کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا
کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا بکھر رہی ہے مری ذات اس سے کہہ دینا ہوائے موسم غم اس کے شہر جائے تو مرے دکھوں کی کوئی بات اس سے کہہ دینا یہ وحشتیں یہ اداسی یہ رتجگوں کے عذاب اسی کی ہیں یہ عنایات اس سے کہہ دینا وہ دل کی بازی جہاں مجھ سے جیتنا چاہے میں مان لوں گا وہیں مات اس سے ...