شاعری

کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا

کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا بکھر رہی ہے مری ذات اس سے کہہ دینا ہوائے موسم غم اس کے شہر جائے تو مرے دکھوں کی کوئی بات اس سے کہہ دینا یہ وحشتیں یہ اداسی یہ رتجگوں کے عذاب اسی کی ہیں یہ عنایات اس سے کہہ دینا وہ دل کی بازی جہاں مجھ سے جیتنا چاہے میں مان لوں گا وہیں مات اس سے ...

مزید پڑھیے

یہ کار بے ثمراں مجھ سے ہونے والا نہیں

یہ کار بے ثمراں مجھ سے ہونے والا نہیں میں زندگی کو بہت دیر ڈھونے والا نہیں میں سطح آب پہ اک تیرتا ہوا لاشہ مجھے کوئی بھی سمندر ڈبونے والا نہیں بڑے جتن سے ملا ہے یہ اپنا آپ مجھے میں اب کسی کے لیے خود کو کھونے والا نہیں فصیل شہر ترا آخری محافظ ہوں یہ شہر جاگے نہ جاگے میں سونے والا ...

مزید پڑھیے

بھٹک رہے ہیں غم آگہی کے مارے ہوئے

بھٹک رہے ہیں غم آگہی کے مارے ہوئے ہم اپنی ذات کو پاتال میں اتارے ہوئے صدائے صور سرافیل کی رسن بستہ پلٹ کے جائیں گے اک روز ہم پکارے ہوئے شکست ذات شکست حیات بھی ہوگی کہ جی نہ پائیں گے ہم حوصلوں کو ہارے ہوئے اے میرے آئینہ رو اب کہیں دکھائی دے اک عمر بیت گئی خال و خد سنوارے ...

مزید پڑھیے

سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے

سفر کا ایک نیا سلسلہ بنانا ہے اب آسمان تلک راستہ بنانا ہے تلاشتے ہیں ابھی ہم سفر بھی کھوئے ہوئے کہ منزلوں سے ادھر راستہ بنانا ہے سمیٹنا ہے ابھی حرف حرف حسن ترا غزل کو اپنی ترا آئینہ بنانا ہے مجھے یہ ضد ہے کبھی چاند کو اسیر کروں سو اب کے جھیل میں اک دائرہ بنانا ہے سکوت شام الم ...

مزید پڑھیے

کسی نے دیکھ لیا تھا جو ساتھ چلتے ہوئے

کسی نے دیکھ لیا تھا جو ساتھ چلتے ہوئے پہنچ گئی ہے کہاں جانے بات چلتے ہوئے سفر سفر ہے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا سر سحر چلی آئی ہے رات چلتے ہوئے سنا ہے تم بھی اسی دشت غم سے گزرے ہو سو ہم نے کی ہے بڑی احتیاط چلتے ہوئے ہم اپنی اکھڑی ہوئی سانسوں کو بحال کریں کہیں رکھے تو سہی کائنات چلتے ...

مزید پڑھیے

وہ ایک خواب کہ آنکھوں میں جگمگا رہا ہے

وہ ایک خواب کہ آنکھوں میں جگمگا رہا ہے چراغ بن کے مجھے روشنی دکھا رہا ہے وہ صرف حق جو مرے لب سے آشکار ہوا سکوت دیر میں اک عمر گونجتا رہا ہے مرے سخن میں جو اک لو سی تھرتھراتی ہے چراغ شب سے مرا بھی مکالمہ رہا ہے مرے لیے یہ خد و خال کی حقیقت کیا وہ خاک ہوں کہ جسے چاک پھر بلا رہا ...

مزید پڑھیے

یہ زرد پھول یہ کاغذ پہ حرف گیلے سے

یہ زرد پھول یہ کاغذ پہ حرف گیلے سے تمہاری یاد بھی آئی ہزار حیلے سے بدن کا لمس ہوا کو بنا گیا خوشبو نظر کے سحر سے منظر ہوئے نشیلے سے یہ زندگی بھی فقط ریت کا سمندر ہے کبھی نگاہ جو ڈالو فنا کے ٹیلے سے یہ شاعری مجھے شہبازؔ یوں بھی پیاری ہے کہ میرا خود سے تعلق ہے اس وسیلے سے

مزید پڑھیے

اک ایسا وقت بھی صحرا میں آنے والا ہے

اک ایسا وقت بھی صحرا میں آنے والا ہے کہ راستہ یہاں دریا بنانے والا ہے وہ تیرگی ہے کہ چھٹتی نہیں کسی صورت چراغ اب کے لہو سے جلانے والا ہے تمہارے ہاتھ سے ترشا ہوا وجود ہوں میں تمہی بتاؤ یہ رشتہ بھلانے والا ہے ابھی خیال ترے لمس تک نہیں پہنچا ابھی کچھ اور یہ منظر بنانے والا ...

مزید پڑھیے

وفا کا شوق یہ کس انتہا میں لے آیا

وفا کا شوق یہ کس انتہا میں لے آیا کچھ اور داغ میں اپنی قبا میں لے آیا مرے مزاج مرے حوصلے کی بات نہ کر میں خود چراغ جلا کر ہوا میں لے آیا دھنک لباس گھٹا زلف دھوپ دھوپ بدن تمہارا ملنا مجھے کس فضا میں لے آیا وہ ایک اشک جسے رائیگاں سمجھتے تھے قبولیت کا شرف وہ دعا میں لے آیا فلک کو ...

مزید پڑھیے

ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ

ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ جس طرح جسم کو سانسوں کی حرارت زندہ شوق کی راہ میں اک ایسا بھی پل آتا ہے جس میں ہو جاتی ہے صدیوں کی ریاضت زندہ روز اک خوف کی آواز پہ ہم اٹھتے ہیں روز ہوتی ہے دل و جاں میں قیامت زندہ اب بھی انجان زمینوں کی کشش کھینچتی ہے اب بھی شاید ہے لہو میں کہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 775 سے 4657