شاعری

شکل جانانہ جا بجا ہیں ہم

شکل جانانہ جا بجا ہیں ہم کہیں ناز اور کہیں ادا ہیں ہم کہیں عیسیٰ ہیں ہم کہیں مردہ کہیں زندہ کہیں فنا ہیں ہم کہیں اعلیٰ ہیں اور کہیں ادنیٰ کہیں سلطاں کہیں گدا ہیں ہم ہیں کہیں عاشق جگر خستہ کہیں معشوق دل ربا ہیں ہم کہیں قطرہ ہیں اور کہیں دریا کہیں کشتی کے ناخدا ہیں ہم ہیں کہیں ...

مزید پڑھیے

کوئی دم تھمتا نہیں باران اشک

کوئی دم تھمتا نہیں باران اشک الاماں از چشم پر طوفان اشک کس لب میگوں کی خواہش ہے مدام جوش زن ہے یہ مے جوشان اشک شور نالوں کا مرے سن دم بدم سہمگیں ہیں یک قلم طفلان اشک کشتیٔ گردوں یقیں ہے ڈوب جائے بڑھ چلا ہے بحر بے پایان اشک شوق میں اس سلک دنداں کی مدام ہیں نکلتے یہ در غلطان ...

مزید پڑھیے

خواب سے دل لگی نہ کر لینا

خواب سے دل لگی نہ کر لینا نیند سے دشمنی نہ کر لینا آج سے زندگی تمہاری ہے تم مگر خود کشی نہ کر لینا درد بڑھ جائے تو دوا لینا زخم سے دوستی نہ کر لینا وصل کی شب بھلے ہی کالی ہو ہجر میں روشنی نہ کر لینا زلزلے بھی اداس ہوتے ہیں دل کی بستی گھنی نہ کر لینا ساتھ پڑھتی ہو ٹھیک ہے ...

مزید پڑھیے

اس نے مجھ سے تو کچھ کہا ہی نہیں

اس نے مجھ سے تو کچھ کہا ہی نہیں میرا خود سے تو رابطہ ہی نہیں قضا گر روز دست بدلے ہے مجھ کو ایجاد تو کیا ہی نہیں اپنے پیچھے میں چھپ کے چلتا ہوں میرا سایہ مجھے ملا ہی نہیں کتنی مشکل کے بعد ٹوٹا ہے اک رشتہ کبھی جو تھا ہی نہیں بعد مرنے کے گھر نصیب ہوا زندگی نے تو کچھ دیا ہی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوں

بہ چشم حقیقت جہاں دیکھتا ہوں میں جاناں کا جلوہ عیاں دیکھتا ہوں یہ جو کچھ کہ ظاہر ہے سب نور حق ہے میں حق دیکھتا ہوں جہاں دیکھتا ہوں بہر رنگ و ہر شے و ہر جا و ہر سو تجھی کو میں جلوہ کناں دیکھتا ہوں ہر اک قطرۂ بحر کثرت میں یارو میں دریائے وحدت رواں دیکھتا ہوں جہاں دیکھتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیا

مجھے ساقیٔ چشم یار نے عجب ایک جام پلا دیا کہ نشہ نے جس کے غم جہاں مرے دل سے صاف بھلا دیا کروں کیا بیان میں وصف اب مئے ناب عشق کا دوستو کہ خودی کی قید سے یک قلم بخدا کہ مجھ کو چھڑا دیا اثر اس کی چشم کرم کا اب کروں کس زبان سے میں بیاں کہ بہ ہر مکان و بہ ہر طرف مجھے حق کا جلوہ دکھا ...

مزید پڑھیے

عاشق زار ہوں جز عشق مجھے کام نہیں

عاشق زار ہوں جز عشق مجھے کام نہیں طالب کفر نہیں تابع اسلام نہیں غم نہیں کچھ بھی خرابی سے ہے ہم مستوں کو گردش جام ہے یہ گردش ایام نہیں قتل عاشق کے لیے ایک ادا بس ہے تری بسمل عشق کو کچھ حاجت صمصام نہیں کیا ہوا ابر بھی ہے مے بھی ہے ساغر بھی ہے ہے یہ سب ہیچ اگر ساقیٔ گلفام نہیں دیکھ ...

مزید پڑھیے

لشکر عشق آ پڑا ہے ملک دل پر ٹوٹ ٹوٹ

لشکر عشق آ پڑا ہے ملک دل پر ٹوٹ ٹوٹ کان میں آتی نہیں ہے جز صدائے لوٹ لوٹ مل نہیں سکتا خدا ہے اس خودی کے ساتھ میں اے دل اس قید خودی سے جلد تر اب چھوٹ چھوٹ برق ساں ہنسنا ترا یاد آوے ہے جس دم مجھے ابر کی مانند روتا ہوں میں یکسر پھوٹ پھوٹ ہے صدائے خندۂ گل خار اس کے کان میں اس لئے کہتا ...

مزید پڑھیے

ہے فنا بسم اللہ دیوان عشق

ہے فنا بسم اللہ دیوان عشق آفرینہا بر سبق خوانان عشق زہرۂ دوزخ ہے آگے اس کے آب الامان از آتش سوزان عشق ہے رہا قید غم کونین سے پائے تا سر قیدیٔ زندان عشق تنگ رکھتا ہے دوا کے نام سے مبتلائے درد بے درمان عشق خون دل پیتا ہے اور ہے جانتا نعمت عظمی اسے مہمان عشق غور کر دیکھا تو ہفت ...

مزید پڑھیے

اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگ

اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگ شادی و غم ہیں آگے مرے دونوں ایک رنگ جب سے ہوا ہوں بادۂ توحید سے میں مست اٹھتی ہے دل سے نغمۂ منصور کی امنگ دل اندرون سینہ مگر ہو گیا ہے خون نکلے ہیں میری آنکھوں سے جو اشک سرخ رنگ پہنچے ہے تیر آہ مرا عرش کے پرے جب سے لگا ہے دل میں مرے عشق کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 770 سے 4657