کو آسماں بنا جانا پہلے خاک کر دینا اور پھر اڑا جانا جسم سے جدا رہنا روح میں سما جانا کوئی آپ سے سیکھے جان پر بنا جانا بے شعور ساتھی نے ساحلوں کے باسی نے ہم کو سر پھرا سمجھا دشت کی ہوا جانا اور گر قریب آتے نقش اور دھندلاتے قربتوں کی دوری کو تم نے فاصلہ جانا بے ضمیر ...

مزید پڑھیے

خلق خدا ہے شاہ کی مخبر لگی ہوئی

خلق خدا ہے شاہ کی مخبر لگی ہوئی خاموشیوں کی بھیڑ ہے گھر گھر لگی ہوئی سنگ و سگ و صدا سبھی پیچھے پڑے ہوئے اک دوڑ سی ہے ہم میں برابر لگی ہوئی صد اہتمام گریہ بھی آیا نہ اپنے کام بجھتی نہیں ہے آگ سی اندر لگی ہوئی آؤ کہ مطمئن کریں اپنے ضمیر کو مہر سکوت توڑ دیں لب پر لگی ہوئی لازم ہے ...

مزید پڑھیے

وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے

وہ جن کی چھاؤں میں پلے بڑے ہوئے ادھر ادھر پڑے ہیں سب کٹے ہوئے ہزیمتوں کے کرب کی علامتیں چراغ طاق طاق ہیں بجھے ہوئے تمام تیر دشمنوں سے جا ملے کمان دار کیا کریں ڈٹے ہوئے وصال رت میں ہجر کی حکایتیں اداس کر گئی ہیں دل کھلے ہوئے گھروں کی رونقیں وہی جو تھیں کبھی مگر بھلا دیے گئے گئے ...

مزید پڑھیے

ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے

ٹک کے بیٹھے کہاں بیزار طبیعت ہم سے چھین ہی لے نہ کوئی آ کے یہ نعمت ہم سے بر سر عام یہ کہتے ہیں کہ ہم جھوٹے ہیں اس بھرے شہر میں زندہ ہے صداقت ہم سے ہم جو مظلوم ہیں اک طرح سے ظالم ہیں ہم ہر ستم گار کے بازو میں ہے طاقت ہم سے دیکھ پائے نہ تو آنکھیں ہی بجھا لیں ہم نے اور کیا چاہتا ہے لفظ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 798 سے 4657