شاعری

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے

موجۂ خون پریشان کہاں جاتا ہے مجھ سے آگے مرا طوفان کہاں جاتا ہے چائے کی پیالی میں تصویر وہی ہے کہ جو تھی یوں چلے جانے سے مہمان کہاں جاتا ہے میں تو جاتا ہوں بیابان نظر کے اس پار میرے ہمراہ بیابان کہاں جاتا ہے بات یونہی تو نہیں کرتا ہوں میں رک رک کر کیا بتاؤں کہ مرا دھیان کہاں ...

مزید پڑھیے

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں

نقش تھا اور نام تھا ہی نہیں یعنی میں اتنا عام تھا ہی نہیں خواب سے کام تھا وہاں کہ جہاں خواب کا کوئی کام تھا ہی نہیں سب خبر کرنے والوں پر افسوس یہ خبر کا مقام تھا ہی نہیں تہ بہ تہ انتقام تھا سر خاک انہدام انہدام تھا ہی نہیں ہم نے توہین کی قیام کیا اس سفر میں قیام تھا ہی نہیں اب ...

مزید پڑھیے

بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم

بولتے بولتے جب صرف زباں رہ گئے ہم تب اشارے سے بتایا کہ کہاں رہ گئے ہم ہمیں اتنی بڑی دنیا کا پتہ تھوڑی تھا جہاں ہم تم ہوا کرتے تھے وہاں رہ گئے ہم ہم مکاں بھی تھے مکیں بھی تھے کہ بازار تھا گرم پھر خسارہ ہوا اور صرف مکاں رہ گئے ہم دیر تک خالی مکاں خالی نہیں چھوڑتے ہیں آپ تب تھے ہی ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا

کچھ نہیں لکھا ہوا پھر بھی پڑھا جاتا ہے کیا ایسی ناموجود کو دنیا کہا جاتا ہے کیا ہم سخن تیرے مخاطب کا پتا کیسے کروں بولنا تھا کیا تجھے اور بولتا جاتا ہے کیا ایک دروازہ اور اندر دور تک کوئی نہیں آتے جاتے جھانک لینے سے ترا جاتا ہے کیا اس اندھیرے میں پڑے اک شخص کو دیکھا کبھی پاؤں ...

مزید پڑھیے

غبار شام وصل کا بھی چھٹ گیا

غبار شام وصل کا بھی چھٹ گیا یہ آخری حجاب تھا جو ہٹ گیا حضوری و غیاب میں پڑا نہیں مجھے پلٹنا آتا تھا پلٹ گیا تری گلی کا اپنا ایک وقت تھا اسی میں میرا سارا وقت کٹ گیا خیال خام تھا سو چیخ اٹھا ہوں پھر مرا خیال تھا کہ میں نمٹ گیا ہمارے انہماک کا اڑا مذاق وہی ہوا نہ پھر ورق الٹ ...

مزید پڑھیے

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا

پہلے تو مٹی کا اور پانی کا اندازہ ہوا پھر کہیں اپنی پریشانی کا اندازہ ہوا اے محبت تیرے دکھ سے دوستی آساں نہ تھی تجھ سا ہو کر تیری ویرانی کا اندازہ ہوا عمر بھر ہم نے فنا کے تجربے خود پر کئے عمر بھر میں عالم فانی کا اندازہ ہوا اک زمانے تک بدن بن خواب بن آداب تھے پھر اچانک اپنی ...

مزید پڑھیے

چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر

چار سمتوں میں نظر رکھتا ہوں میں چاروں پر تیر کب لوٹ کے آئیں گے کماں داروں پر صبح اٹھے تو قدم کوئلہ تھے اور ہم تھے نیند میں چلتے رہے ہجر کے انگاروں پر داستاں میں جہاں اک دائمی دن ہوتا تھا اب وہاں شام اتر آتی ہے کرداروں پر نقش عبرت کا سب اسباب اٹھایا خود ہی ہم نے یہ کام بھی چھوڑا ...

مزید پڑھیے

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں تھی کبھی ہوتی تھی مٹی اور کبھی ہوتی نہیں تھی بہت پہلے سے افسردہ چلے آتے ہیں ہم تو بہت پہلے کہ جب افسردگی ہوتی نہیں تھی ہمیں ان حالوں ہونا بھی کوئی آسان تھا کیا محبت ایک تھی اور ایک بھی ہوتی نہیں تھی دیا پہنچا نہیں تھا آگ پہنچی تھی گھروں تک پھر ...

مزید پڑھیے

اوپر جو پرند گا رہا ہے

اوپر جو پرند گا رہا ہے نیچے کا مذاق اڑا رہا ہے مٹی کا بنایا نقش اس نے اب نقش کا کیا بنا رہا ہے گھر بھر کو یہ طاقچہ مبارک خود چل کے چراغ آ رہا ہے اب دوری حضوری کیا ہے صاحب بس جسم کو جسم کھا رہا ہے یہ وقت کا خاص آدمی تھا بے وقت جو گھر کو جا رہا ہے اب میں نہیں راہ میں تو رستہ میری ...

مزید پڑھیے

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے

رکوں تو رکتا ہے چلنے پہ ساتھ چلتا ہے مگر گرفت میں آتا نہیں کہ سایہ ہے جھلس رہے ہیں بدن دھوپ کی تمازت سے کہ رات بھر بڑے زوروں کا ابر برسا ہے ابھی تو کل کی تھکن جسم سے نہیں نکلی ستم کہ آج کا دن بھی پہاڑ جیسا ہے سمجھ رہے تھے جسے ایک مہرباں بادل وہ آگ بن کے ہری کھیتیوں پہ برسا ہے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 797 سے 4657